امریکہ اور ایران کے مابین دوبارہ جنگ چھڑنے کا امکان کیوں ہے؟

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اگلے چند روز میں ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ ہونے کے دعوے کے برعکس اسلام آباد میں سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع امن کی طرف پیش رفت نہیں بلکہ صرف جنگ کا وقفہ ہے کیونکہ ایرانی قیادت امریکی مطالبات کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ ایسے میں دونوں ممالک کے مابین دوبارہ جنگ چھڑنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
ایران پر حملہ آور ہونے والے صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کی مدت میں غیر معینہ توسیع تو کر دی ہے لیکن دونوں فریقین کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے خطے میں غیر یقینی صورت حال بدستور برقرار ہے۔ اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب امیر سعید ایراوانی نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر دے تو ایرانی قیادت اسلام آباد مذاکرات کے دودرے راؤنڈ کے لیے تیار ہے۔ ان کا یہ موقف واضح کرتا ہے کہ ایران کی مذاکرات سے انکار کی سب سے بڑی وجہ بحری ناکہ بندی ہے جس کے خاتمے کی صورت میں پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر کی جانب سے ایران کو ڈیل کی آفر قبول نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، جنہیں مبصرین دباؤ کی سفارت کاری قرار دے رہے ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسی دھمکیاں ایرانی قیادت کے لیے داخلی مشکلات پیدا کر سکتی ہیں کیونکہ اس سے ان کی سیاسی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکا کو اعتماد سازی پر مبنی عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے، جن میں بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایرانی جہازوں کی رہائی شامل ہو سکتی ہے۔
ادھر پاکستان اس تمام صورت حال میں فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکہ میں سابق سفیر مسعود خالد کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار نہیں رہ سکتی اور عالمی دباؤ کے پیش نظر آئندہ چند میں چین اور امریکہ کے مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کا تسلسل مذاکرات جاری رکھنے کے لیے ضروری قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت کے جارحانہ بیانات سوچے سمجھے محسوس ہوتے ہیں کیونکہ امریکا نے ایرانی بحری جہازوں کو قبضے میں لے رکھا ہے جن پر اہل خانہ بھی موجود ہیں۔ ایسے میں اگر ایران فوری طور پر مذاکرات پر آمادہ ہو جاتا ہے تو اسے داخلی طور پر کمزوری یا سرنڈر کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کو اعتماد سازی کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
اس حوالے سے سید مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے سخت بیانات، خصوصا ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیاں، ایرانی قیادت کی داخلی پوزیشن کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں ایرانی قیادت پر امریکہ سے مذاکرات نہ کرنے کے لیے عوامی دباؤ میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی امن ڈیل کے لیے باہمی رضامندی ضروری ہوتی ہے، نہ کہ یکطرفہ شرائط منوانے کی کوشش کرنا۔
اسرائیل کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لبنان میں حملے اور مسجد اقصیٰ میں کارروائیاں اشتعال انگیز ہیں، تاہم اسرائیل خود بھی اس وقت عالمی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق روس اور چین بھی امن مذاکرات کی بحالی کے لیے سرگرم ہیں اور امکان ہے کہ آئندہ چند دنوں میں اچھی خبر سامنے آ سکتی ہے۔
سینیئر صحافی سہیل وڑائج کے مطابق ایران نے مذاکرات کے لیے دو بنیادی شرائط رکھی تھیں: آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا خاتمہ اور جنگ بندی میں توسیع۔ ان کے مطابق امریکا نے بظاہر ایک شرط تسلیم کی ہے لیکن دوسری کو نظرانداز کیا، جسکے باعث ایران نے مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں شرکت سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت سمندری راستوں کی ناکہ بندی غیر قانونی ہے اور ایران اسے باقاعدہ جنگی اقدام تصور کرتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کا جنگ بندی میں توسیع کا اعلان یکطرفہ ہے جسے ایران نے باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا۔
پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق ملک کی عسکری اور سیاسی قیادت، جن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی شامل ہیں، دونوں ممالک کے درمیان ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چین اور روس بھی فریقین پر مذاکرات کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، جس کے باعث اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کا امکان تاحال موجود ہے۔
ایرانی قیادت جنگ بندی کو مستقل امن کی جانب قدم کے بجائے ایک عارضی حکمت عملی قرار دے رہی ہے۔ ایرانی نژاد امریکی محقق ولی نصر کے مطابق یہ دراصل وقت حاصل کرنے کی کوشش ہے تاکہ امریکا اپنی کمزور ہوتی ہوئی مذاکراتی پوزیشن کو مضبوط کر سکے۔ ان کے مطابق یہ جنگ بندی انتہائی نازک ہے اور باہمی عدم اعتماد کے باعث کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔
ایران ہمیشہ مذاکرات اور معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے : ایرانی صدر
اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ثالث ممالک کا کردار اہم ضرور ہے، تاہم پائیدار حل کے لیے ایک جامع سیاسی فریم ورک ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق دونوں فریق اس جنگ بندی کو اپنے اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں، ایک طرف ایران داخلی استحکام چاہتا ہے تو دوسری طرف امریکا عالمی حمایت بحال کرنے کی کوشش میں ہے۔ تاہم جب تک بنیادی تنازعات حل نہیں ہوتے، یہ جنگ بندی محض ایک عارضی وقفہ ہی رہے گی اور کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔
