KPK میں اربوں روپے کی کرپشن کرنے والے فراڈیے آج بھی آزاد کیوں؟

 

 

 

 

خیبر پختونخوا میں اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث فراڈیوں نے رہائی پاتے ہی صوبے میں لوٹ مار کے نئے پلان بنانے بھی شروع کر دئیے ہیں۔ نیب کی پلی بارگین کی بھٹی سے گزر کر پارسائی کا لبادہ اوڑھنے والے یہ کرپٹ عناصر اب عوام کے سامنے اپنی بے گناہی کی دہائیاں دیتے نظر آتے ہیں تاہم دوسری جانب خیبرپختونخوا میں ڈمپر ڈرائیورز، کلرکس اور کنٹریکٹرز کے نام استعمال کر کے کیے گئے اربوں روپے کے مالی غبن کے حوالے سے انکشافات کا سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ ہر نئی تفصیل اس سکینڈل کی گہرائی اور وسعت کو مزید واضح کر رہی ہے۔ تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپر کوہستان میں ایک منظم طریقے سے بظاہر نچلے درجے کے ملازمین اور عام شہریوں کے نام پر جعلی کمپنیاں، بینک اکاؤنٹس اور جائیدادیں بناکر ترقیاتی منصوبوں کے بہانے 40ارب روپے سے زائد کا ہیرپھیر کیا گیا اور کاغذوں میں ان منصوبوں کومکمل ظاہر کیا گیا جن کا زمین پر سرے سے وجود ہی نہیں ہے۔ ناقدین کے مطابق خیبرپختونخوا میں سامنے آنے والا 40 ارب روپے سے زائد مالیت کے مالی بدعنوانی کے اس سکینڈل پی ٹی آئی حکومت کے مکمل شفافیت اور میرٹ کے دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔

 

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس سکینڈل میں ایک منظم نیٹ ورک سرگرم تھا، جس نے جعلی ناموں سے تعمیراتی کمپنیاں قائم کیں۔ انہی کمپنیوں کو سرکاری منصوبوں کے ٹھیکے دیے گئے، اور کاغذی کارروائی میں منصوبوں کی تکمیل ظاہر کر کے جعلی بلوں کے ذریعے اربوں روپے نکلوائے گئے۔ یہ عمل کئی برسوں تک جاری رہا اور اس میں مختلف سرکاری محکموں کے اہلکاروں کی مبینہ شمولیت بھی سامنے آئی، جو اس کرپشن کے دائرہ کار کو مزید وسیع بناتی ہے۔

 

نیب کی کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں اثاثے اور رقوم برآمد ہوئیں، جن میں درجنوں جائیدادیں شامل ہیں جن کی مالیت اربوں روپے بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ نقد رقم بھی برآمد کی گئی، جس میں بعض رقوم نہایت غیرمعمولی طریقوں سے پینٹ کے ڈبوں میں چھپائی گئی تھیں، ان تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ اس سکینڈل میں بدعنوانی نہ صرف بڑے پیمانے پر ہوئی بلکہ اسے چھپانے کے لیے بھی پیچیدہ طریقے اختیار کیے گئے۔

 

ذرائع کےمطابق اپر کوہستان کے سی اینڈ ڈبلیو یعنی کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ میں 2020 سے 2024 کےدوران سنگین مالی بےضابطگیاں کرتے ہوئے حکومتی بینک اکاؤنٹس سے 40 ارب روپے سے زائد کی رقم نکلوائی گئی۔ تحقیقات کے دوران مبینہ طور پر ایک حیران کن انکشاف ہوا کہ ایک ڈمپر ڈرائیور کے اکاؤنٹس میں تقریباً ساڑھے چار ارب روپے موجود تھے،جنہیں فوری طور پر نیب نے منجمد کر دیا، مذکورہ ڈرائیور نے ایک فرضی کنسٹرکشن کمپنی بنارکھی تھی۔ شواہد کےمطابق کل ملاکر اس کے اکاؤنٹس میں تقریباً 7 ارب روپے مشکوک ٹرانزیکشنز کے ذریعے جمع کرائے گئے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ضلع کےسرکاری اکاؤنٹس سے تقریباً ایک ہزار جعلی چیکس جاری کیےگئے جبکہ اب تک 50 مشتبہ اکاؤنٹ ہولڈرز کی نشاندہی ہوچکی ہے۔شواہد سے بااثر سیاسی اور اعلیٰ سرکاری شخصیات کی شمولیت کے واضح آثار ملےہیں۔ صوبائی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز،کنٹریکٹر سکیورٹیز اور ادائیگیوں کےلیے مخصوص اکاؤنٹ سکیورٹی اینڈ ڈپازٹ ورکس 10113سے اربوں روپے کنٹریکٹرز سکیورٹی کی آڑ میں نکلوائے گئے اسے جعلی دستاویزات، بڑھا چڑھا کر بنائے گئے بلوں اور فرضی سیکورٹیز کے ذریعے استعمال کیا گیا۔ اب تک کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہےکہ اس پیچیدہ اور کئی تہوں پر مشتمل فراڈ میں قومی خزانے کو 40 ارب روپے سے زائد کا ٹیکا لگایا گیا۔

 

ذرائع کے بقول کوہستان کرپشن سکینڈل نہ صرف خیبرپختونخوا کے مالیاتی نظام کی سنگین خامیوں کو بےنقاب کرتا ہے بلکہ ممکنہ طور پر دانستہ طور پر کی گئی مالیاتی تباہ کاری کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔شواہد یہ بھی ظاہر کرتےہیں کہ اس کارروائی میں صرف چند بدعنوان اہلکار ہی نہیں بلکہ صوبے کی اعلیٰ قیادت کےکچھ عناصر بھی شامل تھے،جنہوں نے مالیاتی قواعد کو نظر انداز کرنےکی دانستہ اجازت دی۔ اس حوالے سے جیسےجیسے تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں،مزید دھماکہ خیز انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے اور امکان ہےکہ صوبائی حکومت کے اعلیٰ عہدیداران بھی اس سکینڈل میں ملوث پائے جائیں گے۔

پی ٹی آئی نے شادیوں کی تقریبات کو سیاسی اکھاڑہ کیوں بنا لیا؟

جہاں ایک طرف حکومت کو اربوں روپے کی مالی بدعنوانی کے اس سکینڈل میں اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے وہیں اس کیس میں پلی بارگین کے ذریعے ملزمان کی رہائی ایک اہم اور متنازع پہلو بن کر سامنے آئی ہے۔ پے در پے مرکزی ملزمان کی پلے بارگین کے ذریعے رہائی نے جاری احتسابی عمل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، ناقدین کے مطابق پلی بارگین بدعنوان عناصر کو گرفت سے بچنے کا قانونی راستہ فراہم کر رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ صوبے میں شفاف آڈٹ سسٹم، جدید ڈیجیٹل نگرانی، پلی بارگین قوانین پر نظرثانی سمیت احتساب کے عمل کو مکمل طور پر آزاد بنائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے سکینڈلز کی سے بچا جا سکے۔

 

Back to top button