افغان شہریوں کی ملک بدری: طالبان کے نمائندے جرمنی پہنچ گئے

جرمن حکومت نے تصدیق کی ہے کہ طالبان انتظامیہ کی جانب سے نامزد کردہ دو افغان نمائندے جرمنی پہنچ چکے ہیں۔ ان نمائندوں کا مقصد جرمنی میں مقیم ان افغان شہریوں کی ملک بدری میں معاونت کرنا ہے جنہیں جرمن عدالتوں نے مجرم قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں جرمنی نے 81 افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیجا ہے۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق جمعے کو ملک بدری کے سلسلے میں جرمنی سے افغانستان جانے والی پرواز، گزشتہ سال اس عمل کی بحالی کے بعد دوسری پرواز تھی۔ اگرچہ جرمنی اب تک طالبان حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کرتا، تاہم ملک بدری جیسے معاملات پر تکنیکی سطح پر رابطے جاری ہیں، جنہیں قطر کی معاونت سے ممکن بنایا جا رہا ہے۔
جرمن حکومت کے ترجمان اسٹیفن کورنیلیئس کے مطابق دونوں ممالک کے مابین بات چیت کے بعد یہ طے پایا کہ طالبان کے دو نمائندے جرمنی میں افغان سفارتی مشنوں کا حصہ ہوں گے۔ جرمن وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق یہ دونوں افراد ہفتے کے اختتام پر جرمنی پہنچ چکے ہیں اور فی الوقت معمول کے رجسٹریشن کے عمل سے گزر رہے ہیں۔
روزنامہ ’فرانکفرٹر الگمائنے زائتونگ‘ کے مطابق یہ نمائندے برلن میں افغان سفارتخانے اور بون میں افغان قونصل خانے میں خدمات انجام دیں گے۔ اخبار کا دعویٰ ہے کہ طالبان حکام نے گزشتہ ہفتے کی پرواز کے بدلے میں ان نمائندوں کی تعیناتی کی درخواست کی تھی۔ ذرائع کے مطابق یہ دونوں افراد ماضی میں بھی قونصلر امور میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور انتہاپسند نظریات سے وابستہ نہیں سمجھے جاتے۔
طالبان کی اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد جرمنی نے افغانستان کے لیے ملک بدریوں کا عمل معطل کر دیا تھا اور کابل میں اپنا سفارتخانہ بھی بند کر دیا تھا۔ تاہم گزشتہ سال اگست میں جرمن حکومت نے 28 افغان باشندوں کو واپس بھیج کر یہ عمل دوبارہ شروع کر دیا تھا۔
جرمنی کے موجودہ چانسلر فریڈرک مرز نے غیر قانونی مقیم یا جرائم میں ملوث افراد کی ملک بدری کے عمل کو اپنی حکومت کی ترجیح قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ایک یا دو پروازوں سے یہ عمل مکمل نہیں ہوگا بلکہ مزید پروازیں بھی متوقع ہیں۔
ایران کا دوٹوک مؤقف: یورینیم افزودگی جاری رہے گی
دوسری جانب اقوام متحدہ نے کابل میں حالیہ دنوں میں خواتین کی گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یونائیٹڈ نیشنز اسسٹنس مشن اِن افغانستان (یوناما) کے مطابق 16 سے 19 جولائی کے دوران متعدد خواتین اور لڑکیوں کو طالبان کے نافذ کردہ لباس کے ضابطوں کی مبینہ خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔
طالبان حکومت کی جانب سے خواتین پر سخت اسلامی ضوابط نافذ کیے گئے ہیں، جن کے تحت ان پر لازم ہے کہ وہ مکمل حجاب اور باپردہ لباس زیب تن کریں۔
یوناما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا ہے کہ یہ گرفتاریاں خواتین کو مزید تنہائی کی طرف دھکیلتی ہیں، معاشرے میں خوف کا ماحول پیدا کرتی ہیں اور عوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہیں۔ ادارے نے بتایا کہ اس معاملے پر طالبان حکام سے رابطہ کیا جا چکا ہے۔
ایک مقامی عینی شاہد نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کابل میں وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ایک ٹیم نے دو خواتین کو گاڑی میں سوار ہونے کا حکم دیا، جنہوں نے عبایا پہن رکھی تھی اور میک اپ کیا ہوا تھا۔ جب انہوں نے انکار کیا تو ایک مسلح اہلکار نے انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے جایا۔
