اسلام آباد ہائیکورٹ کے کونسے 5 عمرانڈو ججز ٹرانسفر ہونے والے ہیں؟

 

 

 

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے 28 اپریل کے اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ عمرانڈو ججز کو دوسری ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کرنے کی منظوری دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق یہ وہ جج ہیں جن کے بارے میں سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ان کی ہمدردیاں تحریک انصاف کے ساتھ ہیں، جو ان کے عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق جن ججوں کے نام دوسری ہائی کورٹ میں تبادلوں کے لیے زیرِ غور ہیں ان میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس ارباب محمد طاہر، جسٹس سمن رفعت امتیاز اور جسٹس خادم حسین سومرو شامل ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ان ججوں کو ملک کی مختلف ہائی کورٹس، بشمول لاہور، سندھ، پشاور اور بلوچستان ہائی کورٹس میں منتقل کرنے کا قوی امکان ہے۔ اس اجلاس کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان کریں گے۔

 

جوڈیشل کمیشن کا یہ اجلاس نہ صرف انتظامی نوعیت کا ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے بلکہ اس نے عدلیہ کے اندر ایک وسیع آئینی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ کمیشن کے بعض اہم ارکان کی جانب سے اس معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ آیا اس نوعیت کے تبادلوں کا اختیار کمیشن کے دائرہ کار میں آتا ہے یا نہیں۔

عدلیہ کے اندر ایک مضبوط نقطۂ نظر یہ ہے کہ اس نوعیت کے تبادلوں کی اجازت دینا ایک خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ججوں کو انتظامی بنیادوں پر قابلِ تبدیل یا قابلِ تصرف سمجھنے کا رجحان فروغ پا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسا متنازعہ اقدام عدلیہ کی ادارہ جاتی سالمیت اور خودمختاری پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

 

اسی تناظر میں تحریک انصاف کے لیے سیاسی ہمدردیاں رکھنے والی وکلا برادری کا کہنا ہے کہ اگر ان تبادلوں کو عملی شکل دی گئی تو یہ متعلقہ ججوں کے لیے ایک قسم کی تادیبی کارروائی کے مترادف ہو سکتے ہیں، حالانکہ آئین میں اس طرح کی کسی سزا کی گنجائش موجود نہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 200 کی روح سے متصادم ہو سکتا ہے، جو ججوں کے تبادلوں کو مخصوص اصولوں کے تحت محدود کرتا ہے۔ دوسری جانب عدلیہ کے اندر ایک مختلف رائے بھی پائی جاتی ہے، جس کے مطابق اعلی عدلیہ کو سیاسی ججوں سے پاک کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ عدالت کی ساکھ بحال ہو سکے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ آئین ججوں کے تبادلوں کے حوالے سے کافی لچک فراہم کرتا ہے۔ اس مؤقف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 200 کو ایک ایسی شق کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو ادارہ جاتی ضروریات کے مطابق استعمال کی جا سکتی ہے اور اس پر سخت پابندیاں عائد نہیں ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن کو یہ آئینی اختیار حاصل ہے کہ وہ عدالتی نظام کی ضروریات کے پیش نظر ججوں کے تبادلوں سے متعلق فیصلے کرے، اور اگر ضرورت ہو تو ماضی کی نظیروں پر بھی نظرِ ثانی کی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ تبادلوں کے لیے ججوں کی رضامندی کی شرط حالیہ آئینی ترمیم کے بعد ختم ہو چکی ہے۔ آئینی ماہرین کے مطابق حالیہ ترمیم کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 200 میں اہم تبدیلی کی گئی، جس کے بعد ججوں کو ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں منتقل کرنے کے لیے ان کی رضامندی لازمی نہیں رہی۔ اس ترمیم نے جوڈیشل کمیشن کے اختیارات کو مزید وسیع کر دیا ہے اور موجودہ صورتحال اسی کا نتیجہ سمجھی جا رہی ہے۔

 

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں صوبائی نمائندگی کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ وفاقی توازن ایک اہم اصول ہے، تاہم یہ کوئی لازمی آئینی تقاضا نہیں۔ اس مؤقف کے مطابق عدالتوں میں ہر وقت تمام صوبوں کی نمائندگی برقرار رکھنا ضروری نہیں ہے۔

اس کے علاوہ بڑی تعداد میں ججوں کے بیک وقت تبادلوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، تاہم اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ آئین میں اس حوالے سے کوئی عددی حد مقرر نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق اگر کسی عدالت میں آسامیوں کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو آئین کا آرٹیکل 175 اے اس کا حل فراہم کرتا ہے، جس کے تحت نئی تقرریاں کی جا سکتی ہیں۔

قانونی ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ہونے والے انتظامی تبادلے اور آرٹیکل 209 کے تحت ہونے والی تادیبی کارروائیوں میں واضح فرق موجود ہے۔ ان کے مطابق ججوں کے تبادلے کو کسی بھی صورت میں سزا یا احتساب کے عمل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

کیا ایران نے مذاکرات سے انکار کر کے پاکستان سے زیادتی کی؟

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن اس حساس معاملے پر غور کے لیے اِن کیمرہ اجلاس بھی منعقد کر سکتا ہے تاکہ عدالتی وقار اور رازداری کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس تناظر میں 28 اپریل کا اجلاس غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس اجلاس کے فیصلے نہ صرف ان پانچ ججوں کے مستقبل کا تعین کریں گے بلکہ یہ پاکستان میں عدالتی خودمختاری، آئینی تشریح اور ادارہ جاتی توازن پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس پیش رفت کو ملکی عدالتی تاریخ کے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Back to top button