اسٹیبلشمنٹ کو جائز ناجائز کی کوئی پرواہ نہیں: مولانا فضل الرحمان

جے یو آئی (ف) کےسربراہ مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا مقصد صرف اتھارٹی قائم رکھنا ہے انہیں جائز ناجائز کی کوئی پرواہ نہیں۔
کراچی میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نےکہا کہ خالد مقبول میرے لیے قابل احترام ہیں، وہ ایکٹ سمجھنےمیرے گھر آئے تھے،خالد مقبول وزیر تعلیم ضرور ہیں لیکن میرے گھر پر زیر تعلیم ہیں۔
انہوں نےکہا کہ شکایت ہمیں اپنے سیاست دانوں سے ہے جنہیں آئین قانون اوراصولوں کا کوئی احساس نہیں،یہ صرف اپنا اقتدار چاہتے ہیں،حکومت کی مدت پوری کرنے کی اہمیت نہیں ہے، مدت تومارشل لا بھی دس گیارہ سال کر لیتے ہیں۔
عمران خان دوران قید1کروڑ26لاکھ کاکھاناکھا گئے،تفصیلات آ گئیں
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر تمام معاملات قومی اتفاق سےحل ہونا چاہئیں، پارلیمنٹ کی سطح پر مدارس کی رجسٹریشن کے لیےقانون سازی ہو چکی ہے، صدارتی آرڈیننس کے ذریعےمدارس رجسٹریشن میں ریلیف دیا گیا ہے، ہمیں اعتراض نہیں ہے،حکومت نے کچھ مدارس کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کےلیے اقدامات کیے ہیں۔
جےیوآئی سربراہ نےمزید کہا کہ ابھی تک اسٹیبلشمنٹ کا رویہ تبدیل نہیں ہوا، ایک پولنگ اسٹیشن سے بھی نہ جیتنے والے کو جتادیا گیا، جائز ناجائز کی انہیں کوئی پرواہ نہیں، صرف اتھارٹی کو قائم رکھنا ہی اسٹیبلشمنٹ کا مقصد ہے، اسٹبلشمنٹ لوگوں کے ووٹ کا مذاق اڑاتی ہےتوعوام پھر اسٹبلشمنٹ کا کیوں مذاق نہ اڑائیں، اسٹیبلشمنٹ کا غیرسیاسی ہونا بھی سیاسی ہوتا ہے۔
