پاک بھارت جنگ : طارق فاطمی کی قیادت دوسرا سفارتی وفد ماسکو جائے گا

حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان کا مؤقف عالمی برادری کے سامنے پیش کرنے کےلیے دوسرا سفارتی وفد آج وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی کی قیادت میں ماسکو روانہ ہوگا۔

سفارتی وفد کے روس روانگی کے حوالے سے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کا مؤقف عالمی برادری کے سامنے پیش کرنے کےلیے دو سرکاری وفود دنیا کے اہم دارالحکومتوں کا دورہ کریں گے، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی کی قیادت میں دوسرا سفارتی وفد آج ماسکو روانہ ہوگا جب کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت پہلا وفد امریکا میں موجود ہے۔

دفتر خارجہ کےمطابق دو سابق وزرائے خارجہ،دو سابق خارجہ سیکرٹریز،امریکا میں پاکستان کے 2 سابق سفرا اور ایک موجودہ وفاقی وزیر پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد گزشتہ روز نیویارک پہنچا ہے،جہاں وہ اقوام متحدہ میں مشاورت کرے گا، یہ وفد بعد میں واشنگٹن ڈی سی،لندن اور برسلز بھی جائےگا۔

وفد میں بلاول بھٹو زرداری، سابق وفاقی وزرا حنا ربانی کھر اور خرم دستگیر،سینیٹرز شیری رحمٰن،مصدق ملک،فیصل سبزواری،بشریٰ انجم بٹ اور سابق سفرا جلیل عباس جیلانی اور تہمینہ جنجوعہ شامل ہیں۔

یہ وفد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس،جنرل اسمبلی کے صدر اور سلامتی کونسل کے 5 مستقل رکن ممالک کے سفیروں سے ملاقات کرےگا، اس کےعلاوہ یہ گروپ اسلامی تعاون تنظیم کے سفیروں کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کرےگا۔

دفتر خارجہ کےمطابق یہ وفد 3 جون سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرےگا، اس دوران ان کی ملاقاتیں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو،امریکی انتظامیہ کے سینئر عہدیداران، ارکان کانگریس،تھنک ٹینک تجزیہ کاروں اور عالمی میڈیا اداروں سے ہوں گی۔

دفتر خارجہ نے کہاکہ ان دوروں کا مقصد بھارت کی حالیہ جارحیت کے حوالے سے پاکستان کا ذمہ دارانہ اور پر امن مؤقف عالمی برادری کے سامنےرکھنا ہے اور بھارت کے غیر ذمہ دار اور جارحانہ رویے کو بےنقاب کرنا ہے،جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان کےمطابق ان دوروں کا مقصد یہ پیغام دینا ہےکہ مکالمہ اور سفارتکاری کو محاذ آرائی اور تصادم پر ترجیح دی جانی چاہیے،وفود یہ مؤقف بھی پیش کریں گےکہ عالمی برادری کو خطے میں پائیدار امن کے فروغ میں کردار ادا کرنا چاہیے اور سندھ طاس معاہدے کے مکمل نفاذ کو یقینی بنانےکی فوری ضرورت ہے۔

سینیٹر شیری رحمٰن نے ایک علیحدہ بیان میں کہا ہےکہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں وفد کا امریکا کا دورہ شروع ہوچکا ہے اور نیویارک میں کئی اہم عالمی ملاقاتیں شیڈول ہیں۔

انہوں نے کہاکہ یہ ملاقاتیں صرف تصویری مواقع نہیں بلکہ حکمت عملی کے اعتبار سے بہت اہم ہیں،ان کاکہنا تھاکہ پاکستان کی حیثیت ایک ذمہ دار اور مستحکم درمیانی طاقت کے طور پر اجاگر کی جارہی ہے،جو خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول ہے، اور بھارت کا جھوٹا بیانیہ سچ نہیں بننے دیا جائےگا،شیری رحمٰن نے کہاکہ پاکستان کسی بھارتی فلمی اسکرپٹ کا حصہ نہیں بنے گا۔

بلدیاتی انتخابات : الیکشن کمیشن کا شہباز شریف اور مریم نواز کو طلب کرنے کا عندیہ

ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ بلاول بھٹو زرداری نے پانی،کشمیر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کا مضبوط مؤقف پیش کیا ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست کےطور پر امن پر مبنی،وسیع اور منصفانہ مکالمے پر یقین رکھتاہے۔

Back to top button