توانائی کے گردشی قرضے سے نمٹنا تاریخی کامیابی ہے، وزیراعظم

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کے مسئلے کو حل کرنے کو ایک "اجتماعی کاوش کا نتیجہ” اور "تاریخی کامیابی” قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے گردشی قرضے جیسے پیچیدہ اور مالیاتی طور پر تباہ کن مسئلے پر ٹھوس پیش رفت کی ہے۔

نیویارک سے ویڈیو لنک کے ذریعے گردشی قرضے کے خاتمے سے متعلق منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ قرضہ مسلسل بڑھ رہا تھا اور قومی وسائل کو چاٹ رہا تھا۔ ان کے مطابق:

"یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہے کہ گردشی قرضے کے مسئلے کو کامیابی سے نمٹایا گیا۔”

انہوں نے وزیر توانائی کی زیر قیادت ٹاسک فورس، بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود، اور گورنر اسٹیٹ بینک کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز (نجی بجلی گھروں) کے ساتھ کامیاب مذاکرات اس منصوبے کی کامیابی کی بنیاد بنے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اس معاملے میں پسِ پردہ بھرپور تعاون فراہم کیا، جسے وہ کامیابی کا ایک اہم عنصر قرار دیتے ہیں۔

شہباز شریف نے اپنے خطاب میں بتایا کہ نیویارک میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات ہوئی، جس میں عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کی معاشی بہتری کو سراہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر یہی رفتار اور عزم برقرار رہا تو کامیابی پاکستان کے قدم چومے گی، اور اس کامیابی کا کریڈٹ "ٹیم پاکستان” کو جاتا ہے۔

انہوں نے آئندہ مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈسکوز (ڈسٹری بیوشن کمپنیوں) کی نجکاری ایجنڈے میں شامل ہے، اور لائن لاسز جیسے بڑے مسائل کے حل کے لیے پُراعتماد اور مربوط حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھا جائے گا۔

اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ گزشتہ ایک سال سے تیاری کے مراحل میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ:

گردشی قرضے کے خاتمے کا منصوبہ توانائی کے شعبے میں ایک "سنگ میل” ہے۔

اس سے مالیاتی بوجھ کم ہوگا اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔

آئندہ مرحلے میں توانائی کے شعبے پر عائد ٹیکسوں میں کمی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

Back to top button