شہباز شریف کے سوٹ نے سویلین بالادستی کیسے قائم کی؟

 

 

 

وزیر اعظم شہباز شریف نے کم از کم لباس کے معاملے میں ملک میں سویلین بالادستی قائم کر دی ہے، اور غالباً ان کی یہی خوبی موجودہ ہائبرڈ سیاسی نظام کی کامیابی کا باعث بن رہی ہے۔ دوسری جانب دھیمے رنگوں کو ترجیح دینے والے شہباز شریف کے بڑے بھائی نواز شریف نے اب عمر بڑھنے کے ساتھ اپنے ملبوسات میں نمایاں تبدیلی کرتے ہوئے تیز شوخ رنگوں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

 

یہ دلچسپ اور غیر روایتی زاویۂ نگاہ معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق لباس محض جسم کو ڈھانپنے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کی شخصیت، سوچ، ترجیحات اور داخلی کیفیات کا عکاس بھی ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان بولنے سے پہلے اس کا لباس اس کے بارے میں بہت کچھ کہہ دیتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ مختلف افراد کے ملبوسات ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کوئی شخص روزانہ سفید لباس پہنتا ہے تو کوئی شوخ رنگوں کا انتخاب کرتا ہے، کوئی تنگ فٹنگ کپڑوں کو ترجیح دیتا ہے جبکہ کوئی ڈھیلے ڈھالے ملبوسات اختیار کرتا ہے۔

 

لباس پہنتے یعنی رنگوں کے انتخاب سے افراد کے مزاج، سوچ اور اندرونی کیفیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔حماد غزنوی کہتے ییں کہ حکمران طبقہ ہمیشہ سے اپنے لباس کو سیاسی اظہار کے طور پر استعمال کرتا آیا ہے۔ قدیم زمانے کے بادشاہ اپنے جاہ و جلال، دولت اور خاندانی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے مخصوص ملبوسات اختیار کرتے تھے، جو دراصل ایک سیاسی پیغام ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر مغل بادشاہ اکبر اعظم اپنے لباس میں مقامی ثقافتی عناصر شامل کر کے مختلف تہذیبوں اور مذاہب کے امتزاج کا اظہار کرتے تھے، جبکہ اودھ کے نواب واجد علی شاہ کے لباس ان کی عیش و عشرت بھری زندگی کی علامت سمجھے جاتے تھے۔

 

مغربی دنیا میں بھی لباس کو طاقت اور شناخت کے اظہار کے لیے استعمال کیا گیا۔ ملکہ الزبتھ اول موتیوں اور مخصوص کالر کے ذریعے اپنے تقدس اور “ورجن کوئین” امیج کو مضبوط کرتی تھیں، جبکہ ملکہ الزبتھ دوم شوخ یک رنگ لباس پہن کر اپنی نمایاں شناخت اور سلطنت کے استحکام کا پیغام دیتی تھیں۔

جدید دور میں بھی سیاستدان اپنے لباس کے ذریعے واضح پیغام دیتے ہیں۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ایک مخصوص جیکٹ پہن کر اپنے خاندانی تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ بھارتی سیاستدان ممتا بینرجی سادہ سوتی ساڑھیوں کے ذریعے عوامی سادگی کا تاثر دیتی ہیں۔

 

اسی طرح فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون جدید اور نفیس فیشن کے ذریعے پیرس کی فیشن شناخت کو اجاگر کرتے ہیں، جبکہ اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی پاور ڈریسنگ کے ذریعے اختیار اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا اظہار کرتی ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا مخصوص “مودی کرتا” مقامی صنعت اور ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ جنوبی افریقہ کے رہنما نیلسن منڈیلا افریقی پرنٹ والی شرٹس کے ذریعے ثقافتی فخر کا اظہار کرتے رہے۔

 

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ پاکستانی سیاست میں بھی لباس ایک اہم علامتی حیثیت رکھتا ہے۔ محمد علی جناح کے سوٹ، شیروانی اور جناح کیپ مختلف ادوار میں مختلف سیاسی اور نفسیاتی ضروریات کی ترجمانی کرتے تھے، جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کے لباس میں بھی وقت کے ساتھ تبدیلی دیکھی گئی۔ نواز شریف ماضی میں دھیمے رنگوں کو ترجیح دیتے تھے، تاہم حالیہ عرصے میں ان کے ملبوسات میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے اور انہوں نے سرخ اور زرد رنگ کے ملبوسات بھی استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔

 

حماد غزنوی نے ایک بین الاقوامی فیشن رائٹر ڈیرک گائے کی سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے لباس کی تعریف کرتے ہوئے ان کی ایک تصویر شیئر کی، جس میں وہ بیج beige رنگ کے سلم فٹ سوٹ میں ملبوس تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہلکے رنگ کے سوٹ کو عمومی طور پر سکون، اعتماد اور نفاست کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور شہباز شریف نہ صرف مہنگے کپڑوں بلکہ مختلف رنگوں کے امتزاج کے ذریعے خود کو ایک منفرد سٹائل پیش کرتے نظر ہیں۔

امریکہ اور ایران کے مابین دوبارہ جنگ چھڑنے کا امکان کیوں ہے؟

حماد غزنوی کے مطابق شہباز شریف کے لباس میں آنے والی تبدیلی ایک “ملبوساتی انقلاب” سے کم نہیں، کیونکہ وہ ماضی میں شلوار قمیص اور واسکٹ میں نظر آتے تھے، جبکہ اب وہ جدید اور نفیس سوٹ کو ترجیح دیتے ہیں، جو ان کے بدلے ہوئے سٹائل سینس کی عکاسی کرتا ہے۔ حماد غزنوی نے وزیراعظم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ صرف اپنے لباس کے ذریعے ایک منفرد شناخت قائم کی بلکہ کم از کم اس میدان میں تو سویلین بالادستی کا تاثر مضبوط کیا ہے جو موجودہ سیاسی منظرنامے میں ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

 

Back to top button