کیا عمران خان کی گنڈاپور سے جیل میں خفیہ ملاقات ہوئی ہے؟

 

 

 

 

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اڈیالہ جیل میں خفیہ ملاقاتوں کے حوالے سے ایک بار پھر افواہوں، دعوؤں اور تردیدوں کا بازار گرم ہے۔ سوشل میڈیا اور صحافتی حلقوں میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے جیل میں عمران خان سے خفیہ ملاقات کی ہے۔ ان اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی سامنے آ رہا ہے کہ عمران خان کو دوران ملاقات مقتدر حلقوں کی جانب سے ایک پیشکش کی گئی ہے کہ اگر وہ کچھ عرصے تک مکمل خاموشی اختیار کرنے کی یقین دہانی کروا دیں تو انہیں اہلیہ بشریٰ بی بی سمیت بنی گالہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ عمران خان نے اس پیشکش پر فوری فیصلہ کرنے کے بجائے غور و فکر کے لیے وقت مانگ لیا ہے، جس کے باعث اس معاملے نے مزید سنسنی اختیار کر لی ہے۔ تاہم یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی عمران خان اور علی امین گنڈاپور کے درمیان اڈیالہ جیل میں کوئی خفیہ ملاقات ہوئی؟ یا یہ محض سیاسی بیانیے کا حصہ ہے؟ خفیہ ملاقات کو سامنے لانے کا اصل مقصد کیا ہے،

 

مبصرین کے مطابق ملاقات کے حوالے سے سوشل میڈیا اور صحافتی حلقوں میں زیرِ گردش اطلاعات نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی یاسر حسین کے مطابق چند روز قبل صبح سویرے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے علی امین گنڈاپور کی ایک اہم ملاقات کروائی گئی، جس میں نہ صرف پی ٹی آئی کے مستقبل بلکہ عمران خان کی سیاسی حکمتِ عملی پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ان کے دعوے کے مطابق اس ملاقات میں عمران خان کو یہ پیشکش کی گئی کہ اگر وہ چھ ماہ تک مکمل خاموشی اختیار کرنے کا وعدہ کریں، سیاسی سرگرمیوں اور ملاقاتوں سے دور رہیں، تو انہیں بنی گالہ منتقل کرنے کا آپشن دیا جا سکتا ہے۔ اس پیشکش کو بعض مبصرین ایک ممکنہ “سیاسی ڈیل” کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس کا مقصد سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنا ہو سکتا ہے۔

 

اسی تناظر میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان نے فوری فیصلہ کرنے کے بجائے وقت مانگا اور مشاورت کے لیے اسی روز ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ایک غیر معمولی ملاقات کروائی گئی۔ اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں بنی گالہ منتقلی، ممکنہ علاج، اور جاری مقدمات پر نظرثانی جیسے اہم معاملات زیرِ غور آئے، جو اس پورے معاملے کو مزید حساس بنا دیتے ہیں۔

 

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اس تمام معاملے کو یکسر مسترد کر رہی ہے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور کی عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق اگر ایسی کوئی ملاقات ہوتی تو انہیں ضرور آگاہ کیا جاتا، کیونکہ عمران خان سے ہونے والی ہر ملاقات، چاہے وہ ڈاکٹروں کا معمول کا دورہ ہی کیوں نہ ہو، پارٹی قیادت کے علم میں لائی جاتی ہے۔ اسی طرح اڈیالہ جیل حکام نے بھی اس نوعیت کی کسی خفیہ ملاقات کی تصدیق نہیں کی، جبکہ علی امین گنڈاپور یا ان کے ترجمان کی جانب سے خاموشی اس معاملے کو مزید پراسرار بنا رہی ہے۔

 

سیاسی مبصرین اس صورتحال کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ کچھ کے نزدیک پاکستان کی سیاست میں پسِ پردہ رابطے اور بیک ڈور چینلز کوئی نئی بات نہیں، اس لیے ایسی ملاقات کا امکان مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ دیگر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ خبریں ایک نفسیاتی دباؤ کی حکمتِ عملی بھی ہو سکتی ہیں، جس کے ذریعے عمران خان کو سیاسی طور پر پیچھے ہٹنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جبکہ ایک تیسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ سب افواہوں کی سیاست کا حصہ ہے، جس کا مقصد پارٹی کے اندر بے چینی پیدا کرنا اور قیادت کے درمیان اعتماد کو متاثر کرنا ہو سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ تمام صورتحال کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اگر واقعی ملاقات نہیں ہوئی تو پھر یہ اطلاعات کس بنیاد پر سامنے آئیں؟ اور اگر ہوئی ہے تو اسے خفیہ کیوں رکھا جا رہا ہے؟ کیا واقعی عمران خان کو خاموشی اختیار کرنے کے بدلے کوئی ریلیف دینے کی پیشکش کی گئی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا واقعی پاکستان تحریک انصاف کے اندر کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے؟

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حتمی طور پر حقیقت ابھی تک واضح نہیں ہو سکی کہ عمران خان اور علی امین گنڈاپور کے درمیان واقعی کوئی ملاقات ہوئی بھی ہے یا نہیں۔ اسی کے ساتھ ایک اہم سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر یہ ملاقات ہوئی تو علی امین گنڈاپور آخر کس کا پیغام لے کر جیل پہنچے، کیونکہ اس وقت ان کے پاس نہ کوئی سرکاری عہدہ ہے اور نہ ہی وہ مقتدر حلقوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں مبصرین کا خیال ہے کہ ایسے حالات میں ان کی جانب سے کسی ممکنہ “ڈیل” کی خبریں سامنے آنا بظاہر کمزور اور غیر مصدقہ دکھائی دیتا ہے۔ اسی لئے تجزیہ کار اسے محض قیاس آرائی یا سیاسی فضا کو متاثر کرنے کی ایک ناکام کوشش قرار دے رہے ہیں۔

Back to top button