کیا امریکہ نے ایران کو مذاکرات میں الجھا کر اسرائیل سے حملہ کروایا؟

اسرائیل نے ایران کی نیوکلیئر اور فوجی تنصیبات پر حملہ کر کے تہران اور واشنگٹن کے مابین ایرانی نیوکلیئر پروگرام کو محدود کرنے کے لیے جاری مذاکرات تارپیڈو کر دئیے ہیں۔ ایران نے اپنے ردعمل میں اسرائیل پر بھرپور جوابی حملوں کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ پر ان حملوں میں معاونت کا الزام عائد کیا ہے۔ ایران کے خیال میں امریکہ نے تہران سے مذاکراتی عمل کی آڑ میں اسرائیل کو حملوں کی ترغیب دی لہذا ایرانی جوہری پروگرام پر واشنگٹن کے ساتھ جاری مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 13 جون 2025 کو ایرانی نیوکلیئر اور فوجی تنصیبات پر اسرائیلی حملوں سے صرف 24 گھنٹے پہلے، 12 جون 2025 کو جوہری توانائی اور یورینیم افزودگی کے عالمی نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے ایران کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کی منظوری دیتے ہوئے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ایران نیوکلئیر عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کر رہا ہے۔ تو ہم ایران نے اس الزام کو سختی سے رد کر دیا تھا۔ اس حوالے سے مزید ڈیویلپمنٹ اتوار کو ہونا تھی جب واشنگٹن اور تہران کے مابین ایرانی نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کا اگلا دور جو دنیا ہونا تھا، لیکن اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے ان مذاکرات کا خاتمہ کر دیا ہے۔

برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف پیش کردہ قرارداد کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے 35 رکنی بورڈ آف گورنرز نے منظور کیا، جن میں 19 ارکان نے اس کی حمایت میں، تین نے مخالفت جبکہ 11 ممالک نے غیر جانبداری اختیار کی جبکہ دو ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ 12 جون کو ایران کے خلاف منظور کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ ایران نے جوہری عدم پھیلاؤ کے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ’بورڈ آف گورنرز اعلان کرتا ہے کہ ایران 2019 سے خفیہ مقامات پر غیر اعلانیہ نیوکلئیر سرگرمیوں کے بارے میں ایجنسی کے ساتھ مکمل اور بروقت تعاون فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایسا کرنا عالمی ایجنسی کے ساتھ حفاظتی معاہدے کی ذمہ داریوں کی عدم تعمیل ہے۔
قراردار میں ایران کے یورینیم کے ذخیرے کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جسے نیوکلئیر ہتھیار بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے اس قرارداد کو ’سیاسی‘ قرار دیتے ہوئے سختی سے رد کر دیا اور اعلان کیا کہ وہ یورینیم افزودگی کے لیے ایک نیا مرکز کھولے گا۔ یاد رہے کہ ایران پر اسرائیلی حملے سے چند روز پہلے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ایران کے پاس 60 فیصد تک خالص یورینیم افزودہ ہے، جو کہ ممکنہ طور پر 9 عدد جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں مکمل طور پر پرامن ہیں اور وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

یاد رہے کہ چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 کے ایک تاریخی معاہدے کے تحت، ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے اور آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی طرف سے مسلسل نگرانی کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے اس کے بدلے میں اقتصادی پابندیوں میں نرمی حاصل کی تھی۔ تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے 2018 میں اپنے پہلے دور صدارت کے دوران اس جوہری معاہدے کو ترک کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاہدہ ایران کو ایٹمی بم بنانے سے روکنے میں ناکام رہا ہے۔ اسکے بعد امریکہ نے ایران پر عائد پابندیوں کو مزید سخت کر دیا تھا۔ سال 2019 کے بعد سے ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر موجودہ نیوکلئیر معاہدے کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی، خاص طور پر ان شقوں کی جو افزودہ یورینیم کی پیداوار سے متعلق ہیں۔

دوسری جانب امریکہ اور ایران کے مابین ایرانی نیوکلیئر پروگرام محدود کرنے کے لیے مذاکرات کا اگلا دور 15 جون بروز اتوار ہونے والا تھا جو اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے چند روز پہلے کہا تھا کہ انہیں 15 جون کو ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوتے نظر نہیں آتے۔ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے ساتھ ایک طویل فون کال پر رابطہ بھی کیا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم ایک عرصے سے ایران کے ساتھ معاملات کو طے کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی بجائے عسکری حل پر زور دیتے رہے ہیں جس کا عملی مظاہرہ انہوں نے 13 جون کو ایرانی نیوکلیئر اور فوجی تنصیبات پر حملوں کی صورت میں کیا۔

Back to top button