شہباز شریف اور مریم نواز کے اختلافات پارٹی کا نقصان کرنے لگے

 

 

 

معروف صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیراعلی پنجاب مریم نواز دونوں کو ایک دوسرے سے شکایات ہیں، لیکن نہ تو چچا شہباز شریف اپنی بھتیجی کے خلاف حرفِ شکایت زبان پر لائیں گے اور نہ ہی تابع فرمان بھتیجی مریم نواز کبھی اپنے مہربان چچا کے خلاف کھلی بغاوت کریں گی۔ دونوں کی شکایات تو موجود ہیں لیکن دونوں معاملہ نواز شریف کی عدالت میں نہیں لیجانا چاہتے۔شرم، لحاظ، یا احترام، اسے جو بھی کہا جائے، لیکن مریم اور شہباز کی باہمی شکایات کو زیر بحث نہ لانے سے نون کا فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہی ہو رہا ہے۔

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ بہتر ہو گا کہ نواز شریف شہباز اور مریم اور انکے معاونین کو آمنے سامنے بٹھائیں، تا کہ مفاہمت کا کوئی راستہ نکالا جا سکے۔ انکا کہنا ہے کہ وفاق اور پنجاب ایک دوسرے سے متصادم ہونے کی بجائے موافق ہوں گے تو تبھی نونی ستارہ بہتر طور پر چمکے گا، وگرنہ یہ سیاہ بادلوں میں گم ہو جائے گا۔ روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس وقت مسلم لیگ نون سب سے بڑی حکمران جماعت ہے۔ وزیراعظم بھی نون لیگ کا ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب بھی نون لیگی ہے، گویا نون لیگ کی سیاست اور اس کے اندرونی و بیرونی ناک نقشہ کو سمجھنا ضروری ہے۔ نونی لیڈروں کی سوچ کیا ہے، اس کی ناک کیسی ہے اور آگے نقشہ کیا بنے گا؟ اس نقشے کی ابتدا الیکشن 2024 سے کرتے ہیں۔

 

الیکشن سے پہلے تک نواز شریف وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے۔ لیکن نتائج حسبِ توقع نہ آئے اور اس وقت کی اہم ترین خفیہ ایجنسی کے سربراہ کا یہ اندازہ سراسر غلط نکلا کہ مسلم لیگ ن پنجاب میں دو تہائی اکثریت سے جیتے گی۔ نواز شریف دانش مند ہیں لہذا وہ وقت کے مطابق بہترین آپشن استعمال کرتے ہیں، الیکشن کے بعد کی صورتحال کا اندازہ لگاتے ہوئے انہوں نے اپنے بھائی شہباز شریف کو وزیر اعظم اور بیٹی مریم کو وزیر اعلیٰ پنجاب نامزد کر دیا۔ مریم نواز صبح شام اپنے والد کو اپنے منصوبوں اور سرگرمیوں سے آگاہ رکھتی ہیں۔ ان کا اور انکے والد کا یہ تعلق وزارتِ اعلیٰ سے بہت پہلے کا ہے، جب سے وہ سیاست میں آئی ہیں تب سے وہ اپنے والد کو صبح بتا کر اور مشورہ کر کے آتی ہیں کہ انہیں آج کیا کرنا ہے اور کس طرح سے کرنا ہے۔

 

سہیل وڑائچ کے بقول جب تعلق اتنا گہرا ہو تو قربت بھی زیادہ ہو جاتی ہے، اس لئے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کی اپنی بیٹی مریم کو ہر معاملے میں آشیر باد حاصل ہوتی ہے۔دوسری طرف شہباز شریف بھی نواز شریف کا مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔ گزشتہ 30 سالہ سیاست پر نظر دوڑائیں تو نواز شریف کے قریب ترین راز دان اور مشیرِ خاص شہباز شریف ہی رہے ہیں، کئی لوگ تو کہتے ہیں کہ نواز شریف مشورہ سب سے کرتے ہیں مگر مشورہ مانتے صرف شہباز شریف کا ہیں۔ جنرل مشرف کے دور میں سیاسی معاملات پر دونوں بھائیوں میں اختلاف رہا مگر پھر بھی اعتماد اس قدر تھا کہ ان اختلافات کے باوجود اسی زمانے میں نواز شریف نے شہباز شریف کو ہی مسلم لیگ نون کا صدر بنا دیا ۔ دوسری طرف شہباز شاید اِدھر اُدھر گلہ شکوہ تو کر لیتے ہیں مگر بڑے بھائی کے سامنے نہ تو کبھی بولے ہیں اور نہ ہی کبھی انکے کسی فیصلے کیخلاف گئے ہیں۔ وہ سیاست کے آغاز میں بھی چھوٹے بھائی تھے اور وزیر اعظم بننے کے بعد تو وہ سرعام کہتے ہیں کہ میرے لیے میرے بڑے بھائی کا درجہ باپ کا ہے، میں ان کی کسی بات یا حکم سے اختلاف نہیں کر سکتا۔

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس پس منظر میں نون سے شین نکلنے کی باتیں پہلے بھی غلط ثابت ہوئیں اور آئندہ بھی ایسا کوئی امکان نہیں کہ یہ کہانیاں سچی ثابت ہوں۔ البتہ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہونے کی وجہ سے جو تال میل اور یک رنگی ہونی چاہئے وہ سرے سے مفقود ہے ۔چچا شہباز اور بھتیجی مریم نواز کا آپس میں ذاتی رشتہ شفقت اور باہمی احترام کا ہے مگر شہباز کی وفاقی حکومت اور مریم نواز کی زیر قیادت پنجاب کی حکومت کا انتظامی اور سیاسی تعلق بہت ہی کمزور ہے، اس وجہ سے اراکین پارلیمان اور صوبائی اسمبلی مخمصے کا شکار ہیں۔ اس عدم موافقت کا سب سے ذیادہ بُرا اثر نون لیگ کی اپنی سیاست پر پڑ رہا ہے۔

 

سینیر صحافی کے مطابق نواز شریف خاندانی معاملات میں انصاف پسند مشہور ہیں لیکن اتفاق فیملی کے بٹوارے پر کئی اتفاقی ناراض بھی ہوئے تھے اور آج بھی سب میں اتفاق نہیں۔ نواز شریف نے اپنے والد میاں محمد شریف کی وفات کے بعدخاندانی جائیداد یں اور اثاثے اپنے بھائیوں اور انکے بچوں میں تقسیم کر دیئے تھے۔ اثاثوں کی تقسیم کے وقت ایک مشترکہ فیملی فرینڈ جسٹس ملک قیوم کو یہ فرض سونپا گیا تھا۔ تاہم اس وقت ہلکے پھلکے اعتراضات کے باوجود یہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہو گیا۔ جب سیاسی وراثت کی بات آئی تو نواز شریف نے اپنے بھائی کو وفاقی حکومت کا بڑا حصّہ سونپ دیا اور چھوٹی وراثت یعنی پنجاب کی وزارت اعلیٰ مریم نواز کے ہاتھ آئی۔ شہباز شریف نے تو اس فیصلے کو قبول کر لیا مگر نواز شریف کی جانب سے ماضی میں اپنے جانشین ڈکلیئر کیے گئے حمزہ شہباز ان فیصلوں کے بعد ملکی سیاست سے غیرمتحرک ہو گئے۔ اب ان کی سرگرمیاں حلقے یا اپنے احباب سے تعلقات تک ہی محدود ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ انکے والد نےانکو وفاق میں وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں اراکین اسمبلی کے معاملات دیکھنے کو کہا تھا، لیکن تاحال انہوں نے یہ ذمہ داری نہیں سنبھالی۔ شاید وہ انتظار کر رہے ہیں کہ تایا نواز شریف خود بلا کر انہیں کوئی ذمہ داری سونپیں۔

 

دوسری طرف نواز شریف نے مریم نواز کو ورکنگ میں فری ہینڈ دے رکھا ہے۔ پنجاب کے فری ہینڈ نے وفاقی حکومت میں پس ِپردہ سرگوشیوں اور اعتراضات و تحفظات کو جنم دینا شروع کر دیا ہے۔ ماضی میں نون لیگی حکومت کا دستور تھا کہ انکے اراکین اسمبلی افسران کے تقرر و تبادلے اور ترقی کے منصوبوں میں براہ راست شریک ہوتے تھے، اس بار پنجاب حکومت نے یہ دستور بدل کر رکھ دیا ہے۔ مریم نواز خود افسروں کے انٹرویو کرتی ہیں اور میرٹ پر انہیں تعینات کرتی ہیں۔ اراکین اسمبلی کا چونکہ افسروں کے تقرر و تبادلے میں کوئی اختیار نہیں اسلئے انکے رسوخ میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ یوں وہ اراکین اس پالیسی کو نون لیگ کی مستقبل کی سیاست کیلئے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ کئی نونی وفاقی وزراء اور اراکین اسمبلی وفاق اور صوبے کے درمیان عدم مطابقت اور عدم تعاون کو اب حکومت کیلئے ایک بڑا سیاسی چیلنج سمجھتے ہیں۔ وہ اس نازک صورتحال میں وزیر اعظم کی جانب سے اپنائی خاموشی اور مریم نواز کی خود اعتمادی کو نونی سیاست کیلئے زہرِقاتل سمجھ رہے ہیں۔ نونی حلقوں میں ایک طرف شہباز شریف کی دانش مندی اور مشکل ترین صورتحال میں راستہ نکالنے کی صلاحیت کی تعریف کی جاتی ہے تو دوسری طرف مریم نواز کی بہادری کو سراہا جاتا ہے، دونوں کو نونی اثاثہ قرار دیا جاتا ہے۔

 

سہیل وڑائچ کے بقول شہباز شریف چچا ہیں، عمر میں بڑے اور تجربے میں بھی بڑے ہیں لیکن وہ گلی محلّے کی سیاست میں نہیں پڑتے۔ شہباز شریف کسی سیاسی بیانیے پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ فوجی قیادت کے ساتھ بنا کر رکھنے اور ملکی ترقی کیلئے کام کرنے ہی کو اپنا بیانیہ سمجھتے ہیں، جبکہ مریم نواز میں سیاسی جراثیم زیادہ ہیں۔ وہ مخالفوں کو نیزے کی نوک پر رکھ کر تقریریں کرتی ہیں اور تھوڑے ہی عرصے میں پارٹی کا نیا چہرہ بن کر ابھری ہیں۔ آج تک کے نونی ناک نقشے کا خلاصہ یہ ہے کہ بظاہر سمندر پرسکون ہے مگر اس کی لہروں میں کئی طوفان چھپے ہوئے ہیں، چچا شہباز کبھی اپنی بھتیجی کیخلاف حرفِ شکایت زبان پر نہیں لائیں گے اور تابع فرمان بھتیجی بھی نہ تو کبھی اپنے مہربان چچا سے ناراض ہو گی، اور نہ ہی بغاوت کریں گی۔ دونوں کی ایکدوسرے کے خلاف شکایات ہیں لیکن دونوں معاملہ نواز شریف کی عدالت میں کے جانا نہیں چاہتے جس سے نون کا فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہی ہو رہا ہے۔

Back to top button