آئی ایم ایف کا اخراجات کم کرنے یا189ارب کے مزید ٹیکس لگانے کامطالبہ

آئی ایم ایف نے پاکستانی حکومت سےاخراجات کم کرنے یا 189 ارب کے مزید ٹیکس لگانے کا مطالبہ کردیا۔
وزیر خزانہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطح پر مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان نے پیر کے روز آئی ایم ایف کو مطلع کیا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ٹیکس مشینری نے ریٹیلرز، تھوک فروشوں اورڈسٹری بیوٹرز سے11 ارب روپے جمع کیے ہیں۔
تاہم، تاجِر دوست اسکیم کے بارے میں توقعات پوری نہیں ہو سکیں اور اس مخصوص اسکیم کے ذریعے ٹیکس کی جمع شدہ رقم تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صرف17لاکھ روپےہےجب کہ پہلی سہ ماہی کےلئے مقرر کردہ ہدف 10 ارب روپے تھا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نےآئی ایم ایف کےوفد کےساتھ بات چیت کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا۔
سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال اور چیئرمین ایف بی آررشید محمود لنگریال نے آئی ایم ایف وفد کے ساتھ پہلے سیشن کا آغاز کیا جو11 سے15نومبر2024 تک اسلام آباد میں قیام پذیر رہے گا۔یہ دیکھنا باقی ہےکہ آئی ایم ایف کس طرح جواب دیتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت کےلیےآئی ایم ایف کومطمئن کرنا مشکل ہوگا۔
آئی ایم ایف دو اختیارات کی تجویزدے رہا ہےیا تو ایک منی بجٹ پیش کیا جائے تاکہ ایف بی آر کوپہلےچار مہینوں میں ہونےوالے189ارب روپے کےمحصولات کے خسارےکوپورا کیاجا سکےیاغیر محدوداخراجات کو کم کرنےکا قابل عمل منصوبہ تیار کیاجائے۔
ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ ٹی ڈی سی کا مقصد صرف ریٹیلرز اور تھوک فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا تھا لیکن اس کا ہدف حاصل ہو چکاہے کیونکہ ایف بی آر نےپہلی سہ ماہی میں عام ٹیکسیشن کے ذریعے ان سے اضافی 11 ارب روپے جمع کیےہیں۔
انکم ٹیکس قانون کے سیکشن236جی کےتحت ایف بی آر نے نان فائلرز کو مصنوعات فروخت کرنے پر ٹیکس کی شرح تقریباً10 گنا بڑھا دی جس کی وجہ سے سخت اقدامات اورخوف کے تحت ریٹیلرز اور تھوک فروشوں نےٹیکس نیٹ میں شامل ہونے کو ترجیح دی اور30ستمبر2024 تک اضافی ٹیکس کےطور پر11 ارب روپے جمع کرائے۔
ریٹرن فائلرز کی تعداد میں بھی خاطرخواہ اضافہ ہواہے جس سے ملک میں معیشت کی دستاویزسازی کا عمل تیز ہو گیا ہے۔
