ایران امریکا جنگ بندی نے پاکستان کو ڈیجیٹل کنگ کیسے بنایا؟

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں نے پاکستان کو نہ صرف سفارتی میدان میں کامیابی دلائی بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی اسے ٹاپ ٹرینڈ بنا دیا۔ایک ایسا وقت میں جب دنیا کی نظریں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر مرکوز تھیں، وہیں پاکستان نے ثالثی کے ذریعے ایک غیر متوقع مگر مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے خود کو عالمی اسٹیج پر نمایاں کر لیا۔ یہی وہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان محض ایک علاقائی کھلاڑی نہیں رہا بلکہ عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔
مبصرین کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور نے دنیا بھر کے میڈیا اور پالیسی ساز حلقوں کی نظریں پاکستان کی جانب مبذول کر دیں۔ خاص طور پر وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار عالمی سطح پر نمایاں رہا، جنہیں اس پیش رفت کا مرکزی چہرہ سمجھا گیا۔ جہاں دنیا بھر میں الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر ان کے مثبت کردار کی ستائش کی گئی وہیں ڈیجیٹل سطح پر بھی پاکستان کی اس سفارتی سرگرمی کے اثرات واضح طور پر دیکھنے میں آئے۔ گوگل ٹرینڈز کے مطابق 8 اپریل کے بعد پاکستان سے متعلق سرچ انٹرسٹ میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ نہ صرف پاکستان بلکہ اسلام آباد، شہباز شریف اور عاصم منیر جیسے نام کئی دنوں تک عالمی ٹاپ ٹرینڈز میں شامل رہے۔ یہ رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا بھر میں اس پیش رفت کو کس قدر سنجیدگی سے دیکھا جا رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکا، ایران، اسرائیل، برطانیہ اور مشرقِ وسطیٰ و جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں پاکستان سے متعلق سرچز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس بڑھتی ہوئی دلچسپی نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں صرف خطے تک محدود نہیں رہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کا اثر محسوس کیا جا رہا ہے۔
عالمی میڈیا نے بھی پاکستان کے ثالثی کے کردار کو بھرپور کوریج دی۔ اسلام آباد مذاکرات، امن کی کوششیں اور کشیدگی کم کرنے کی حکمت عملی عالمی خبروں کا مرکزی موضوع بنے رہے۔ مختکف عالمی ذرائع ابلاغ میں خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایک مؤثر ثالث کے طور پر پیش کیا گیا جبکہ شہباز شریف کے سفارتی بیانات اور روابط کو بھی نمایاں اہمیت دی گئی۔
ڈیجیٹل ماہرین کے مطابق، گوگل پر روزانہ اربوں سرچز ہوتی ہیں، ایسے میں کسی ایک ملک کا اچانک عالمی ٹرینڈ بن جانا معمولی بات نہیں بلکہ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ وہ ملک عالمی توجہ کے مرکز میں آ چکا ہے۔ پاکستان کے ساتھ بھی یہی ہوا۔جہاں اس کی سفارتی کامیابی نے اسے نہ صرف عالمی میڈیا بلکہ عوامی سطح پر بھی نمایاں کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت اس امر کی عکاس ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مؤثر سفارتی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سوال اب یہ ہے کہ کیا یہ توجہ وقتی ہے یا پاکستان اس موقع کو مستقل عالمی اثر و رسوخ میں تبدیل کر پائے گا؟ مبصرین کے مطابق فی الحال ایک بات واضح ہے کہ اپریل 2026 میں دنیا پاکستان کو دیکھ رہی تھی اور شاید آنے والے دنوں میں بھی وہ پاکستان کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتی رہے گی۔
امریکہ نے انڈیا کو چھوڑ کر پاکستان کی عزت کیوں شروع کر دی؟
امریکی جریدے دی اٹلانٹک کے مطابق عالمی سطح پر ایران-امریکا مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی پوزیشن نمایاں طور پر مضبوط ہوئی ہے، جبکہ بھارت عالمی منظرنامے میں پس منظر کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ حالیہ صورتحال کے بعد بھارت کا خود کو عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کا طویل المدتی خواب کمزور پڑتا نظر آ رہا ہے،رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوا، تاہم اس کے باوجود عالمی توجہ کا مرکز پاکستان ہی رہا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس پیش رفت پر نئی دہلی میں ملے جلے مگر مجموعی طور پر محتاط ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں بعض حلقوں نے اس پیش رفت کو بھارت کے لیے سفارتی ناکامی کے طور پر بھی دیکھا۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والا امریکہ ایران مذاکرات کا پہلا دور اگرچہ معاہدے کے بغیر ختم ہوا، مگر اس کے باوجود پاکستان نے ثالثی کا کردار برقرار رکھا ہے اور آئندہ چند روز میں مذاکرات کے دوسرے دور کی توقع کی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال خطے میں سفارتی توازن کو نئی شکل دے رہی ہے، جہاں پاکستان اب نمایاں مقام حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے جبکہ مودی سرکار بھارتی اپوزیشن اور عوام کے نشانے پر ہے۔
