کیا جسٹس جہانگیری کی جعلی ڈگری اصلی بھی ثابت ہو سکتی ہے؟

 

 

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ہاتھوں برطرف ہونے والے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی جعلی ڈگری کبھی پکڑی نہ جاتی اگر وہ عمران خان کو اندھا دھند سپورٹ نہ کرتے اور چیف جسٹس کو خط لکھ کر خفیہ اداروں کی شکایت نہ کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ جج جہانگیری کے پاس جعلی ڈگری تو پچھلے 35 برس سے تھی لیکن کسی نے یہ معاملہ نہیں اٹھایا تھا، لہٰذا ان کا قصور جعلی ڈگری رکھنا نہیں بلکہ ریاست کو ناراض کرنا تھا۔ اگر وہ آج بھی ریاست کو راضی کر لیں تو سپریم کورٹ انکی جعلی ڈگری کو اصلی ڈگری ثابت کر سکتی ہے۔

 

جاوید چوہدری نے اپنی تازہ تحریر میں پاکستان کے عدالتی اور تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے جعلی اور اصلی ڈگری کے تصور کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ جعلی ڈگری ہوتی کیا ہے؟ ان کے مطابق جعلی ڈگری وہ ہوتی ہے جو بغیر کالج یا یونیورسٹی گئے، پیسے دے کر یا کسی اور کو امتحان میں بٹھا کر حاصل کی جائے، جس کے نتیجے میں ایک شخص کے پاس کاغذ کا ٹکڑا تو آ جاتا ہے لیکن عملی علم نہیں ہوتا۔ تاہم جاوید چوہدری سوال اٹھاتے ہیں کہ ہمارے وہ طالب علم جو باقاعدگی سے یونیورسٹی جاتے ہیں، ایک بھی کلاس مس نہیں کرتے، تمام امتحانات دیتے ہیں اور نوے فیصد سے زائد نمبر حاصل کر لیتے ہیں، کیا وہ واقعی اپنے علم یا فن کے ماہر ہوتے ہیں؟

 

ان کے مطابق حقیقت اس کے برعکس ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کسی دن یہ ماننا پڑے گا کہ ہمارے ملک میں جعلی ڈگری ہولڈر اور اصلی ڈگری ہولڈر میں عملاً کوئی فرق نہیں ہوتا۔

جاوید چوہدری کے مطابق بدقسمتی سے جعلی ڈگری رکھنے والے افراد اکثر اصلی ڈگری ہولڈرز سے زیادہ باصلاحیت اور ماہر ثابت ہوتے ہیں۔ یہ لوگ عملی طور پر کام کر رہے ہوتے ہیں، ان کے پاس صرف ڈگری کی کمی ہوتی ہے، جسے وہ خرید کر اپنے ادارے کو مطمئن کر دیتے ہیں۔ وہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کی مثال دیتے ہیں، جو راولپنڈی کے ایک کامیاب وکیل تھے۔ وکالت اور وکلاء سیاست سے ہوتے ہوئے وہ دسمبر 2020ء میں ہائی کورٹ کے جج بنے اور 2025ء تک سینکڑوں مقدمات کے فیصلے کرتے رہے۔ تاہم پھر اچانک ان کی ڈگری جعلی قرار دے دی گئی اور 18 دسمبر 2025ء کو ان کی اپنی عدالت نے انہیں جج کے عہدے سے فارغ کر دیا۔

 

جاوید چوہدری کے مطابق اس فیصلے کے بعد کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ اگر جسٹس جہانگیری نے لاء کالج سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی تو وہ وکیل کیسے بنے؟ برسوں پریکٹس کیسے کرتے رہے؟ ہائی کورٹ کے جج کیسے مقرر ہو گئے؟ اور عدالت میں فیصلے کیسے لکھتے اور سناتے رہے؟ ان کا کہنا ہے کہ عدالت کے لیے مقدمہ تیار کرنا، جج کے سامنے دلائل دینا، ایک خاص سطح تک پریکٹس کرنا اور پھر جج بننے کے بعد انصاف فراہم کرنا، یہ سب قانون پر مکمل عبور کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر طارق محمود جہانگیری قانون نہیں جانتے تھے تو وہ یہ کام 34 برس تک کیسے کرتے رہے؟

 

جاوید چوہدری کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ اگر جسٹس جہانگیری عمران خان کو اندھا دھند سپورٹ نہ کرتے اور 26 مارچ 2024ء کو چیف جسٹس کو خط لکھ کر خفیہ اداروں کے کردار پر شکایت نہ کرتے تو کیا ان کی جعلی ڈگری کبھی سامنے آتی؟ ان کے بقول اس کا جواب صاف ہے: ہرگز نہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جسٹس جہانگیری کا اصل قصور جعلی ڈگری رکھنا نہیں تھا بلکہ ریاست کی منشا سے ٹکرانا اور اسے ناراض کرنا تھا۔

 

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اگر آج بھی جسٹس جہانگیری ریاست کو راضی کر لیں تو ان کی جعلی ڈگری سپریم کورٹ کی جانب سے اصلی ثابت ہو سکتی ہے اور وہ عزت کے ساتھ اپنے عہدے پر بحال ہو سکتے ہیں کیونکہ مسئلہ ڈگری نہیں بلکہ ناراضی ہے انکا کہنا ہے کہ اگر جسٹس جہانگیری کی ڈگری جعلی تھی تو یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ہمارے نظام میں ڈگری کی کوئی خاص حیثیت نہیں۔ ڈگری ہو یا نہ ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔

سہیل وڑائچ کا اسٹیبلشمنٹ کو جبر کی بجائے صبر کا مشورہ

جاوید چوہدری بلوچستان کے سابق وزیرِ اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کا مشہور جملہ یاد دلاتے ہیں کہ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے، یہ اصلی ہو یا جعلی ہو۔ لہٰذا پاکستان میں اصلی اور نقلی ڈگری میں کوئی فرق نہیں بلکہ جعلی ڈگری رکھنے والے افراد زیادہ ترقی کرتے ہیں اور ہائی کورٹ کے جج تک بن جاتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی ڈگری کمزور ہے، لہٰذا وہ خود کو زیادہ محنتی اور باصلاحیت ثابت کرتے ہیں۔

Back to top button