پاکستان کے ہاتھوں شکست: مودی کی دھلائی کا سلسلہ تیز کیوں ہو گیا؟

مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان کے ہاتھوں شرمناک شکست پر بی جے پی سرکار کی انڈین پارلیمنٹ میں دھلائی اور ٹھکائی کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے، لیکن وزیراعظم مودی اس حوالے سے ابھی تک خاموش ہیں۔ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد پاکستان ہر بھارتی حملے کو تین ماہ ہو چکے لیکن انڈیا میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی سے اِس ضمن میں پوچھے گئے سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔
اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کی شدید تنقید اور بارہا مطالبات کے بعد مودی حکومت نے پارلیمان کے ایوان زیریں کا اجلاس 28 جولائی کو طلب تو کیا لیکن اس میں حکومتی وزرا کی تقریروں اور وضاحتوں نے بظاہر معاملات کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھا دیا ہے۔ اجلاس کا آغاز شور شرابے سے ہوا جس کے باعث سپیکر کو ہاؤس کی کارروائی دو مرتبہ معطل کرنی پڑی اور پھر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ’آپریشن سندور‘ اور متعلقہ معاملات کے حوالے سے حکومت کا مؤقف ایوان کے سامنے پیش کیا، لیکن اپوزیشن کی جانب سے بھونڈا موقف پیش کرنے پر مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا گیا۔
اگرچہ اپوزیشن جماعتیں ’آپریشن سندور‘ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تفصیل براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی کی زبانی سُننا چاہتی تھی لیکن وہ پارلیمان کے اس اجلاس میں پہلے روز موجود نہیں تھے جس کے باعث اپوزیشن ارکان نے کافی احتجاج کیا۔ مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کے خطابات کو سراہتے ہوئے وزیر دفاع کی تقریر کا کلپ شیئر کیا اور لکھا کہ ’وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بہترین تقریر کی، جس میں انڈیا کے سکیورٹی آپریٹس کی کامیابی اور آپریشن سندور میں ہماری مسلح افواج کی ہمت کا بصیرت انگیز نقطہ نظر پیش کیا گیا۔‘ اس کے ساتھ ہی انھوں نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی تقریر کا کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ڈاکٹر جے شنکر جی کی تقریر شاندار تھی۔ انھوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح دنیا نے آپریشن سندور کے ذریعے دہشت گردی کی لعنت سے لڑنے کے بارے میں انڈیا کے نقطہ نظر کو واضح طور پر سُنا ہے۔‘
مودی کے ان توصیفی کلمات سے قطع نظر حزب اختلاف نے پارلیمان میں مزید نئے سوالات کھڑے کیے اور وزیر اعظم مودی اور ان کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ نے اپنی تقریر میں کہا کہ مودی حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ مذاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ پاکستان کے ذہن میں ایک غلط فہمی تھی، ہم نے اسے آپریشن سندور کے ذریعے دور کیا، اگر کچھ رہ گیا تو اسے بھی دور کر دیں گے۔ لیکن ان کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے بھارتی اپوزیشن رہنماؤں نے موقف اختیار کیا کہ دراصل پاکستان نے انڈیا کی غلط فہمی نکالی اور حالات ایسے ہو گے کہ جنگ بندی کے لیے انڈیا کو ٹرمپ کی مدد لینا پڑی۔ جب اپوزیشن رہنماؤں نے یہ سوال کیا کہ بتایا جائے کہ پاکستان کے ساتھ جنگ میں انڈیا کے کتنے جنگی جہاز تباہ ہوئے تو راج ناتھ سنگھ نے حزب اختلاف کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ سوال ہمارے قومی جذبات کی نمائندگی نہیں کرتا۔
بھارتی وزیر دفاع نے کہا کہ ’یہ کہنا غلط ہے کہ پاکستان کے خلاف بھارتی فوجی کارروائی امریکی دباؤ کی وجہ سے روکی گئی۔ انڈیا نے اپنا آپریشن اتب ہی روکا جب تمام عسکری مقاصد حاصل ہو گئے۔ تام جوابی تقاریر میں اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ 25 سے زائد بار یہ دعوی کر چکے ہیں کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کی جنگ رکوانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں ان میں واضح طور پر زیادہ نقصان بھارت کا ہوا ہے جس کے پائلٹ بھی مارے گئے اور جہاز بھی تباہ کر دیے گئے۔
لیکن وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپنی تقریر میں ایک مرتبہ پھر امریکی ثالثی بارے بات کرتے ہوئے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ انھوں نے ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ 9 مئی کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وزیر اعظم مودی کو فون کیا اور انھیں بتایا کہ پاکستان اگلے چند گھنٹوں میں بڑا حملہ کر سکتا ہے۔ ’وزیراعظم نے واضح کیا کہ اگر ایسا حملہ ہوا تو ہماری طرف سے مناسب جواب دیا جائے گا۔ تاہم امریکی حکام واضح طور پر بتا چکے ہیں کہ جنگ بندی کے لیے بھارت نے صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا تھا۔
بھارتی پارلمنٹ میں جنگ پر بحث کے دوران اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ اگر بقول مودی پاکستان جنگ کے دوران گھٹنے ٹیکنے کو تیار تھا تو پھر آپ کیوں جُھکے اور صدر ٹرمپ کے سامنے ہتھیار کیوں ڈالے؟ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’راج ناتھ سنگھ نے وزیر دفاع ہونے کے ناطے اب تک یہ نہیں بتایا کہ پہلگام میں دہشت گرد کیسے پہنچے؟ کچھ اپوزیشن اراکین نے یہ سوال بھی کیا کہ اگر پاکستان واقعی پہلگام حملے میں ملوث تھا تو بھارتی کرکٹ ٹیم کس منہ کے ساتھ اس کے ساتھ ایشیا کپ کھیلنے جا رہی ہے؟
