27ویں ترمیم کے تحت 14 ہائی کورٹ ججز کے تبادلوں کا فیصلہ

ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت آئندہ چند ہفتوں میں ہائی کورٹس کے ججوں کے تبادلوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔عدالتی ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن آف پاکستان جلد اس معاملے کو باضابطہ طور پر اپنے ایجنڈے میں شامل کر سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ججوں کے تبادلوں کا یہ اقدام 27ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں سامنے آئے گا، جس کے تحت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے تبادلوں کے آئینی طریقۂ کار میں نمایاں تبدیلی کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس ترمیم کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں جج کے تبادلے کی سفارش اس کی رضامندی کے بغیر بھی کر سکے۔ ذرائع کے مطابق حال ہی میں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے مابین ہونے والی ایک غیر رسمی ملاقات کے دوران ججوں کے تبادلوں کے معاملے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ چیف جسٹس صاحبان رواں ماہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے 56ویں اجلاس میں شرکت کے لیے جمع ہوئے تھے۔ اجلاس کے بعد این جے پی ایم سی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں زیر التوا مقدمات میں کمی، کمرشل مقدمات کے جلد فیصلے اور ٹیکس سے متعلق کیسز کے طریقۂ کار کو بہتر بنانے جیسے امور پر پالیسی ہدایات دی گئیں، تاہم اعلامیے میں ججوں کے تبادلوں سے متعلق کسی قسم کی باضابطہ بحث کا ذکر شامل نہیں تھا، کیونکہ یہ معاملہ اجلاس کے رسمی ایجنڈے کا حصہ نہیں تھا۔
اس پیش رفت سے آگاہ ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے اجلاس میں ججوں کے تبادلوں پر باضابطہ غور نہیں کیا گیا، تاہم اجلاس کے موقع پر چیف جسٹس صاحبان کے مابین اس موضوع پر غیر رسمی گفتگو ضرور ہوئی۔ عہدیدار کے مطابق یہ بات چیت ابتدائی نوعیت کی تھی اور اس کے نتیجے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان آئندہ ایک ماہ کے دوران متعدد اجلاس منعقد کرنے کا امکان رکھتا ہے۔ ان اجلاسوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ، لاہور ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے ایڈیشنل ججوں کی مستقل تقرری کے معاملات کے ساتھ ساتھ ججوں کے تبادلوں کے معاملے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم سے قبل آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت کسی جج کے تبادلے کے لیے اس کی رضامندی کے ساتھ ساتھ صدرِ مملکت، چیف جسٹس آف پاکستان اور متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان سے مشاورت لازمی تھی۔ تاہم ترمیم کے بعد اس طریقۂ کار کو ختم کرتے ہوئے ججوں کے تبادلوں کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو دے دیا گیا ہے۔ ترمیم شدہ آرٹیکل 200 کے تحت صدرِ مملکت جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر کسی ہائی کورٹ کے جج کو ایک عدالت سے دوسری عدالت میں منتقل کر سکتے ہیں۔ آئینی ترمیم میں ججوں کی سینیارٹی سے متعلق بھی وضاحت کی گئی ہے، جس کے مطابق تبادلے کی صورت میں جج کی سینیارٹی اس کی پہلی بطور ہائی کورٹ جج تقرری کی تاریخ سے شمار کی جائے گی۔ تاہم کسی جج کو ایسی ہائی کورٹ میں منتقل نہیں کیا جا سکے گا جہاں وہ تبادلے کے بعد اس عدالت کے چیف جسٹس سے سینئر ہو جائے۔
ایسی صورت میں متعلقہ جج کو اضافی الاؤنس دینے کی شق شامل کی گئی ہے۔ ترمیم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی جج تبادلہ قبول کرنے سے انکار کرے تو اس کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے گی اور سپریم جوڈیشل کونسل میں مقدمہ چلایا جا سکے گا۔
آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد مختلف رپورٹس میں متعدد ججوں کے ممکنہ تبادلوں کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے تقریباً 10 اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے 4 ججوں کو چھ ماہ سے دو سال کے لیے مختلف عدالتوں یا بنچز میں تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔
مجوزہ تبادلوں میں بلوچستان ہائی کورٹ کے ژوب بینچ کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ کے لاڑکانہ، سکھر اور میرپورخاص کے بینچز شامل بتائے جا رہے ہیں۔
