کراچی میں بھتہ خور بے لگام، کرپٹو کرنسی میں بھتہ مانگنے لگے

 

 

 

کراچی کے بھتہ خور بھی جدید ہو گئے ہیں۔ روشنیوں کے شہر میں ایک بار پھر سر اٹھانے والے بھتہ خوروں نے روایتی طریقوں کو چھوڑ کر ڈیجیٹل بھتہ خوری کا راستہ اختیار کر لیا ہے، جہاں واٹس ایپ کالز اور وائس میسجز کے ذریعے صنعت کاروں اور بلڈرز سے کرپٹو کرنسی میں بھتے کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔ کراچی میں دن بہ دن بڑھتی ہوئی بھتہ خوری نے سرمایہ کاروں، تاجروں اور کاروباری طبقے کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ صنعت کاروں اور تاجروں کے ساتھ ساتھ اب بلڈرز اور ٹرانسپورٹرز بھی بھتہ خوروں کے نشانے پر آ چکے ہیں جبکہ شہر میں پروان چڑھنے والی ڈیجیٹل بھتہ خوری کی نئی اور نہایت خطرناک شکل نے صنعت کاروں کے چھکے چھڑا دئیے ہیں۔ جرائم پیشہ عناصر کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث متعدد سرمایہ کاروں نے کراچی سے اپنے کاروبار سمیٹنے کا عمل شروع کر دیا ہے، جس سے شہر کی معاشی سرگرمیاں معطل ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

 

خیال رہے کہ کراچی وہ شہر ہے جس نے ماضی میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور منظم جرائم کے کئی سیاہ ادوار دیکھے۔ برسوں کی طویل جدوجہد کے بعد یہاں نسبتاً امن کی فضا قائم ہوئی، تاہم حالیہ مہینوں میں آنے والی اطلاعات اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ کراچی میں بھتہ مافیا ایک بار پھر سرگرم ہو چکا ہے لیکن اس بار فرق صرف اتنا ہے کہ اب جرائم پیشہ عناصر نے روایتی طریقوں کی بجائے جدید ٹیکنالوجی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ فون کالز، وائس نوٹس، میسجز اور بیرونِ ملک نمبرز سے کالز کر کے صنعتکاروں اور بلڈرز پر دباؤ ڈال کر کرپٹو کرنسی کی شکل میں رقوم وصول کی جا رہی ہیں۔ ڈیجیٹل بھتہ خوری نہ صرف شہریوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

 

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیویلپرز (آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی کے مطابق کراچی میں بھتہ خور ایک بار پھر متحرک ہو چکے ہیں، مگر اب یہ سلسلہ صرف دکانوں پر پرچیاں پھینکنے تک محدود نہیں رہے۔ ان کے بقول بعض واقعات میں مسلح افراد براہِ راست سامنے آ کر نقد رقم کا مطالبہ کرتے ہیں، جبکہ زیادہ تر کیسز میں ڈیجیٹل کرنسی، خصوصاً بٹ کوائن میں بھتہ طلب کیا جا رہا ہے۔ محمد حسن بخشی کا کہنا ہے کہ دھمکیاں اب فون کالز، وائس میسجز اور واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے دی جا رہی ہیں، جبکہ ادائیگی کے لیے کرپٹو کرنسی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔  گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد بلڈرز، کنٹریکٹرز اور تاجروں نے ان سے رابطہ کیا جو شدید خوف اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان افراد کو بیرونِ ملک نمبرز سے کالز موصول ہو رہی ہیں جن میں محتاط مگر واضح دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ان کالز کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کال کرنے والے نہ صرف متاثرہ افراد کو نام لے کر مخاطب کرتے ہیں بلکہ ان کے کاروبار، منصوبوں، دفاتر اور بعض صورتوں میں اہلِ خانہ سے متعلق تفصیلات بھی بیان کرتے ہیں، جس سے نگرانی کے منظم نیٹ ورک کا تاثر ملتا ہے۔ محمد حسن بخشی کے مطابق بھتہ مافیا نے اب فوری ادائیگی کی بجائے چار سالہ بھتہ پلان متعارف کرا دیا ہے۔ متاثرہ افراد کو کہا جاتا ہے کہ اگر وہ مقررہ مدت تک باقاعدگی سے بٹ کوائن میں ادائیگی کرتے رہیں گے تو انہیں تحفظ فراہم کیا جائے گا، بصورت دیگر نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ یہ طریقہ کار بظاہر کسی کاروباری معاہدے جیسا محسوس ہوتا ہے، مگر اس کی بنیاد خوف، دباؤ اور دھمکی پر قائم ہے۔

پاکستان میں سونے کی قیمت 5 لاکھ روپے تولہ سے تجاوز کرنے کا امکان

کراچی کے ایک بلڈر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں ایک غیر ملکی نمبر سے واٹس ایپ پیغام موصول ہوا جس میں ان کے زیرِ تعمیر منصوبے کی لوکیشن، فلیٹس کی تعداد اور سرمایہ کاری کی مالیت تک درج تھی۔ پیغام کے ساتھ ایک کرپٹو والٹ ایڈریس بھی ارسال کیا گیا اور 72 گھنٹوں میں ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی۔ ان کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب انہیں شدت سے احساس ہوا کہ ان کی سرگرمیاں کس حد تک نگرانی میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق کراچی کی تاجر برادری بھی شدید عدم تحفظ کا شکار ہے۔ شہر کے مختلف تجارتی علاقوں میں دکانداروں کو فون کالز کے ذریعے یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ کرپٹو کرنسی میں ادائیگی سب سے محفوظ راستہ ہے، کیونکہ اس میں نہ بینک شامل ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی مقامی ادارے کا براہِ راست ریکارڈ بنتا ہے۔ اسی کے ذریعے متاثرہ افراد کو پولیس سے رجوع نہ کرنے پر بھی آمادہ کیا جا رہا ہے۔ ماضی کے تلخ تجربات کے باعث کئی تاجر خاموشی سے بھتہ دینے پر مجبور ہیں۔ محمد حسن بخشی اس رجحان کو محض بھتہ خوری نہیں بلکہ ڈیجیٹل بھتہ گردی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل بھتہ خوری کیلئے بیرونِ ملک نمبرز کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھتہ خوری کا یہ نیٹ ورک ممکنہ طور پر پاکستان سے باہر بیٹھ کر چلایا جا رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق اگر اس رجحان کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف چند افراد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے کراچی کی مجموعی معیشت، سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بالخصوص رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبہ، جو پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، مزید دباؤ میں آ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اب صرف روایتی کارروائیوں پر انحصار کرنے کے بجائے ڈیجیٹل محاذ پر واضح اور مربوط حکمتِ عملی اپنانا ہو گی، بصورت دیگر یہ خاموش مگر خطرناک جرم شہر کو ایک بار پھر خوف اور عدم تحفظ کی فضا میں دھکیل سکتا ہے۔

 

Back to top button