کیا ایکسچینج کمپنیاں حکومت کی آئی ایم ایف سے جان چھڑوا سکتی ہیں؟

پاکستان کے مالی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے آئی ایم ایف سے قرض کا حصول ایک کڑوی گولی بن گیا ہے، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے مزید قرض دینے کیلئے آنکھیں دکھانا شروع کر دی ہیں، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ بھی نہیں ہو پا رہا ہے۔

پاکستان اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے مسائل کا شکار ہے کیونکہ درآمدات اور برآمدات میں توازن نہ ہونے کی وجہ سے ملکی کرنسی کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں بہت زیادہ گراوٹ آئی ہے، پاکستان قرض پروگرام کے تحت آئی ایم ایف سے 1.2 بلین ڈالر کی ادائیگی کا شدت سے منتظر ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں ایکسچینج کمپنیزایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے چھ ماہ قبل حکومت کو یہ پیشکش کی تھی کہ ملک کے وسیع مفاد میں ہم انھیں 24 سے 25 بلین ڈالرز دو سال کے لیے اکٹھا کر دیتے ہیں۔ان کی جانب سے اس پیشکش نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان نے بی بی سی سے اس بارے میں بات کرت ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں اس طرح سے پیسے اکٹھے کیے جاتے ہیں اور اس منصوبے کو سویپ ارینجمنٹ کہتے ہیں۔اس معاہدے کے تحت سمندر پار پاکستانیوں سے آج کے ریٹ پر ڈالر خریدے جائیں گے اور دو سال بعد انھیں ڈالر کے ریٹ میں فرق ادا کر کے واپس کر دیئے جائیں گے۔

ان کے مطابق ’جب پاکستان نے 1998 میں ایٹمی دھماکے کیے تھے اس وقت حالات اس سے بھی بُرے تھے۔ پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگ چکی تھیں۔ ابھی تو پاکستان کو آئی ایم ایف نے انکار نہیں کیا اس وقت تو مالی قرض دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ان حالات میں مجھے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے بحیثیت ایکسچینج کمپنی ایسوسی ایشن کے صدر بلایا تھا۔

انھوں نے منصوبے کے بارے میں بتایا کہ ہم اوورسیز پاکستانیوں جن کے پاس بینک میں ڈالرز پڑے ہیں انھیں ہم دو طرح کی پیشکش کرتے ہیں کہ وہ ہمیں یہ ڈالر بیچ دیں یا پھر ہمیں دو سال کے لیے ادھار دے دیں۔ دو سال بعد ہم واپس کر دیں گے۔ دو سال بعد ہم انھیں ان کے ڈالر اور اس کی قیمت میں آنے والا فرق بھی ادا کر دیتے ہیں۔ اور یہ معاملات بلا سُود ہوتے ہیں۔

ملک بوستان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں بھی اظہار خیال کیا ہے۔ ہم نے حکومت سے کہا کہ مارکیٹ میں لوگوں کو فری ہینڈ دیں، میری 53 تجاویز تھیں کہ کس طرح فارن ریزرو کو بڑھایا جا سکتا ہے۔

معاشی امور کے ماہر اور ایکسچینج کمپنی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کے خیال میں ملک بوستان کا پیش کردہ منصوبہ اتنا آسان نہیں ہے۔ ہر آدمی کے اپنے خیالات ہیں۔ 1.2 بلین کے لیے پوری حکومت ادھر ادھر دھکے کھا رہی ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر کا کہنا تھا کہ ابھی یہ نئی تجویز ہے اور اس کو جانچنا ضروری ہے تاہم پاکستان اس وقت ایک مشکل صورت حال میں ہے اور اس وقت ہم کسی دوسرے ذریعے پر جانے کا نہیں سوچ سکتے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین قیصر شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ سینٹ کی کمیٹی کے بعد اب یہ بریفنگ رواں ہفتے قومی اسمبلی کی کمیٹی میں بھی لی جائے گی جس میں اس تجویز کے قابل عمل ہونے سے متعلق غور کیا جائے گا جہاں وزارت خزانہ، ایف بی ار اور دیگر متعلقہ حکام موجود ہوں گے۔

معاشی ماہر اور ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد سلہری بھی ملک بوستان کی حکومت کو کی گئی پیشکش کو قابل عمل نہیں سمجھتے، بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ کتابی طور پر تو ممکن ہو سکتا ہے لیکن عملی طور پر ایسا ممکن نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اس تاخیر کی ایک بڑی وجہ ہے کیونکہ دوست ممالک کسی ایک فرد نہیں بلکہ حکومت کو مدد فراہم کرتے ہیں اور گذشتہ ایک برس سے یہ پتا نہیں چل رہا کہ اصل حکومت کسی کی ہے، خطے میں ممالک کے درمیان بننے والے نئے تعلقات میں بھی ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہماری کتنی اہمیت ہے۔ حال ہی میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی سے اب سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کو غیر مشروط امداد ملنا کم ہو جائے گی۔

اگر سعودی عرب کو پاکستان کی پہلے کی طرح ضرورت نہیں ہوگی تو وہ کیوں ہمیں غیر مشروط مدد فراہم کرے گا، دوست ممالک کے ساتھ رول اوور معاملات کا دراومدار پاکستان کی خارجہ پالیسی اور ملکی سیاسی استحکام پر منحصر ہے۔

اداکارہ حمائما ملک کے نئے ڈرامہ سیریل ’’جندو‘‘ کا ٹریلر ریلیز

Back to top button