سولر سسٹمز سستے ہونے کے باوجود عام آدمی کی پہنچ سے باہر کیوں؟

 

 

 

پاکستان میں حالیہ چند برسوں میں بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں، لوڈشیڈنگ اور توانائی کے بحران کے باعث سولر پینلز کی درآمد اور تنصیب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ بجلی کی قیمت اور سولر سسٹمز کی ڈیمانڈ میں اضافے کے باوجود حالیہ چند مہینوں میں سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے تاہم اس کے باوجود آج بھی کم آمدنی والے گھرانے اور چھوٹے کاروباری حضرات شمسی توانائی تک رسائی اور سولر سسٹم کی تنصیب سے مالی فائدہ حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ عوام سورج کی روشنی سے بھرپور استفادہ کرنے میں ناکام کیوں ہیں؟

 

ماہرین کے مطابق اگر سولر سسٹم کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے تو بظاہر یہ پہلے کے مقابلے میں سستے ضرور ہوئے ہیں، مگر عام شہری کے لیے یہ اب بھی ایک بڑا مالی بوجھ ہیں۔ اس وقت پاکستان میں ایک کلوواٹ سولر سسٹم کی قیمت تقریباً 2 لاکھ سے 2 لاکھ 70 ہزار روپے کے درمیان ہے۔ تین کلوواٹ کا سولر سسٹم عموماً 4 لاکھ 20 ہزار سے 5 لاکھ 50 ہزار روپے میں دستیاب ہے، جبکہ پانچ کلوواٹ کا نظام 7 لاکھ 50 ہزار سے 8 لاکھ 50 ہزار روپے تک پڑتا ہے۔ دس کلوواٹ سولر سسٹم کی قیمت 11 لاکھ 50 ہزار سے لے کر 14 لاکھ 50 ہزار روپے تک جا سکتی ہے۔ ان قیمتوں میں سولر پینلز، انورٹر، اسٹرکچر اور بنیادی انسٹالیشن شامل ہوتی ہے، لیکن اگر بیٹری شامل کی جائے تو لاگت مزید بڑھ جاتی ہے، ابتدائی طور پر اتنی رقم کا انتظام عام صارف کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے اس لئے پاکستانی عوام سولرانرجی سے مکمل استفادہ کرنے سے محروم ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق سولر سسٹم مہنگا ہونے کی سب سے بڑی وجہ اس کی ابتدائی لاگت ہے۔ اگرچہ سولر بجلی مستقبل میں بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی لاتی ہے، مگر کم وسائل کی وجہ سے ایک عام خاندان کے لیے ایک ہی وقت میں کئی لاکھ روپے خرچ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ بیشتر لوگ ماہانہ بجلی کا بل تو ادا کر سکتے ہیں، لیکن یکمشت بڑی رقم جمع کر کے سولر لگوانا ان کی مالی استطاعت سے باہر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سولر کا فائدہ زیادہ تر وہی لوگ اٹھا رہے ہیں جو پہلے ہی مالی طور پر مستحکم ہیں۔

 

ماہرین کے بقول اس حوالے سے ایک اور بڑی رکاوٹ سولر سسٹمز کا قومی گرڈ سے مؤثر طور پر منسلک نہ ہونا ہے۔ بہت سے صارفین آف گرڈ سولر سسٹم لگاتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ سورج نہ ہونے کی صورت میں یا رات کے وقت انہیں دوبارہ قومی گرڈ یا مہنگی بیٹریوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اب تو حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے ذریعے اضافی بجلی قومی گرڈ کو فروخت کرنے کا نظام بھی بدل دیا گیا جس کی وجہ سے بہت کم لوگ اس سہولت سے فائدہ اٹھا پاتے ہیں۔

 

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ عوام کے رہائشی مسائل بھی سولر توانائی کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ شہروں میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو فلیٹس یا کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں، جہاں نہ تو چھت تک رسائی ہوتی ہے اور نہ ہی سولر پینلز لگانے کی اجازت ملتی ہے۔ مشترکہ چھتوں، قانونی پیچیدگیوں اور ملکیتی مسائل کی وجہ سے اپارٹمنٹ میں رہنے والا متوسط طبقہ سولر سے تقریباً محروم رہ جاتا ہے، جبکہ ذاتی گھروں اور بڑی چھتوں کے مالک افراد آسانی سے اس سہولت سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔

 

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سولر انقلاب آیا ضرور ہے، مگر یہ انقلاب یکساں نہیں۔ ان کے مطابق پالیسی سازی اور ریگولیٹری نظام تیزی سے بدلتی ہوئی توانائی کی ضروریات کے مطابق ہم آہنگ نہیں ہو سکا۔ اگر حکومت سولر سسٹمز پر مؤثر سبسڈی، آسان اقساط پر قرضے، اور گراس میٹرنگ کے نظام کو سادہ اور تیز بنا دے تو عام شہری بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ماہرین کے بقول بیٹریوں کی زیادہ قیمت، تکنیکی آگاہی کی کمی اور ناقص انسٹالیشن کا خوف بھی لوگوں کے سولر سسٹمز کی تنصیب میں بڑی رکاوٹ ہے۔

پاکستانی اوپن مارکیٹ میں ڈالر اچانک غائب کیوں ہو گئے؟

انرجی ماہرین کے مطابق پاکستان میں سولر توانائی تکنیکی طور پر سستی ہونے کے باوجود عام عوام کے لیے مکمل طور پر قابلِ رسائی نہ ہونے کی بنیادی وجوہات میں بھاری ابتدائی لاگت، رہائشی مسائل، بیٹری اور اضافی آلات کی قیمت، اور پیچیدہ سرکاری و تکنیکی نظام شامل ہیں۔ جب تک حکومت اور متعلقہ ادارے عام شہری کو مالی اور انتظامی سہولت فراہم نہیں کرتے، سولر توانائی کا فائدہ چند طبقوں تک محدود رہے گا اور اکثریتی عوام اس سستی توانائی سے محروم ہی رہیں گے۔

Back to top button