ڈونلڈ ٹرمپ کی سنگین دھمکی:حماس کے لیڈروں کا شکار کرکے نجات حاصل کرنا ہوگی

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس جنگ بندی میں سنجیدہ نہیں اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس کے رہنماؤں کا شکار ناگزیر ہو چکا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ حماس نہ جنگ بندی چاہتی ہے اور نہ ہی یرغمالیوں کی رہائی میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’امریکا نے غزہ سے بہت سے یرغمالیوں کو نکال لیا ہے اور جب آخری یرغمالی بھی بازیاب ہو جائے گا تو حماس جانتی ہے کہ اس کے بعد کیا ہونے والا ہے، اسی لیے وہ مذاکرات سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔‘‘
ٹرمپ نے سنگین دھمکی دیتے ہوئے کہا ’’اب حماس سے نجات حاصل کرنا ہوگی، ان کے لیڈروں کا شکار کیا جائے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ حماس کے لوگ مرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘
ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں تجارتی امور پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ یکم اگست تک مزید تجارتی معاہدے طے پانے کی توقع ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کے امکانات کو ففٹی ففٹی قرار دیا جبکہ کینیڈا کے حوالے سے کہا کہ "کینیڈا کے ساتھ بات چیت نہیں ہوگی، صرف ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔”
سابق صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ امریکی کرنسی کو کمزور نہیں دیکھنا چاہتے۔
تھائی لینڈ کے 8 سرحدی اضلاع میں مارشل لا نافذ
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکا اور اسرائیل نے قطر اور مصر کی ثالثی میں جاری غزہ جنگ بندی مذاکرات سے اپنے وفود واپس بلا لیے تھے۔ امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے دعویٰ کیا کہ:
ثالثوں نے بہت کوشش کی، مگر حماس کی جانب سے نیک نیتی اور جنگ بندی کی خواہش دکھائی نہیں دی۔
ادھر غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے جنگ بندی سے متعلق امریکی حمایت یافتہ تجاویز پر باضابطہ جواب قطر اور مصر کو جمع کرا دیا تھا۔ تاہم دوحہ میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
