کورٹ مارشل کا شکار ائیر مارشل حساس معلومات بیچتے رہے

 

 

 

کورٹ مارشل کے بعد 14 برس قید کی سزا پانے والے پاک فضائیہ کے سابق ایئر مارشل جواد سعید پر عائد الزامات کی تفصیل بالاخر سامنے آ گئی ہے۔ بی بی سی نے انکشاف کیا ہے کہ انکے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی اس الزام پر ہوئی کہ وہ ایئر فورس کی حساس ترین معلومات اپنے بیرون ملک مقیم بھائی کو فراہم کر رہے تھے جو یہ معلومات غیر ملکی ایجنٹس کو فروخت کر رہے تھے۔

 

پاکستانی فضائیہ کے ترجمان نے بی بی سی کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ سابق ایئر مارشل یہ حساس معلومات امریکہ میں اپنے بھائی کو دیتے تھے۔  ترجمان کا کہنا تھا کہ ’سابق ایئر مارشل یہاں تک حساس معلومات فراہم کرتے تھے کہ میانوالی ایئربیس پر کون، کون سے جنگی جہاز کھڑے ہیں۔ ریٹائیرڈ ایئر مارشل جواد سعید پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ ’آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ’ کی معلومات اپنے بھائی کے ذریعے غیر ملکی ایجنٹس کو فروخت کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ پاک فضائیہ نے 27 فروری 2019 کو کیا تھا جسکا مقصد 26 فروری 2019 کو پاکستانی علاقے بالا کوٹ پر بھارتی فضائیہ کے حملے کا جواب دینا تھا۔

 

تاہم دوسری جانب ریٹائرڈ ایئر مارشل جواد سعید کی اہلیہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اُن کے شوہر کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی ایک ایسا وائٹ پیپر لکھنے کے باعث عمل میں لائی گئی جس میں انھوں نے موجودہ ایئر چیف کی جانب سے اختیارات سے تجاوز کا الزام عائد کیا تھا۔ لیکن خیال رہے کہ جواد سعید نے اس وائٹ پیپر کا ذکر کسی بھی عدالتی کارروائی کے دوران اپنے دفاع کے لیے نہیں کیا۔

 

لیکن خیال رہے کہ جواد سعید کی اہلیہ شازیہ جواد نے اپنے شوہر کے کورٹ مارشل کی تفصیلات کے حصول کے لیے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ اور پھر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ سابق ایئر مارشل جواد سعید کے خلاف کسی بھی زیرِ التوا معاملے پر لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کو فیصلہ کرنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن بھی اب ختم ہو گئی ہے لیکن اس پر کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دی ہے۔

 

لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے 22 اکتوبر 2025 کو جواد سعید کی اہلیہ شازیہ جواد کی ایک درخواست پر وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ اگر اُن کے پاس پاکستانی فضائیہ کے سابق ایئر مارشل کے حوالے سے کوئی معاملہ زیر التوا ہے تو وہ قانون کے مطابق ایک ماہ کے اندر اس پر فیصلہ کرے۔ جواد سعید کی حراست کے بعد شازیہ جواد نےاسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی پاکستانی فضائیہ کی جانب سے اپنے شوہر کو مبینہ طور پر حبسِ بے جا میں رکھنے کے حوالے سے درخواست بھی دائر کی تھی۔

 

اس معاملے میں اپریل 2025 میں پاکستانی فضائیہ کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ سابق ایئر مارشل جواد سعید کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی کے نتیجے میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تاہم اس سزا کے خلاف اپیل کے نتیجے میں سزا میں دس سال کی کمی کر دی گئی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جواد سعید کے کورٹ مارشل کے بارے میں معلومات کی فراہمی کے بعد عدالت کی جانب سے شازیہ جواد کی درخواست کو خارج کر دیا گیا تھا۔ اس درخواست کے اخراج اور پھر فیصلے پر نظرِثانی کی درخواست واپس لیے جانے کے بعد رواں برس جواد سعید کی اہلیہ کی جانب سے وزارتِ دفاع میں ایک اور درخواست دی گئی جس میں استدعا کی گئی کہ اُن کے شوہر کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی کو ’غیر قانونی‘ اور ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا جائے۔

 

حکومت کی جانب سے اس درخواست پر کوئی کارروائی نہ کیے جانے پر شازیہ جواد نے اکتوبر 2025 میں لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ وفاقی حکومت کو اُن کی زیر التوا درخواست پر جلد از جلد فیصلہ کرنے کا حکم دے۔اس درخواست میں اپریل 2025 میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں جواد سعید کو پاکستانی فضائیہ کی جانب سے مبینہ طور پر حبس بےجا میں رکھنے سے متعلق گذشتہ درخواست اور اس پر فیصلے کے بعد نظرِثانی کی درخواست کا حوالہ بھی دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے مطابق درخواست گزار نے پاکستان ایئر فورس کے حکام سے جواد سعید کے خلاف الزامات کی انکوائری کرنے والے بورڈ کی جانب سے تیار کی گئی انکوائری رپورٹ، تفتیشی رپورٹ، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران قلمبند کی گئی شہادتوں اور جواد سعید پر عائد فرد جرم کی نقول، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے سلسلے میں ہونے والی عدالتی کارروائی اور کورٹ آف اپیل کے فیصلے کی کاپی فراہم کرنے کی استدعا کی لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔

درخواست گزار کے مطابق جواد سعید کے لیے وکالت نامہ بھی بھیجا گیا مگر وہ واپس نہیں آیا جس پر درخواست گزار کی جانب سے ایک بار پھر پی اے ایف سے ریکارڈ کے حصول کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا تاہم بعدازاں فضائیہ کے نمائندوں کی جانب سے ریکارڈ کی فراہمی کی یقین دہانی کے بعد یہ درخواست واپس لے لی گئی۔

 

بعد ازاں ایئرفورس نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو بتایا تھا کہ جواد سعید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی 24 جنوری سے 27 جنوری 2024 تک جاری رہی جس کے نتیجے میں انھیں ابتدائی طور پر 14 سال قید کی سزا سنائی گئی اور بعدازاں اس سزا کے خلاف جواد سعید کی اپیل کے نتیجے سزا میں دس سال کی کمی کر دی گئی۔

پاکستانی فضائیہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ بھی بتایا تھا کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد جواد سعید نے بذات خود فضائیہ کے سربراہ کے نام رحم کی اپیل لکھی تھی، جس پر ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔

عمران خان کی جیل ملاقاتوں کی امیدیں دم کیوں توڑ گئیں؟

فضائیہ کی جانب سے اس موقع پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں نہ تو کوئی تحریری بیان جمع کرایا گیا اور نہ ہی اپنے بیانات کے حق میں کوئی دستاویز جمع کروائی گئی۔ اس موقع پر صرف ایئر ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کی کاپی عدالت کو دکھائی گئی۔ ایئر فورس کے نمائندوں کے زبانی جوابات کی بنیاد پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا تھا کہ چونکہ جواد سعید کا کورٹ مارشل ہو چکا ہے اور وہ ایئرفورس کی تحویل میں ہیں اس لیے اب یہ حبس بےجا کا معاملہ نہیں رہا ہے اور اس کے بعد ان کی درخواست خارج کر دی گئی۔

 

Back to top button