ایرانی مذاکراتی وفد کی جانیں خطرے میں کیوں پڑ گئیں؟

 

 

 

ایران کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایرانی قیادت کو امریکی صدر ٹرمپ پر رتی بھر اعتبار نہیں اور انہیں یہ اطلاع تھی کہ اس مرتبہ مذاکرات ناکام ہوئے تو نہ صرف ایران پر دوبارہ حملہ کر دیا جائے گا بلکہ مذاکراتی وفد کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہی خدشات کے پیش نظر ایران کو پیشکش کی گئی تھی کہ اس مرتبہ پاکستان ایئر فورس کا خصوصی جہاز لڑاکا طیاروں کی معیت میں ایرانی وفد کو تہران سے اسلام آباد لے کر آئے گا۔ تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے سے انکار کے بعد ایرانی وفد نے مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں شرکت سے انکار کر دیا۔

 

معروف لکھاری حفیظ اللہ خان نیازی نے اپنے سیاسی تجزیے میں یہ دعوے کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ ڈیڈ لاک کی بنیادی وجہ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کی بد نیتی اور ان پر عدم اعتماد ہے، چنانچہ ایک سادہ مسئلہ بھی سنگین بحران میں تبدیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر نیتیں صاف ہوں تو بڑے سے بڑا تنازع بھی آسانی سے حل ہو سکتا ہے، مگر موجودہ صورتحال اس کے برعکس ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے، جس کی اصل وجہ باہمی بداعتمادی ہے۔ ایران نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ جب تک اسکی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی، کسی بھی قسم کے مذاکرات یا جنگ بندی میں توسیع سراسر بے معنی ہے۔ حفیظ اللہ نیازی کے مطابق ایرانی قیادت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے واضح طور پر کہا ہے کہ ناکہ بندی دراصل اعلان جنگ کے مترادف ہے اور ایران اس کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ اسی طرح پاسداران انقلاب کے کمانڈرز نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی بندرگاہیں بند رہیں تو خطے کی دیگر بندرگاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں گی۔

 

انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو غیر مستقل اور متضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات مسلسل بدلتے رہتے ہیں، جس سے کسی بھی سنجیدہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا مشکل ہو گیا ہے۔ ٹرمپ اپنی اندرونی سیاست کو بچانے کے لیے ایران سے کسی بھی قیمت پر معاہدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ حفیظ نیازی نے کہا کہ ایران کے اندر اس وقت اصل بحث مذاکرات میں شرکت نہیں بلکہ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں سے نمٹنے کے طریقہ کار پر ہو رہی ہے۔ ایرانی عسکری قیادت اس بات پر زیادہ توجہ دے رہی ہے کہ اگر صورتحال مکمل جنگ میں بدل جائے تو فوری ردعمل کیسے دیا جائے۔

 

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ بحری ناکہ بندی کا مقصد ایران میں معاشی بحران، خوف اور اندرونی انتشار پیدا کرنا ہے تاکہ مستقبل میں عسکری دباؤ بڑھانے کے لیے ماحول سازگار بنایا جا سکے۔ اسی وجہ سے ایران مذاکرات کے بجائے اپنی دفاعی حکمت عملی کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔ پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ خطے میں امن پاکستان کی بنیادی ضرورت ہے اور پاکستان اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی عسکری قیادت نے تہران میں قیام کے دوران ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ایران ماضی کے تجربات کی بنیاد پر محتاط ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کی آج اسلام آباد آمد متوقع

حفیظ اللہ نیازی نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری تھے، مگر پس پردہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ان کے مطابق یہی وہ وجہ ہے جس کے باعث ایران اب کسی بھی ثالث یا مذاکراتی عمل پر مکمل اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماہرین کی بڑی ٹیم بھیجی، جبکہ امریکی وفد نہایت محدود اور غیر سنجیدہ تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اس معاملے کو کس قدر سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ صورتحال میں ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر کے عالمی سطح پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو بحیرہ احمر اور باب المندب تک حالات خراب ہو سکتے ہیں، جس سے عالمی تجارت اور معیشت شدید متاثر ہوگی۔

 

حفیظ اللہ نیازی نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی بحری ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور ایک بڑے عالمی بحران کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران واضح کر چکا ہے کہ ناکہ بندی کے ہوتے ہوئے وہ خود کو حالت جنگ میں سمجھتا ہے، اور اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔

Back to top button