پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کیا پھاڑ کر 6 لاکھ وصول کرتے ہیں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار روؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ اگر اسوقت کوئی کام کی اپوزیشن پارلیمنٹ میں موجود ہوتی تو یقین کریں حکومت بہت مشکل میں ہوتی۔ انکا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمینٹ دو سال سے ایوان کے اندر عمران خان کے حق میں نعرے مارنے اور کاغذ پھاڑنے پر لگے ہوئے ہیں۔ جب سے نئی پارلیمنٹ وجود میں آئی ہے میں نے پی ٹی آئی ارکان کی یہی ڈیوٹی دیکھی ہے اور اس کام کی انہیں ہر مہینے چھ لاکھ روپے تنخواہ مل جاتی ہے، اسکے علاوہ بھاری مراعات الگ ہیں۔

اپنے سیاسی تجزیے میں روؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ حد تو یہ ہے کہ عمران خان نے اپنے ارکان پارلیمینٹ سے اُن پارلیمانی کمیٹیوں سے بھی استعفے دلوا دیئےجہاں وہ حکومت کو ٹف ٹائم دے رہے تھے اور متعلقہ وزارتوں کا جینا مشکل کیا ہوا تھا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے پارلیمانی کمیٹیاں چھوڑنے کے بعد وزیروں اور سیکرٹریز نے سکھ کا سانس لیا۔ استعفے دیتے وقت ان لوگوں کا موقف تھا کہ یہ جعلی پارلیمنٹ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ پارلیمینٹ جعلی بھی ہے تو وہ اسی میں بیٹھے ہیں۔ اسی پارلیمنٹ میں انہوں نے وزیراعظم کا الیکشن لڑا‘ زرداری صاحب کے مقابلے پر محمود خان اچکزائی کو صدر کا الیکشن لڑایا۔ اب انہوں نے اپوزیشن لیڈر کیلئے محمود خان اچکزائی کا نام دیا ہوا ہے۔ ایک جعلی پارلیمنٹ میں بھلا کون وزیراعظم یا صدر کا الیکشن لڑتا اور اپوزیشن لیڈر بنتا ہے۔

کلاسرا کہتے ہیں کہ اگر اسمبلی جعلی ہے تو پھر پی ٹی آئی والے  اس میں کیا کررہے ہیں اور بھاری تنخواہیں کیوں لے رہے ہیں؟ انکا کہنا ہے کہ میں حیران ہوتا ہوں کہ پی ٹی آئی ارکان ایوان میں صرف وقفۂ سوالات کے ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ اس کے ختم ہوتے ہی وہ ہاؤس میں آئیں گے‘ عمران خان کے حق میں چند تقریریں ہوں گی‘ کاغذ پھاڑے جائیں گے اور پھر سارے انصافیے نعرے مارتے باہر نکل جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اس سے حکومت کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے؟ حکومت کو فرق تب پڑتا جب وقفۂ سوالات میں بھرپور حصہ لیا جاتا کیوں کہ اس میں حکومتی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم ہوتا ہے۔ اس دوران وزیروں کی نالائقیوں اور حکومتی کرپشن کی کہانیاں سامنے آتی ہیں۔ وزیروں کو میڈیا کی موجودگی میں رگڑا لگتا ہے۔

سینئیر صحافی پی ٹی آئی والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ قومی اسمبلی کو جعلی قرار دیتے ہیں لیکن پارلیمنٹ کے اندر جس کام کی آپ تنخواہ عوام کے پیسوں سے مل رہی ہے‘ وہ نہیں کرنا چاہتے۔ دوسری جانب حکومت خوش ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ میں نعرے مار کر اور سرکاری کاغذ پھاڑ کر چند منٹ کے بعد بائیکاٹ کرکے نکل جاتے ہیں۔ باقی وقت میں حکومت آرام سے اپنے بلز اور باقی کارروائی مکمل کر لیتی ہے۔ تحریک انصاف کی اراکین اسمبلی قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس میں اس لیے پیش نہیں ہوتے کہ عمران خان کا حکم ہے۔ لیکن بقول کلاسرا مجھے خان کے حکم کی سمجھ نہیں آرہی کہ اس سے انہیں یا انکی پارٹی کو کیا فائدہ ہو رہا ہے۔ الٹا ان کے اپنے ایم این ایز اور سینیٹرز کو مالی نقصان ہورہا ہے۔ ایک ایک اجلاس کا جو ہزاروں روپے الاؤنس ملتا ہے‘ وہ ملنا بند ہو گیا ہے جس پر وہ عمران خان سے ناخوش ہیں۔ ان میں سے دو تین نے مجھے بتایا کہ دراصل جو لوگ اس وقت عمران خان کے قریب ہیں‘ وہ نان الیکٹڈ ہیں۔ انہیں یہ برداشت نہیں کہ ہم کیوں پارلیمنٹ کے اندر بیٹھے ہیں اور ہر ماہ پانچ چھ لاکھ تنخواہ لے رہے ہیں۔

کلاسرا کہتے ہیں کہ عمران خان کی ایک خوبی کا میں قائل ہوں کہ وہ اپنے پارٹی لیڈروں کے ساتھ جیسا چاہتے ہیں سلوک کرتے ہیں کیونکہ انہیں علم ہے ان میں اتنی سکت یا جرأت نہیں کہ آگے سے کوئی ردعمل دے سکیں کہ سب کو ایم این اے کی سیٹ عزیز ہے۔ عزت‘ وقار اور خاندانی پس منظر بعد میں دیکھا جائے گا۔

Back to top button