کیا ایران نے مذاکرات سے انکار کر کے پاکستان سے زیادتی کی؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار روف کلاسرا نے ایرانی قیادت کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے لیے اسلام آباد آنے سے انکار کو پاکستان کے لیے ایک منفی سفارتی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایرانی قیادت کو امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت اور شدت کا پہلے سے اندازہ تھا تو انہیں ابتدائی مرحلے میں ہی مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دینا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ سفارت کاری میں تسلسل اور اعتماد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ جب کوئی ملک مذاکرات کی میز پر آ بیٹھتا ہے تو پھر اسکے اتحادی ممالک بھی اس عمل کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایسے میں دوست ملک کی کوششوں اور سہولت کاری کا احترام کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ایرانیوں کو چاہیے تھا کہ وہ دوسرے راؤنڈ کے لیے اسلام آباد آ کر اپنی پوزیشن واضح کرتے، چاہے وہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے سے انکار ہی کیوں نہ کر دیتے۔ روف کلاسرا نے اپنے سیاسی تجزیے میں پاکستان کے کردار کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح پاکستان نے ایران کے لیے کھل کر سفارتی اور اخلاقی حمایت فراہم کی، اس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف عالمی سطح پر ایران کے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش کی بلکہ امریکہ کو بھی اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کشیدگی میں مزید اضافہ نہ کرے اور مذاکرات کی طرف آئے۔
انہوں نے ایران اور بھارت کے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایران، بھارت کے زیادہ قریب سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم حالیہ بحران میں بھارت کا رویہ خود ایرانیوں کے لیے حیران کن ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد نہ تو بھارتی قیادت نے ایران کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کیا اور نہ ہی ایرانی قیادت پر حملوں کی مذمت کی گئی۔
روف کلاسرا کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے نہ ایران اور امریکہ کی جنگ کے معاملے پر نہ صرف خاموشی اختیار کی بلکہ حملوں سے قبل اسرائیلی قیادت کے ساتھ قریبی تعلقات کا اظہار بھی کیا۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل ایران کے لیے ایک واضح پیغام ہونا چاہیے تھا کہ خطے میں اسکے حقیقی دوست کون ہیں۔ انہوں نے میڈیا کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھارتی ٹی وی چینلز پر ایرانی صحافیوں، یونیورسٹی پروفیسرز اور دانشوروں کو مسلسل مدعو کیا جا رہا ہے، جہاں ان سے پہلا سوال ہی پاکستان کے خلاف منفی انداز میں کیا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایرانی مہمان ان پروگرامز میں بھارت کے رویے پر کوئی سنجیدہ یا تنقیدی مؤقف اختیار نہیں کرتے، حالانکہ انہیں یہ سوال اٹھانا چاہیے تھا کہ جب ایران پر حملے ہو رہے تھے تو بھارت کہاں کھڑا تھا۔
روف کلاسرا نے کہا کہ پاکستان گزشتہ برس جون میں بھی اسرائیل امریکہ کی طرف سے ہونے والے حملوں کے بعد ایران کے ساتھ کھڑا ہوا تھا اور حالیہ بحران میں بھی اس نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے اپنے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ایران کو ممکنہ بڑے نقصان سے بچایا اور اسے مذاکرات کی میز تک لانے میں مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی راز نہیں کہ پاکستان کا ماضی میں امریکہ کے ساتھ جھکاؤ رہا ہے، مگر اسی تعلق کو ایران کے فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔
ایران سے جنگ کا پنگا لے کر ٹرمپ کس بھنور میں پھنس گئے ؟
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جنرل عاصم منیر کی زیر قیادت ایران میں تین دن تک موجود رہا، جس کا مقصد اعتماد سازی اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔ ایسے میں ایران پر اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ اسلام آباد آ کر مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھاتا۔ ان کے مطابق ایران اسلام آباد آ کر امریکی وفد سے ملاقات کے بعد اپنی شرائط واضح کر سکتا تھا، مثلاً یہ کہ پہلے سمندری ناکہ بندی ختم کی جائے، تب ہی کسی معاہدے پر بات ہو سکتی ہے۔ کلاسرا نے خبردار کیا کہ اسلام آباد آنے سے انکار کا اثر نہ صرف پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر پڑے گا بلکہ اس سے پاکستان کا تاثر بھی متاثر ہو سکتا ہے، جو بطور ثالث اپنا کردار ادا کر رہا تھا۔ ان کے مطابق اس فیصلے کا سب سے زیادہ نقصان خود ایران کو ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ ایک ایسے موقع سے محروم ہو گیا جہاں وہ اپنی سفارتی پوزیشن مضبوط کر سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایرانی وفد 21 اپریل کو اسلام آباد آ جاتا تو قوی امکان تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات کو حتمی مرحلے میں داخل کرنے کے لیے سمندری محاصرہ ختم کروانے میں کردار ادا کرتے۔ ان کے مطابق اس طرح ایک بڑی پیش رفت ممکن ہو جاتی جو خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی۔ روف کلاسرا کے مطابق موجودہ صورتحال میں اصل مسئلہ صرف پالیسی نہیں بلکہ رویے بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران دونوں کی ضد، انا، تکبر اور غرور اس بحران کو طول دے رہے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول اگر دونوں فریقین لچک کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائیں تو نہ صرف پوری دنیا میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ ایک پائیدار حل بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
