سوشل میڈیا انقلابیوں نے پی ٹی آئی کا دھڑن تختہ کیسے کیا؟

تنظیمی کمزوری، قیادت کے بحران اور غیر ذمہ دارانہ بیانیے میں الجھی تحریک انصاف کو اب اپنے ہی سوشل میڈیا "انقلابیوں” کی صورت میں ایک سنگین اندرونی چیلنج کا سامنا ہے۔ صورتحال یہاں تک جا پہنچ چکی ہے کہ مخالفین کے ساتھ ساتھ پارٹی کی اپنی قیادت بھی اس سوشل میڈیا پر برسر پیکار بے لگام ٹولے سے محفوظ نہیں رہی۔ پی ٹی آئی میں پنپنے والا یہ غیر محتاط اور جارحانہ سوشل میڈیا کلچر نہ صرف پارٹی میں باہمی اختلافات کو انتشار میں بدل رہا ہے بلکہ پارٹی کے اندر اعتماد اور نظم و ضبط کو بھی بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے انھی سوشل میڈیا انقلابیوں نے پارٹی کی رہی سہی ساکھ کا بھی جنازہ نکال دیا ہے۔
اس حوالے سے سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی کا اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست میں ایک زبردست عوامی طاقت کے طور پر ابھرنے والے عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف آج باہمی چپقلش، اندرونی اختلافات، قیادت کی کمزوری اور حکمتِ عملی کے فقدان کا شکار نظر آتی ہے۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پارٹی کا پورا ڈھانچہ ہل کر رہ گیا ہے۔ اگرچہ عمران خان اب بھی پارٹی کا سب سے بڑا اور مؤثر چہرہ ہیں، مگر ان کی غیر موجودگی میں قیادت تقریباً غیر فعال دکھائی دیتی ہے۔ علیمہ خان، بیرسٹر گوہر علی خان، سلمان اکرم راجہ، سہیل آفریدی یا خیبرپختونخوا کی قیادت سمیت کوئی بھی پی ٹی آئی رہنما ایسا نہیں رہا جو پارٹی کو متحد اور کارکنان کو متحرک کر سکے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں انصار عباسی کا مزید کہنا ہے کہ جیل کے باہر پی ٹی آئی قیادت تو موجود ہے تاہم شاید ان رہنماؤں کو مکمل اختیارات حاصل ہی نہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اختیارات سے محروم پارٹی قیادت دباؤ کا شکار ہے، اس کے برعکس، ان کے کندھوں پر ڈالا گیا توقعات کا بھاری بوجھ ان کے قدم لرزا رہا ہے۔ اس دوران پارٹی کے اندر ایک غیر صحت مند رجحان بھی ابھر کر سامنے آ چکا ہے جہاں پی ٹی آئی کے اپنے ہی کارکنان اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے نظر آتے ہیں۔ کبھی ان پر غداری کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں، کبھی طنز کے تیر چلائے جاتے ہیں اور کبھی تمسخر اڑا کر انھیں نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہی وہ رویہ ہے جو کسی بھی سیاسی جماعت کے اندرونی ڈھانچے کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ضرور ہے، مگر جب یہی اختلاف ذاتی حملوں، تضحیک اور کردار کشی میں بدل جائے تو وہ اصلاح کے بجائے انتشار کو جنم دیتا ہے۔ انصار عباسی کے بقول پی ٹی آئی رہنماؤں پر تنقید صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہی بلکہ بعض اوقات پارٹی کے اندرونی حلقوں اور حتیٰ کہ عمران خان کے قریبی رشتہ داروں کی جانب سے بھی سامنے آتی ہے۔ جس سے پارٹی کے اندر اعتماد کا بحران مزید گہرا ہو جاتا ہے۔
انصار عباسی کے مطابق، اس وقت تحریک انصاف میں حقیقی اثر و رسوخ صرف دو قوتوں کے پاس ہے: ایک عمران خان، اور دوسرا سوشل میڈیا۔ مگر سوشل میڈیا کی طاقت، جو کہ ایک مثبت سیاسی بیانیہ تشکیل دے سکتی تھی، اب جذباتی ردعمل، غصے اور نفرت کے اظہار تک محدود ہو چکی ہے۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ پارٹی کا سنجیدہ بیانیہ کمزور پڑ گیا اور سیاسی حلقوں میں اس کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق تحریک انصاف کے نام نہاد "انقلابی” سوشل میڈیا کی ایک بڑی تعداد یا تو بیرونِ ملک بیٹھی ہے یا عملی سیاست سے عملی طور پر کٹی ہوئی ہے۔ دوسری جانب، ملک کے اندر موجود کارکنان بھی کسی بڑی قربانی، مزاحمت یا مستقل جدوجہد کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔ ووٹر اور سپورٹر کسی تکلیف یا جدوجہد کیلئے تیار نہیں، جبکہ رہنما اختیارات سے محروم ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پارٹی آگے کیسے بڑھے گی؟ انصار عباسی کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے دعوے انقلاب کے کیے جاتے ہیں، مگر عملی میدان میں خاموشی اور غیر فعالیت غالب ہے۔ یہی خلا بیانیے اور حقیقت کے درمیان فاصلے کو بڑھا رہا ہے، جو کسی بھی سیاسی تحریک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکہ نے انڈیا کو چھوڑ کر پاکستان کی عزت کیوں شروع کر دی؟
انصار عباسی کے مطابق تحریک انصاف کا سب سے بڑا چیلنج اب بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہے۔ ایک ایسی جماعت جو مقبول تو ہو مگر تنظیمی طور پر کمزور، قیادت کے بحران کا شکار اور غیر ذمہ دارانہ بیانیے میں الجھی ہو، وہ دیرپا اور مؤثر سیاست نہیں کر سکتی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف اس بحران سے نکل سکتی ہے؟ کیا وہ اپنے اندر نظم و ضبط، سنجیدگی اور عملی حکمت عملی پیدا کر پائے گی؟ یا پھر یہی اندرونی اختلافات اور کمزوریاں اسے مزید پیچھے دھکیل دیں گی؟ فی الحال اس کا جواب واضح نہیں، مگر ایک بات طے ہے: اگر تحریک انصاف نے اپنے اندرونی تضادات پر قابو نہ پایا، تو اس کی عوامی مقبولیت بھی اسے سیاسی طور پر مؤثر بنانے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔ آخرکار، سوال وہی ہے: تحریک انصاف کو کون بچائے گا؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں۔
