ہتک عزت کیس : ملک احمد خان کا عدالت میں شہباز شریف کے حق میں بیان ریکارڈ

شہباز شریف کے عمران خان کے خلاف ہتک عزت کے کیس میں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے بطور گواہ بیان ریکارڈ کرا دیا۔ ملک احمد خان نے کہا کہ عمران خان نے شہباز شریف پر رشوت لینے کے جھوٹے الزامات عائد کیے، اپریل 2017 میں عمران خان نے سنگین الزامات لگائے جو مختلف ٹیلی ویژنز پر چلے۔
10 ارب روپے کے ہتک عزت کیس میں سیشن جج لاہور یلماز غنی نے شہباز شریف کے گواہ ملک احمد خان کو طلب کیاتھا جس پر انہوں آج عدالت میں پیش ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ملک محمد احمد خان نے اپنے بیان میں کہاکہ عمران خان نے شہباز شریف پر رشوت لینے کے جھوٹے الزامات عائد کیے، اپریل 2017 میں عمران خان نے سنگین الزامات لگائےجو مختلف ٹیلی ویژنز پر چلے۔
ملک محمد احمد خان نے اپنے بیان کہا کہ میری شہباز شریف کے ساتھ جماعتی وابستگی ہے،شہباز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم عوامی خدمت کی، میرے نزدیک عمران خان کے الزامات کے ذریعے شہباز شریف کے خلاف گمرہ کن پروپیگنڈا کیا گیا۔
ملک احمد خان کاکہنا تھا کہ اسلام میں بھی جھوٹ اور غیبت کی سخت ممانعت ہے،جھوٹ بول کر کسی کےخلاف قصہ بیان کرنا مذہبی اعتبار سے بھی درست نہیں،مدعی نے جو دعویٰ دائر کیاہے وہ اس عدالت میں آنے کا حق رکھتا ہے۔
عمران خان کے وکیل احمد حسین نے ملک احمد خان کے بیان پر جرح کرتےہوئے پوچھا کیا جن پروگرامز کا ذکر آپ نے کیا یہ تمام پروگرام پنجاب سے آن ائیر نہیں ہوئے؟ جس پر ملک احمد خان نے کہا یہ تمام پروگرام قومی نشریاتی اداروں پر آتے ہیں، یہ درست ہے تمام پروگرامز پنجاب سے آن ائیر نہیں ہوئے تھے۔
عمران خان کے وکیل نے استفسار کیاکیا آپ کو معلوم ہے کہ پانامہ کیس کیا تھا؟ جس پر ملک احمد خان نے کہا پانامہ پیپرز کا کیس ان افراد کی فہرست کے بارےمیں تھا جن کی بیرون ملک انویسٹمنٹ تھی۔
وکیل احمد حسین نے استفسار کیا کہ کیا یہ درست ہے عمران خان نے سپریم کورٹ میں پانامہ پیپرزکے بارے میں کوئی درخواست دائر کی تھی؟ جس پر ملک احمد خان نے کہا میرے علم میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔
عمران خان کے وکیل نے سوال کیا کہ کیا آپ کو علم ہے عمران خان کی درخواست نواز شریف وغیرہ کےخلاف تھی؟ جس پر ملک محمد احمد خان نے کہا مجھے تفصیلی طور پر اس کے بارے میں علم نہیں ہے۔
عمران خان کے وکیل نے ملک احمد خان سے پوچھا کیا آپ کو معلوم ہے کہ نواز شریف کو پانامہ پیپرز میں سزا ہوگئی تھی؟ جس پر ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا جی یہ بات درست ہے۔
وکیل نے پوچھا کیا یہ درست ہےکہ محض اس مقدمے کی وجہ سے مدعی نے جھوٹا دعویٰ دائر کیا؟ ملک احمد خان نے کہا یہ غلط ہے۔
عمران خان کے وکیل نے ملک احمد خان کے بیان پر جرح مکمل کی جس کےبعد عدالت نے شہباز شریف کے مزید گواہوں کو آئندہ سماعت پر طلب کرتےہوئے کیس کی مزید سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کردی۔
عمران خان کی جیل ملاقاتوں کی امیدیں دم کیوں توڑ گئیں؟
کیس میں بیان ریکارڈ کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا آج ایک ذہنی کوفت سے عدالت آیا، یہ کیس 7 سال سے چل رہا ہے،نظام کو ٹھیک کرنےکی بات ہو تو شور اٹھتا ہے،آئین لکھنےکا حق صرف پارلیمنٹ کو ہے،سپریم کورٹ کو نہیں، آئی ایم ایف کی رپورٹ کہتی ہے کہ پارلیمنٹ کو زیادہ موثر کریں۔
