کیا مجتبی خامنہ ای اب بھی شدید زخمی حالت میں ہیں؟

بین الاقوامی خبر رساں ادارے CNN نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ ان کی عوام میں نظر نہ آنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ شدید زخمی حالت میں ہیں اور پچھلے کئی ہفتوں سے زیر علاج ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے جس حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے تھے، اسی میں ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای بھی شدید زخمی ہو گئے تھے۔
ایرانی حکام کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو اس حملے میں شدید زخم آئے تھے۔ انکی ایک ٹانگ کے تین بڑے آپریشن ہو چکے ہیں اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر ان کے زخم مندمل نہ ہوئے تو انہیں مصنوعی ٹانگ لگانے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے ایک ہاتھ کا بھی آپریشن کیا گیا، جو تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا۔ طبی ذرائع کے مطابق ان کے چہرے اور ہونٹ بھی بری طرح جھلس گئے تھے، جس کے باعث انہیں بولنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ ان کے معالجین کا کہنا ہے کہ انہیں چہرے کے کچھ حصے کی پلاسٹک سرجری کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے، اگر ایسا ہوا تو ان کی مکمل صحت یابی کا عمل مزید طویل ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای مارچ میں سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھال چکے ہیں، تاہم وہ اب تک کسی عوامی تقریب یا کسی ویڈیو میں سامنے نہیں آئے۔ البتہ انہوں نے اپنی آواز میں دو پیغامات جاری کیے ہیں، جنہیں ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر نشر کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ویڈیو میں سامنے نہ آنے کی ایک بڑی وجہ ان کی جسمانی حالت کو خفیہ رکھنا ہے تاکہ وہ کمزور نہ دکھائی دیں۔ سی این این کے مطابق اس وقت ایران میں اصل فیصلہ سازی کا اختیار بڑی حد تک پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز اور ان کے قریبی حلقوں کے پاس ہے۔ اسکے علاوہ سیکیورٹی، جنگی حکمت عملی اور سفارتی اقدامات اجتماعی مشاورت کے تحت طے کیے جا رہے ہیں، جس سے ایران میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کا عندیہ ملتا ہے۔
ادھر سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے سابق مشیر عبدالرضا دواری نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ملک کو ایک کارپوریٹ انداز میں چلا رہے ہیں، جیسے کسی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سربراہ کرتے ہیں، جہاں اہم فیصلے اجتماعی مشاورت سے کیے جاتے ہیں، نہ کہ انفرادی طور پر۔
یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے مجتبیٰ خامنہ ای کی لوکیشن ابھی تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ 28 فروری کو ہونے والے حملے میں اپنے والد کی شہادت کے بعد وہ مکمل طور پر روپوش ہو گئے تھے اور ان تک رسائی انتہائی محدود کر دی گئی تھی۔ انکے پیغامات بھی خفیہ ذرائع سے منتقل کیے جاتے ہیں۔ ان کے روس منتقل ہو جانے کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت ایران کے اندر ہی کسی محفوظ مقام پر موجود ہیں اور ڈاکٹروں کی سخت نگرانی میں زیر علاج ہیں۔ تاہم مغربی خفیہ ادارے اور سفارتی حلقے اب تک ان کی درست لوکیشن کا تعین کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
ایرانی مذاکراتی وفد کی جانیں خطرے میں کیوں پڑ گئیں؟
یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے سپریم لیڈر منتخب ہونے کے بعد اپنے والد کی طرح امریکا اور اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے والد کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا بلکہ خلیجی ممالک سے امریکی فوجی اڈوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی کر دیا، بصورت دیگر انہوں نے میزائل اور ڈرون حملوں میں شدت لانے کی دھمکی دی تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں اس وقت اصل طاقت ریاستی اور عسکری اداروں، خصوصاً پاسدارانِ انقلاب کے پاس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں فیصلے کسی ایک شخصیت کے بجائے ایک طاقتور سیکیورٹی نیٹ ورک کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، جو ایران کی پالیسیوں کو مزید جارحانہ رخ دے سکتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایران کی نئی قیادت اس وقت پراسراریت اور جنگی دباؤ کے ماحول میں کام کر رہی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای بظاہر اقتدار میں ہیں، مگر ان کی صحت، لوکیشن اور عملی کنٹرول کے حوالے سے کئی سوالات تشنہ جواب ہیں، جو نہ صرف ایران بلکہ عالمی سیاست کے لیے بھی ایک معمہ بن چکے ہیں۔
