کروڑ پتی بننے کے خواب چکنا چور، ایرانی ریال خریدنے والے لٹ گئے

 

 

 

پاکستانی سرمایہ کاروں کے ایرانی ریال کی خریداری کا جوا کھیل کر گھر بیٹھے کروڑ پتی بننے کے خواب چکنا چور ہو گئے، کروڑ پتی بننے کے سبز باغ دکھا کر ایرانی کرنسی فروخت کرنے والے فراڈیے منظرعام سے غائب ہو گئے۔ایران اور امریکا کی جنگ کے دوران لاکھوں پاکستانی روپوں کے عوض اربوں ایرانی ریال خریدنے والے سرمایہ کار اب خریدی گئی ایرانی کرنسی کی فروخت کیلئے در بدر کی ٹھوکریں کھانے لگے کیونکہ ایرانی کرنسی خریدنے والوں کو امید تھی کہ پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے اور ایرانی ریال کا ریٹ اوپر جائے گا اور فروخت کی صورت میں ان کو زیادہ منافع ملے گا۔ تاہم مارکیٹ میں اب افواہیں گردش کرنے لگی ہیں کہ اگر مذاکرات کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تو کرنسی کے اوپر جانے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں ایران اپنی پہلے سے موجود کرنسی کو ترک کر کے نئے کرنسی نوٹ جاری کر سکتا ہے، معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق جنگی حالات، افواہوں اور منافع کے لالچ نے ہزاروں افراد کو اس کاروبار کی طرف راغب کیا، مگر اب یہی فیصلہ ان کے لیے ذہنی پریشانی کا باعث بن چکا ہے۔ چند ماہ قبل ایرانی ریال خرید کر کروڑ پتی بننے کے خواب دیکھنے والے افراد اپنی اسی سرمایہ کاری کے بوجھ تلے دبے دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے ایرانی ریال کی خریداری ایک سنہری موقع کی بجائے ایک خطرناک جوابن چکی ہے، جس نے پاکستانیوں کے گھر بیٹھے کروڑ پتی بننے کے خواب چکنا چور کر دئیے ہیں۔ لوگوں کو بڑے منافع کے سبز باغ دکھا کر ایرانی کرنسی فروخت کرنے والے عناصر اب منظر سے غائب ہو چکے ہیں، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران لاکھوں پاکستانی روپوں کے عوض اربوں ایرانی ریال خریدنے والے افراد اب اس کرنسی کو فروخت کرنے کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق جنگی حالات، افواہوں اور منافع کے لالچ نے ہزاروں افراد کو اس کاروبار کی طرف راغب کیااور کئی پاکستانیوں نے لاکھوں روپے خرچ کر کے اربوں ریال کی ایرانی کرنسی خرید لی، ایران امریکہ جنگ بندی کے بعد سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں ایرانی ریال کی قدر میں اضافہ ہوگا اور وہ ایرانی کرنسی سے بھاری منافع کما سکیں گے۔ تاہم اب مارکیٹ میں گردش کرنے والی اطلاعات نے ان کی امیدوں کو دھندلا دیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کی کامیابی کے باوجود ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں اضافہ کا کوئی امکان نہیں، بعض ماہرین کا تو ماننا ہے کہ مستقل جنگ بندی کی صورت میں ایران اپنی موجودہ کرنسی کو ترک کر کے نئی کرنسی بھی جاری کر سکتا ہے، جس سے موجودہ ریال کی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق چند ماہ قبل بھاری منافع کیلئے اربوں ایرانی ریال خرید کر کروڑ پتی بننے کے خواب دیکھنے والے افراد آج اپنی سرمایہ کاری کو بچانے کے لیے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی ایرانی ریال کی خریداری کے اس چنگل میں پھنسے کیسے؟ذرائع کے مطابق کرنسی مارکیٹ میں اس وقت بڑی تبدیلی آئی جب افغان کرنسی کا کاروبار اچانک سست پڑ گیا۔ اسی دوران ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی نے ایک نیا موقع پیدا کیا۔ سٹے بازوں نے عوام کو ورغلانا شروع کر دیا کہ جنگ بندی کے بعد ایرانی ریال کی طلب اچانک بڑھ جائے گی اور جو بھی ابھی خریداری کرے گا، وہ آنے والے وقت میں کروڑوں کما سکتا ہے۔ اس طرح تقریباً 6 لاکھ پاکستانی روپے کے عوض ایک ارب ایرانی ریال تک فروخت کیے گئے، جبکہ بعض افراد نے کروڑوں روپے لگا کر کھربوں ریال خرید ڈالے۔ اس دوران ریال کی قیمت میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں تقریباً چار گنا اضافہ بھی دیکھنے میں آیا، جس نے مزید لوگوں کو اس “سنہری موقع” کی طرف کھینچ لیا۔

 

خریداروں کو یقین دہانیاں کروائی گئیں کہ اگر ریٹ نہ بڑھا تو فروخت کرنے والے خود ہی ریال واپس خرید لیں گے۔ مگر اب صورتحال یہ ہے کہ ایرانی ریال فروخت کرنے والے بیوپاری مارکیٹ سے غائب ہو چکے ہیں۔ خریدار در بدر پھر رہے ہیں اور انہیں اپنی سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آ رہی ہے۔ ایک مقامی تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “لوگوں کو بہت سبز باغ دکھائے گئے۔ حقیقت میں یہ ایک بڑا سٹہ تھا، جس میں رسک بہت زیادہ تھا مگر لوگوں نے بغیر سوچے سمجھے پیسہ لگا دیا اور اب وہ اپنے پیسے کو بچانے کیلئے خوار ہو رہے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل ایران کے “ییلو کیک“ سے خوفزدہ کیوں؟

معاشی ماہرین اور تجزیہ کار اس صورتحال کو تین ممکنہ منظرناموں میں دیکھ رہے ہیں۔ پہلی صورت یہ ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو بظاہر ریال کی قدر میں اضافہ ہو سکتا ہے، مگر یہ اضافہ اتنا زیادہ نہیں ہوگا کہ لوگ کروڑوں کما سکیں۔ دوسری اور زیادہ خطرناک صورت یہ بتائی جا رہی ہے کہ ایران نئی کرنسی جاری کر سکتا ہے، جس کی صورت میں موجودہ ریال کاغذ کے ٹکڑے بن سکتے ہیں اور سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ تیسری صورتیہ ہے کہ مذاکرات ناکام ہو جائیں، جس کے نتیجے میں ریال کی قدر مزید گر سکتی ہے اور سرمایہ مکمل طور پر ڈوب سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس وقت مارکیٹ میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو نقصان برداشت کرتے ہوئے ریال فروخت کر رہے ہیں، جبکہ کچھ اب بھی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید حالات بہتر ہو جائیں۔ تاہم کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو ان بیوپاریوں کو تلاش کر رہے ہیں جنہوں نے ان سے وعدے کیے تھے، مگر اب ان کا کوئی نام و نشان نہیں۔

Back to top button