ٹرمپ جھنجھلا کر اہم فوجی افسروں کو برطرف کرنے لگے

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کے دوران اچانک اعلیٰ فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں، جنہوں نے امریکی دفاعی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ان غیر متوقع اقدامات کے تحت امریکی بحریہ کے سیکریٹری جان فیلن اپنے عہدے سے الگ ہو گئے ہیں، جبکہ آرمی چیف آف سٹاف رینڈی جارج کی برطرفی بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دی جا رہی ہے۔ ان برطرفیوں کو ایران سے جنگ کے معاملے پر صدر ٹرمپ کی جھنجھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

 

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور خلیج میں امریکی بحریہ کی جانب سے سخت ناکہ بندی جاری ہے۔ آبنائے ہرمز میں جاری اس حساس آپریشن کو مبصرین ممکنہ بڑے فوجی تصادم کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں، جس کے باعث واشنگٹن کی ہر پالیسی میں تبدیلی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان شان پارنیل نے ایک مختصر بیان میں تصدیق کی کہ جان فیلن فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو گئے ہیں اور اب وہ بحریہ کے سیکریٹری نہیں رہے۔ تاہم اس اچانک علیحدگی کی باضابطہ وجوہات بیان نہیں کی گئیں، جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

امریکی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ یہ فیصلہ اچانک کیا گیا ہے، مگر اس کے پیچھے کئی ہفتوں سے جاری پالیسی اختلافات اور انتظامی تنازعات کار فرما تھے۔ خاص طور پر پینٹاگون کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بحری بیڑے کی جدید کاری، جہاز سازی کے منصوبوں اور دفاعی حکمت عملی پر شدید اختلافات رپورٹ ہوئے تھے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ حکومت بحریہ کی مجموعی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھی اور موجودہ کشیدہ حالات میں زیادہ مؤثر اور جارحانہ قیادت کی تلاش میں تھی۔ بعض رپورٹس میں داخلی سطح پر انتظامی مسائل اور ممکنہ اخلاقی تحقیقات کا بھی ذکر کیا گیا، جنہوں نے جان فیلن کی پوزیشن کو مزید کمزور کیا۔

 

دوسری جانب امریکی چیف آف آرمی سٹاف رینڈی جارج کی برطرفی کو دفاعی اداروں میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسِتھ پہلے ہی ایک درجن سے زائد سینئر فوجی افسران کو انکے عہدوں سے ہٹا چکے ہیں، جن میں نیول آپریشنز کے سربراہ اور ایئر فورس کے وائس چیف آف سٹاف بھی شامل ہیں۔ دیگر کئی اعلیٰ امریکی فوجی افسران کو بھی حالیہ دنوں میں ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پینٹاگون میں وسیع پیمانے پر تنظیمِ نو جاری ہے۔ دفاعی مبصرین کے مطابق یہ اقدامات نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکی قیادت موجودہ صورتحال میں کسی بھی قسم کی اندرونی کمزوری یا اختلاف برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں اور وہ فوجی اداروں میں مکمل ہم آہنگی چاہتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران کے ساتھ کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

 

تاہم موجودہ امریکی انتظامیہ کے ناقدین ان برطرفیوں کو صدر ٹرمپ کی بگڑتی ہوئی ذہنی حالت کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان برطرفیوں کو براہ راست بحری ناکہ بندی سے جوڑنا مکمل طور پر درست نہیں ہوگا، تاہم ان کی ٹائمنگ انتہائی اہم ہے۔ واشنگٹن اس وقت ایک ایسی فوجی قیادت چاہتا ہے جو تیز رفتار فیصلہ سازی اور مربوط حکمت عملی کے ساتھ کام کر سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ امریکی بحریہ کے سیکریٹری کی حیثیت سے جان فیلن کا کردار انتہائی اہم تھا۔ وہ نہ صرف پالیسی سازی بلکہ بھرتیوں، تربیت، بجٹ اور بحری جہازوں کی تعمیر و مرمت جیسے اہم امور کی نگرانی کر رہے تھے۔ ان کی ذمہ داریوں میں امریکی بحریہ اور میرین کور کے تقریباً دس لاکھ اہلکاروں اور سویلین ملازمین کی نگرانی بھی شامل تھی۔

 

ایران سے جنگ یورپ کو معاشی طور پر کمزور کر سکتی ہے، ترک صدر

دلچسپ بات یہ ہے کہ جان فیلن ایک سویلین پس منظر رکھتے تھے اور اس سے قبل انہوں نے فوج میں خدمات انجام نہیں دیں تھیں۔ وہ ایک کاروباری شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں انکے بڑے ڈونر بھی رہے۔ انہیں 2024 میں نامزد کیے جانے کے بعد مارچ 2025 میں اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ سابق امریکی عہدیدار اینڈریو پیک کے مطابق بحری اور تجارتی بیڑے کی توسیع کے منصوبوں پر پیشرفت نہ ہونا بھی اس تبدیلی کی ایک اہم وجہ ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اس معاملے پر واضح موقف رکھتے تھے اور وہ ایسے شخص کو لانا چاہتے تھے جس پر انہیں زیادہ اعتماد ہو اور جو ان کی پالیسیوں پر مکمل عملدرآمد کر سکے۔

 

ادھر صدر ٹرمپ کی جانب سے ہنگ چاؤ کو قائم مقام سیکریٹری بحریہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ اس سے قبل انڈر سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور بحری امور میں 25 سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے 2024 میں ورجینیا سے سینیٹ کی نشست کے لیے انتخابی مہم بھی چلائی تھی، تاہم کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ عالمی امور کے ماہرین کے مطابق یہ تمام فیصلے ایک طرف امریکی فوجی حکمت عملی کو زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش ہو سکتے ہیں، جبکہ دوسری جانب اس سے پینٹاگون کے اندر عدم استحکام کا تاثر بھی پیدا ہو رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا ایک ممکنہ بڑے فوجی تصادم کے خدشات سے دوچار ہے، امریکی قیادت میں یہ اچانک تبدیلیاں نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

Back to top button