جنرل سید عاصم منیر کو تاحیات فیلڈ مارشل بنانے کا فیصلہ

وفاقی کابینہ کی جانب سے منظور کیا جانے والا 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ سامنے آ گیا ہے جس کا اہم ترین نقطہ یہ ہے کہ جنرل سید عاصم منیر کو تاحیات فیلڈ مارشل بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کرتے ہوئے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم کر دیا جائے گا۔ نئی ترمیم کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے، یعنی وہ تینوں مسلح افواج کی سربراہی کریں گے۔ اسکے علاوہ آرمی چیف بطور چیف آف ڈیفنس سٹاف وزیر اعظم کی مشاورت سے نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ کا سربراہ مقرر کریں گے جس کا تعلق فوج سے ہو گا۔
وفاقی کابینہ کے پاس کردہ آئینی مسودے کے مطابق ایک ’وفاقی آئینی عدالت‘ قائم کی جا رہی ہے جو آئین کی تشریح اور آئینی تنازعات کے فیصلے کرے گی، سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات واپس لیکر وفاقی آئینی عدالت کے سپرد کیے جائیں گے۔ آئین کا آرٹیکل 184 ختم کردیا جائے گا، ججز کا ازخود نوٹس کا اختیار ختم ہو جائے گا، اور آئینی مقدمات اب سپریم کورٹ کی بجائے وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔ مسودے کے مطابق سپریم کورٹ صرف اپیلوں اور عمومی مقدمات کی حد تک محدود رہے گی، وفاقی آئینی عدالت میں چیف جسٹس اور چاروں صوبوں سے برابر نمائندگی ہوگی۔ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے۔
بلاول نے حکومتی ترمیم پاس کرانے کی کوشش کیسے ناکام بنائی؟
چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کی حیثیت محدود ہو جائے گی، سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے درمیان اختیارات کی تقسیم کی تجویز دی گئی ہے۔ آئینی عدالت کے فیصلے ملک کی تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے۔
27 ویں ترمیم کے مسودے کے مطابق فوجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے، اور آرمی چیف کو ’چیف آف ڈیفنس فورسز‘ کا عہدہ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ آئینی ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل اور دیگر اعلیٰ فوجی عہدوں کو تاحیات درجہ حاصل ہوگا۔
27ویں ترمیم کے ذریعے ججوں کی تقرری کا طریقہ کار بھی بدلا جائے گا، جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دونوں شامل ہوں گے، تقرری میں وزیراعظم اور صدر کو کلیدی کردار حاصل ہوگا۔
پارلیمنٹ کو آئینی عدالت کے ججوں کی تعداد طے کرنے کا اختیار ملے گا، آئین کے آرٹیکل 42، 63A، 175 تا 191 میں ترمیم کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ مسودہ کے مطابق 27ویں ترمیم سے سپریم کورٹ کے اختیارات میں نمایاں کمی ہو گی۔
