ہڑتال کرنےوالے پی آئی اے انجینئرزکونوکری سے نکالنےکافیصلہ

قومی ائیر لائن پی آئی اے کی انتظامیہ اور ایئرکرافٹ انجینیئرز کے مابین جاری تنازع شدت اختیار کرگیا۔ قومی ایئر لائن اور انجینیئروں کے درمیان تنازعے کی وجہ سے اب تک پی آئی اے کی متعدد پروازیں متاثر اور منسوخ ہو چکی ہیں۔ ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر طیاروں کی کلیئرنس نہ ہونے کے باعث عمرہ زائرین سمیت بین الاقوامی پروازوں کی آمدورفت بھی تعطل کا شکار ہے۔ جس سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم اب انجینیئرز کی جانب سے مطالبات کی منظوری تک کام کرنے سے صاف انکار کے بعد قومی ائیر لائن کی انتظامیہ نے ڈیوٹی پر واپس نہ آنے والے ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ دیگر ائیرلائننز سے متبادل انجینئرنگ کی خدمات حاصل کرکے فلائٹ آپریشن بحال کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پی آئی اے کے ایئرکرافٹ انجینیئرز طویل عرصے سے تنخواہوں میں اضافے، مراعات کی بحالی، اور پیشہ ورانہ تحفظ کے اقدامات سمیت مختلف مطالبات کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ انجینیئرز کا مؤقف ہے کہ ان کے کام کی نوعیت انتہائی حساس ہے، اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تنخواہیں اور سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ان کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے جبکہ عالمی معیار کے مطابق حفاظتی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے کئی ملازمین جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس لئے جب تک حکومت ان کے مطالبات پوری نہیں کرتی وہ واپس ڈیوٹیوں پر نہیں جائیں گے۔ دوسری جانب، پی آئی اے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ادارہ پہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔ موجودہ حالات میں اضافی مالی بوجھ اٹھانا ممکن نہیں۔ انجینئرز مطالبات بارے بات چیت کیلئے تیار ہیں تاہم ان کے کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ انجینیئرز کی ہڑتال کی وجہ سے پروازوں کی بحالی اور دیکھ بھال کا عمل متاثر ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں قومی ایئرلائن کے آپریشنز خطرے میں پڑ چکے ہیں۔ اسی لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ جو ملازمین ڈیوٹی پر واپس نہیں آئیں گے، ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی، جس میں برطرفی بھی شامل ہے۔ ترجمان کے مطابق انجینئرنگ گروپ کی سازش ناکام ہوگئی ہے کیونکہ پی آئی اے کا متبادل ذرائع سے فلائٹ آپریشن بحال ہوگیا ہے۔ تمام مسافروں کو متبادل پروازوں کی پیشکش کر دی گئی ہے، پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن بہت جلد معمول پر آ جائیگا۔ پی آئی اے انتظامیہ کے مطابق انجینئرز کی احتجاجی تحریک کا اصل مقصد پی آئی اے کی نجکاری کو سبوتاژ کرنا ہے، پی آئی اے میں لازمی سروسز ایکٹ نافذ ہے، کام چھوڑنا قانونی طور پر جرم ہے۔ اس لئے ڈیوٹی پر واپس نہ آنے والے ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت پاکستان میں مقیم افغانوں کے ساتھ کیا کرنے والی ہے؟
تاہم دوسری جانب صدر ایئرکرافٹس انجینیئرز ایسوسی ایشن علی جدون کا کہنا ہے کہ پی آئی اے انتطامیہ عملہ پورا نہیں کر رہی، انجینیئرز کو سویپر اور ٹیکنیشنز کی جگہ بھی خود کام کرنا پڑ رہا ہے۔ پرزے بھی نئے دستیاب نہیں جس سے ہمارے کئی انجینیئرز ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ہمارے ساتھ انتظامیہ کا رویہ بھی بہت سخت ہے، مسائل حل کرنے کی بجائے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ہم نے تنگ آ کر صرف مسافروں کی زندگیاں بچانے کے لیے کام بند کر رکھا ہے۔‘ علی جدون کے بقول، ’ملک بھر میں ایئرکرافٹ انجینیئرز نے کام چھوڑ رکھا ہے۔ ہمیں سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں نہ ہی ماتحت عملہ دیا جاتا ہے۔ ٹیکنیشن اور سویپر بڑی تعداد میں نوکری چھوڑ چکے ہیں، نئی بھرتی نہیں کی گئی۔ ہمارا ایک ساتھی اسلام آباد ایئر پورٹ پر کام کے دباؤ کی وجہ سے جان سے چلا گیا، کئی بیمار پڑے ہیں۔ بین الاقوامی فلائٹس میں اضافہ کیا جا رہا ہے لیکن ہمیں نہ پرزے فراہم کیے جا رہے ہیں اور نہ ہی عالمی معیار کے اوزار فراہم کیے گئے۔ جہازوں کی کلیئرنس ہم نے دینی ہے اور جب کوئی خرابی آئے تو ہمارے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔‘ علی کے بقول، ’ہم تو خود چاہتے ہیں پی آئی اے کی نجکاری کل کی بجائے آج ہو جائے، کوئی مالک تو بنے گا۔ اب تو کوئی بھی مسائل حل کرنے یا بات سننے کو تیار ہی نہیں ہے۔ ہم سول ایوی ایشن سے لائسنس یافتہ 12 سو انجینیئرز ہیں، ہمارے سر پر ہر وقت کام کا بوجھ رہتا ہے۔ پھر بھی ہمارے سیفٹی جیسے سنجیدہ مسائل حل کرنے کو کوئی تیار نہیں ہے۔‘
ان اعتراضات بارے ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ ’سوسائٹی آف ایئر کرافٹ انجینیئرز کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد پی آئی اے کی نجکاری، جو اپنے حتمی مراحل میں ہے، کو سبوتاژ کرنا ہے۔ سیفٹی کا بہانہ بنا کر ایک منصوبے کے تحت بیک وقت کام چھوڑنا ایک مذموم سازش ہے۔ جس کا مقصد پی آئی اے کے مسافروں کو زحمت دینا اور انتظامیہ پر ناجائز دباؤ ڈالنا ہے۔‘ ترجمان کے بقول، ’پی آئی اے میں لازمی سروسز ایکٹ نافذ ہے جس کے تحت ہڑتال یا کام چھوڑنا قانونی طور پر جرم ہے۔ تمام ایسے عناصر جو ایک سازش کے تحت ایسی کارروائیوں میں مشغول ہیں یا ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں، کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ جس میں احتجاجی ملازمین کی برطرفی بھی شامل ہے۔
