ایران سے جنگ کا پنگا لے کر ٹرمپ کس بھنور میں پھنس گئے ؟

امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے ساتھ کشیدگی ایک ایسے خطرناک سفارتی اور عسکری بھنور میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں صدر ٹرمپ بری طرح پھنستے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ کا پنگا لیکر وہ ایک ایسے گھن چکر میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا، اور ٹرمپ کا ہر نیا ایکشن اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں 21 اپریل کو غیر معمولی سفارتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ اسلام آباد روانگی کے لیے تیار کھڑا تھا، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور متوقع تھا۔ تاہم ایران کی جانب سے شرکت کی واضح یقین دہانی نہ ملنے کے باعث یہ دورہ مؤخر ہو گیا اور مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔
سفارتی حلقوں سے ملنے والے اشارے یہ بتاتے ہیں کہ ایران کی جانب سے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے سے انکار کے بعد صدر ٹرمپ نے مجبور ہو کر جنگ بندی میں توسیع کی۔
بظاہر ٹرمپ کے فیصلے کو سفارتکاری کے لیے مہلت قرار دیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی صدر دوبارہ جنگ چھیڑنے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ بظاہر وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کی گئی ہے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ دنیا کی سب سے طاقتور سپر پاور اس وقت پاکستانی سفارتکاری کی مرہون منت ہو چکی ہے۔ چنانچہ پاکستان اب بھی ایران کو مذاکرات کے اگلے دور کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی قیادت اپنے مؤقف میں کوئی نرمی دکھانے پر آمادہ نہیں اور ڈٹی ہوئی ہے۔ ایران نے نے نہ تو اپنے اتحادی عسکری گروہوں کی حمایت ختم کرنے کا عندیہ دیا اور نہ ہی اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، حالانکہ یہ دونوں نکات صدر ٹرمپ کی واضح ریڈ۔لائینز ہیں اور وہ انہیں کسی بھی حتمی معاہدے کا لازمی حصہ قرار دے چکے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ دراصل سفارت کاری کے ذریعے ایران کو مذاکرات کی ٹیبل پر لا کر وہ جنگ ہرانا چاہتے ہیں جو کہ وہ عسکری طاقت سے نہیں جیت پائے۔ موجودہ صورتحال میں ٹرمپ کے پاس دوبارہ عسکری طاقت کے استعمال کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں رہا۔ مگر ٹرمپ کو اس بات کا ادراک بھی ہو چکا ہے کہ اگر انہوں نے دوبارہ جنگ چھیڑی تو ان کا اقتدار بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔
امریکہ نے انڈیا کو چھوڑ کر پاکستان کی عزت کیوں شروع کر دی؟
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بدستور برقرار ہے جسے ایران نے جنگ کے مترادف قرار دیا ہے، اس ناکہ بندی کے باعث عالمی معیشت سخت دباؤ کا شکار ہے۔ توانائی کی ترسیل متاثر ہونے سے پوری دنیا میں بے چینی پائی جاتی ہے جبکہ امریکہ کے اندر بھی ٹرمپ انتظامیہ پر سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ سابق امریکی سفیر جیمز جیفری کے مطابق اس تنازع کے خاتمے کا کوئی واضح فارمولا موجود نہیں، وہ اس صورت حال کو ایک ایسی خود ساختہ جنگ قرار دیتے ہیں جس سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ نہیں بچا۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ تو جنگ بندی کی کوئی واضح مدت ہے، نہ ناکہ بندی کے خاتمے کی ڈیڈلائن ہے، اور نہ ہی اس جنگ کے اختتام کی کوئی ٹائم لائن موجود ہے۔ یوں صدر ٹرمپ نے اگرچہ جنگ بندی میں توسیع کر کے وقتی مہلت ضرور حاصل کر لی ہے، لیکن زمینی حقائق یہی بتاتے ہیں کہ یہ بحران ابھی خاتمے سے بہت دور ہے۔ ایران اپنے مؤقف پر قائم ہے، امریکی صدر دباؤ میں ہے، اور عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، ایسے میں فوری امن کی کوئی صورت بنتی فی الحال دکھائی نہیں دیتی۔
