اسرائیل ایرانی نیوکلیئر پروگرام تباہ کرنے میں کامیاب ہوا یا نہیں؟

اسرائیل نے ایرانی نیوکلیئر تنصیبات پر حملے کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کا مقصد تہران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنا تھا چونکہ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو ایران بہت جلد نیوکلیئر طاقت بننے جا رہا تھا۔ تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اسرائیلی حملوں میں ایران کے نیوکلیئر پروگرام کا کتنا نقصان ہوا ہے اور آیا اس کی جوہری صلاحیت متاثر ہوئی ہے یا نہیں؟

جوہری توانائی اور یورینیم افزودگی کے عالمی نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملوں میں نطنز Natanz شہر میں واقع ایران کے نیوکلئیر افزودگی کی مرکزی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
جوہری توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران میں حکام نے انھیں مطلع کیا ہے کہ نطنز پر حملے کے بعد اس جوہری تنصیب میں تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل ایرانی نیوکلیئر پروگرام کو تباہ کرنے میں مکمل کامیابی حاصل نہیں کر پایا۔ جوہری توانائی ایجنسی نے مزید کہا کہ وہ ایرانی حکام کے ساتھ نطنز کی نیوکلئیر سائٹ پر تابکاری کی سطح کے معائنے کے ساتھ ساتھ ایران میں اپنے معائنہ کاروں سے رابطے میں ہیں۔

ایرانی نیوکلئیر اور فوجی اہداف پر حملوں کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ‘اگر ایران کو روکا نہ جاتا’ تو یہ انتہائی کم وقت میں جوہری ہتھیار بنانے کے قابل ہو جاتا۔ یاد رہے کہ ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کو چار اہم شاخوں میں تقسیم کر رکھا یے، یعنی تحقیقی مراکز، مخصوص افزودگی کے مقامات، جوہری ری ایکٹر اور یورینیم کی کانیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ یہ جوہری تنصیبات کہاں کہاں موجود ہیں اور کتنی صلاحیت کی حامل ہیں؟ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے نطنز میں واقع ایران کے سب سے بڑے یورینیم افزودگی کے ‘مرکز’ کو نشانہ بنایا ہے۔

نطنز Natanz ایران میں یورینیئم کی افزودگی کا اہم مقام ہے، جو تہران سے تقریباً 250 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ پلانٹ فروری 2007 سے کام کر رہا ہے۔ یہ ایرانی سائٹ تین بڑی زیر زمین عمارتوں پر مشتمل ہے، جو 50,000 سینٹری فیوجز centrifuges کو چلانے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس وقت وہاں 14,000 سینٹری فیوجز نصب ہیں، جن میں سے 11,000 کام کر رہے ہیں، تاکہ یورینیم کو مخصوص حد تک صاف کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ یورینیم نیوکلیئر ہتھیار بنانے میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ تاہم ایران کا دعوی ہے کہ وہ پرامن مقاصد کے لیے یورینیم تیار کرتا ہے۔

نطنز پلانٹ میں تیار یورینیم نیوکلیئر پاور پلانٹس کے لیے ایندھن پیدا کرنے کے لیے موزوں ہے، تاہم اسے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے درکار 90 فیصد سطح تک بھی افزودہ کیا جا سکتا ہے۔ نومبر 2014 میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی جانب سے لیے گئے ماحولیاتی نمونوں کے تجزیے سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یہ سہولت کم افزودہ یورینیم بنانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھی، جس سے ایران کے جوہری ارادوں کے بارے میں خدشات بڑھ گئے تھے۔ نطنز ماضی میں بھی سائبر حملوں اور تخریب کاری کا بھی نشانہ بن چکا ہے، سال 2020 میں اس مقام پر آگ لگ گئی تھی اور ایرانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پس پشت ‘سائبر’ تخریب کاری کی کارروائی تھی۔ سال 2021 میں ایران نے اعلان کیا تھق کہ اس سہولت کو ‘جوہری دہشت گردی کی کارروائی’ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بوشھر نیوکلیئر پاور پلانٹ ایران کہ ایک اور اہم نیوکلیئر سائٹ ہے۔ یہ واحد نیوکلئیر پاور پلانٹ ہے جو خلیج فارس کے ساتھ واقع ہے۔ واضح رہے کہ ایران کا جوہری پروگرام سنہ 1974 میں جرمنی کی مدد سے بوشھر میں ہی دو کمرشل جوہری ری ایکٹر بنانے کے منصوبے کے ساتھ شروع ہوا، لیکن پانچ سال بعد اسلامی انقلاب کے ساتھ ہی اس منصوبے پر کام رُک گیا تھا۔ ایران نے سنہ 1990 کی دہائی میں روس کے ساتھ اس منصوبے پر دوبارہ کام شروع کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ لیکن اس دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ معاملہ اٹھايا گیا اور ایران میں یورینیم کی افزودگی کو روکنے کے لیے قراردادیں منظور ہوئیں جس کی وجہ سے ماسکو کی جانب سے تاخیر ہوئی۔

ایران کے تازہ ترین جوہری منصوبے کی تعمیر کا کام سال 2022 میں ملک کے جنوب مغرب میں تیل کی دولت سے مالا مال صوبہ خوزستان میں شروع ہوا جس کی مجوزہ صلاحیت 300 میگا واٹ بتائی جاتی ہے۔ ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق جوہری توانائی سے چلنے والے اِس پاور پلانٹ کی تعمیر میں آٹھ سال لگیں گے اور اس پر تقریباً دو ارب ڈالر کے اخراجات آئيں گے۔ ایران نے رواں سال مئی میں اعلان کیا تھا کہ وہ اس موسم خزاں میں کارون جوہری پاور پلانٹ کے لیے ‘جوہری جزیرے’ کی تعمیر شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایرانی منصوبے کے مطابق اس جزیرے میں عمارتوں اور سہولیات کا ایک کمپلیکس شامل ہو گا جو جوہری پاور پلانٹ میں جوہری ری ایکٹر کے آپریشن کو یقینی بنائے گا۔

Back to top button