امریکہ نے انڈیا کو چھوڑ کر پاکستان کی عزت کیوں شروع کر دی؟

ایران اور امریکہ کی جنگ سے ثابت ہو گیا کہ انکل سام صرف طاقتور ملک کی عزت کرتا ہے، اور کمزور اور بے بس پر چڑھ دوڑتا ہے۔ جب تک انڈیا خود کو خطے کا چوہدری کہتا تھا، امریکہ کی ہمدردیاں اس کے ساتھ رہیں مگر مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ میں اسلام آباد کی فقید المثال کامیابی کے بعد امریکی ایوانوں میں پاکستانی اہمیت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے جبکہ بھارت عالمی سیاست میں ایک غیر متعلق ریاست بن کر رہ گیا ہے۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران جنگ میں ابھی تک بہت سی باتیں واضح ہونے والی ہیں۔ جنگ میں جیت کون رہا ہے اور پسپا کون ہو رہا ہے؟ آبنائے ہرمز پر قبضے کا دعویٰ کس کا سچا ہے؟ جنگ بندی کی تاریخ ختم ہونے پر جنگ شروع ہو گی یا ختم؟ دوبارہ مذاکرات ہو رہے ہیں یا نہیں؟ صدر ٹرمپ یا انکے نائب صدر ایک بار پھر پاکستان آئیں گے یا نہیں؟ جنگ کے نتیجے میں ایران مشکل میں آیا ہے یا امریکا؟ ریجیم چینج ایران میں ہو گی یا امریکا میں؟ عوام واشنگٹن میں حکومت کا تختہ الٹیں گے یا تہران میں؟ ابھی ابہام بہت ہیں۔ ابھی دنیا کو بہت سے فیصلے درپیش ہیں۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ اگرچہ موجودہ عالمی صورت حال میں شدید ابہام پایا جاتا ہے، تاہم اس جنگ کے دوران کئی امور واضح ہو چکے ہیں اور یہی اس کے اب تک کے نمایاں نتائج ہیں۔ آنے والے حالات کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، مگر موجودہ صورتحال کی بنیاد پر مستقبل کے نتائج ضرور متعین کیے جا سکتے ہیں۔
اپنے تجزیے میں عمار مسعود نے پہلا نتیجہ یہ اخذ کیا کہ پاکستان بدل نہیں رہا بلکہ بدل چکا ہے۔ ان کے مطابق اب یہ وہ ملک نہیں رہا جس کے سری لنکا بننے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے اور نہ ہی یہ وہ ریاست ہے جس کے دیوالیہ ہونے کی پیش گوئیاں کی جا رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اب ایک باوقار اور مستحکم ملک بن چکا ہے جو عالمی امن کے لیے ہر ممکن کردار ادا کر رہا ہے، اور اس کردار کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ اب پاکستانی پاسپورٹ باعث فخر بنتا جا رہا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس جنگی ماحول میں پاکستان نے وہ عزت کمائی جو اس کے مخالفین امن کے دور میں بھی حاصل نہ کر سکے۔
عمار مسعود کے بقول ایران اور امریکہ جنگ کا دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے حوالے سے اپنی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی کی ہے۔ اب پاکستان دہشتگردی کا شکار نہیں بلکہ دہشتگردوں کا تعاقب کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ افغانستان کے حوالے سے برادر اسلامی ملک کی پالیسی کو ترک کرتے ہوئے ایک حقیقت پسندانہ اور سخت ریاستی مؤقف اپنایا گیا، جس کے تحت سرحد پار عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی گئیں۔ اس پالیسی کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، چاہے دیگر خطوں میں کشیدگی برقرار رہے۔
تیسرے نتیجے کے طور پر انہوں نے پاکستان کے ہائبرڈ نظام کو مستحکم قرار دیا اور کہا کہ اس میں عسکری اور سیاسی قیادت ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سفارتی سطح پر بھی پاکستان نے مؤثر حکمت عملی اپنائی، جہاں ایک جانب عسکری قیادت امریکا میں موجود رہی تو دوسری جانب سیاسی قیادت نے سعودی عرب اور چین میں سفارتی روابط کو آگے بڑھایا۔ اس مربوط سفارتی کوشش نے عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف مضبوط کیا اور داخلی سطح پر بھی کسی قسم کی محاذ آرائی یا اختلاف سامنے نہیں آیا۔ اس صورتحال کے باعث سیاسی مخالفین، خصوصاً تحریک انصاف، کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں اور "ون پیج” کا تصور مزید مضبوط ہوا۔
عمار مسعود نے جنگ کا چوتھا نتیجہ یہ نکالا ہے کہ پاکستان کی ثالثی کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران، امریکا، چین اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک پاکستان کے کردار کو سراہ رہے ہیں اور اسے ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو کہ ایک بڑا سفارتی اعزاز ہے۔ اس جنگ کا پانچواں نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے دیرینہ اتحادیوں کو کسی بھی مرحلے پر نظر انداز نہیں کیا۔ اگرچہ امریکا کی جانب سے مثبت اشارے ملے، لیکن پاکستان نے سعودی عرب اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھا اور ہر اہم موقع پر ان سے رہنمائی حاصل کی۔ اس پالیسی سے نہ صرف اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ مستقبل میں مشکل وقت میں بھی یہ تعلقات پاکستان کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔
موجودہ جنگ کا چھٹا نتیجہ عمار مسعود کے مطابق مسلم امہ کا اتحاد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود بڑے مسلم ممالک نے تحمل اور حکمت کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تناؤ موجود رہا، تاہم سعودی قیادت نے بردباری کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان رابطے بحال ہوئے۔ یہ صورتحال مسلم دنیا کے اتحاد اور استحکام کے لیے مثبت اشارہ ہے۔
ساتواں نتیجہ یہ ہے کہ خلیجی ممالک کو دفاعی معاملات میں نئی حقیقت کا ادراک ہو رہا ہے۔ یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ صرف امریکا پر انحصار کرنا دانشمندانہ حکمت عملی نہیں، جس کے باعث یہ ممالک متبادل دفاعی شراکت داروں، خصوصاً پاکستان، کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے اس تناظر میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کو اہم قرار دیا۔ عمار کے مطابق جنگ کا آٹھواں نتیجہ یہ ہے کہ امریکا صرف طاقتور کا ساتھ دیتا ہے۔ جب تک بھارت خود کو خطے کی بڑی طاقت کے طور پر پیش کرتا رہا، امریکا کی ہمدردیاں اس کے ساتھ رہیں، تاہم حالیہ علاقائی تبدیلیوں کے بعد پاکستان کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ بھارت کی حیثیت کمزور پڑ گئی ہے۔ عمار نے ایران اور امریکہ کی جنگ کا نواں اور اہم ترین نتیجہ یہ نکالا ہے کہ دو متحارب ممالک کو امن قائم کرنے کا مشورہ تو دیا جا سکتا ہے، لیکن انہیں زبردستی امن پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ فریق سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کی راہ اختیار کریں۔
امریکہ اور ایران کے مابین دوبارہ جنگ چھڑنے کا امکان کیوں ہے؟
عمار مسعود کے مطابق عالمی صورتحال ایک نئے عالمی توازن کی طرف اشارہ کر رہی ہے، جہاں طاقت، سفارت کاری اور حکمت عملی کے امتزاج سے ہی مستقبل کے فیصلے طے ہوں گے۔
