پاک افغان امن مذاکرات کی کامیابی میں اصل رکاوٹ کون؟

ٹی ٹی پی کو پٹا ڈالنے سے انکار کے بعد چین کی ثالثی میں ہونے والے ہاک افغان مذاکرات کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ اگرچہ چین میں مذاکرات کے آغاز کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان وقتی جنگ بندی برقرار ہے تاہم افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی میں ہچکچاہٹ نے نہ صرف دونوں ممالک میں باہمی اعتماد کی فضا کو متاثر کیا ہے بلکہ مذاکرات کے ذریعے قائم ہونے والے عارضی جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے کیونکہ پاکستان کا مؤقف مسلسل یہی رہا ہے کہ سرحد پار دہشتگردی کا خاتمہ کیے بغیر افغانستان سے کسی بھی قسم کی پیشرفت ممکن نہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر افغانستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کو قابو کرنے کی واضح اور عملی یقین دہانی نہ کروائی گئی تو آنے والے دنوں میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف سرحدی جھڑپوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کی کوششیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ ایسے حالات میں مذاکرات کا تسلسل برقرار رکھنا تو ممکن ہے، مگر ان کے ذریعے دیرپا امن کا حصول ایک مشکل ہدف دکھائی دیتا ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران پاک افغان رابطوں میں بہتری آئی ہے اور بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، تاہم ابھی تک کوئی ایسا فیصلہ سامنے نہیں آیا جو اس دیرینہ تنازع کو مکمل طور پر ختم کر سکے۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر کارروائی کرے، لیکن یہی نکتہ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی بن چکا ہے کیونکہ پاکستان مسلسل یہ مؤقف پیش کرتا آ رہا ہے کہ ملک میں ہونے والی دہشتگردی کی کارروائیوں کے پس پردہ عناصر افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ شواہد کے مطابق ٹی ٹی پی کے جنگجو افغانستان کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں اور وہیں سے اپنی کارروائیاں منظم کرتے ہیں۔ دوسری جانب افغان طالبان کی عبوری حکومت اس معاملے پر مکمل یکسو نظر نہیں آتی،کچھ اراکین پاکستان دشمن ٹی ٹی پی کو اسلام اور پاکستان دشمن سمجھتی ہے جبکہ کچھ افغان حکام کے بقول ٹی ٹی پی سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی ٹی ٹی پی افغان حکام کی محفوظ پناہ گاہ میں موجود ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے خلاف حقیقت ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی سے انکار کی وجہ سے جہاں دونوں ممالک میں اعتماد سازی کو زد پہنچی ہے وہیں مذاکراتی عمل سست روی کا شکار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق افغان طالبان خود بھی ٹی ٹی پی کے معاملے پر منقسم ہیں۔ افغان طالبان کے ایک دھڑے کی سوچ یہ ہے کہ ٹی ٹی پی افغان طالبان کی ایک نظریاتی اور جہادی اتحادی ہے جس کی حمایت جاری رہنی چاہیے، جبکہ دوسرے گروپ کی رائے یہ ہے کہ ایک متنازع تنظیم کی وجہ سے ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرنے چاہییں بلکہ علاقائی استحکام اور سفارتی تعلقات کو ترجیح دیتے ہوئے ٹی ٹی پی کو لگام ڈالنی چاہیے تاکہ وہ ہمسایہ ممالک میں تحریب کاری کرنے سے باز رہے۔۔
خیال رہے کہ پاک افغان کشیدگی کی وجہ سے اکتوبر 2025 سے دونوں ممالک کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہیں بند ہیں، جس کے نتیجے میں تجارت، آمد و رفت اور عوامی روابط شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ اس دوران سرحدی جھڑپیں اور کشیدگی میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا، جس نے صورتحال کو مزید خراب کیا۔ اگرچہ رمضان اور عید کے موقع پر عارضی جنگ بندی نے وقتی سکون ضرور فراہم کیا، لیکن افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خلاف موثر کارروائی سے انکار کی وجہ سے پاک افغان مذاکراتی عمل اور جنگ بندی دیرپا امن میں تبدیل نہیں ہو سکی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور سرحد پار حملوں کے بعد پاکستان نے افغان حکام کے سامنے شواہد پیش کیے ہیں۔ ان شواہد میں یہ مؤقف شامل ہے کہ پاکستان میں ہونے والی بعض دہشتگرد کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کی جا رہی ہے۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان کے اندر موجود ہے اور وہاں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ ان کے لیے افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی اور طالبان رجیم کی جانب سے ان دہشتگردوں کی پشت پناہی بھی کی جا رہی ہے۔ مبصرین کے بقول پاکستان کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ افغان طالبان کی عبوری حکومت دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی ختم کرے اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی یقینی بنائے اور سرحد پار حملوں میں ملوث عناصر کو افغانستان میں حاصل محفوظ ٹھکانوں کو ختم کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے واضح طور پر افغانستان کو آگاہ کر دیا ہے کہ افغانستان سے سرحد پار دہشتگردی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر کسی بھی حملے یا سرگرمی کے تانے بانے افغانستان سے ملے تو ملوث شرپسندوں کے خاتے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
تاہم بعض دیگر مبصرین کے بقول عالمی سطح پر چین اور ترکیہ جیسے ممالک پاک افغان تنازع کے حل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کے سفارتی کردار نے بھی پاک افغان قیام امن کی اہمیت کو مزید بڑھادیا ہے، جس کے اثرات اب افغانستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب کچھ اشارے مل رہے ہیں کہ افغان حکومت آنے والے دنوں میں پاکستان کو بعض معاملات پر تحریری یقین دہانیاں دینے کے لیے آمادگی ظاہر کر سکتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاک افغان مذاکرات کا اگلا دور جلد متوقع ہے، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندے شریک ہونگے۔ جس کے بعد مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ممکن ہے تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ جب تک افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف سخت ترین کارروائی کی یقین دہانی نہیں کرواتے اس وقت تک پاک افغان مذاکرات محض بیانات اور پیشرفت کے دعوؤں تک محدود رہیں گے۔ ایسے میں دونوں ممالک میں مکمل اعتماد کی فضا قائم ہونا بہت مشکل ہے،
