امریکہ اور اسرائیل ایران کے “ییلو کیک“ سے خوفزدہ کیوں؟

 

 

 

دنیا میں یورینیم یا ’ییلو کیک‘Yellowcake کے نام سے جانی جانے والی ایک بظاہر معمولی سی سرمئی چٹان، آج عالمی سیاست، سفارت کاری اور طاقت کے توازن کا مرکزی محور بن چکی ہے۔ یہی وہ دھات ہے جس نے ایران کو عالمی طاقتوں کے سامنے لاکھڑا کیا ہے اور امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک ایران کے افزودہ یورینم کے بڑے بڑے ذخائر سے تھر تھر کانپ رہے ہیں۔ مبصرین کے بقول یہاں ایران سے امریکہ اور اسرائیل کی لڑائی کی اصل وجہ صرف یہ دھات نہیں بلکہ وہ غیر معمولی طاقت ہے جو اس دھات کے اندر پوشیدہ ہے۔ ماہرین کے نزدیک یورینیم ایک ایسی پراسرار دھات ہے جو بظاہر سادہ دکھائی دیتی ہے مگر اس کے استعمال کا دائرہ انتہائی وسیع ہے۔ یہ بجلی پیدا کرنے والے ایٹمی ری ایکٹرز سے لے کر میزائلوں کے وار ہیڈز تک مختلف شعبوں میں استعمال ہوتی ہے۔ تاہم ہر چیز میں موجود ہونے کے باوجود بہت سے لوگوں کے لیے اب بھی نامعلوم ہے۔

 

ماہرین کے مطابق حقیقت میں یورینیم ہی وہ عنصر ہے جس کی خاطر نہ صرف ماضی میں کئی جنگیں لڑی گئیں بلکہ اس کے حصول اور کنٹرول کے لیے بڑی ریاستوں نے غیر معمولی سیاسی اور عسکری اقدامات بھی کیے۔ ایران نے بھی اس معاملے کو اپنی قومی خودمختاری اور طاقت کے ساتھ جوڑ دیا ہے اور اپنے بڑے بڑے جنرلز، کمانڈرز اور مقدس مذہبی پیشوا مجتبیٰ علی خامنہ ای تک کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ جس کے باعث یہ مسئلہ مزید حساس ہو چکا ہے۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یورینیم حقیقت میں کیا ہوتی ہے، اسے کیسے نکالا جاتا ہے اور ایران اس کی وجہ سے دنیا کے مدمقابل کیوں کھڑا ہے؟

 

ماہرین کے بقول یورینیم دراصل ایک تابکاری دھات ہے جو زمین کی تشکیل کے وقت سے اس کا حصہ ہے۔ بظاہر یہ ایک عام پتھر جیسی دکھائی دیتی ہے، مگر اس کی اندرونی ساخت اسے دنیا کے سب سے حساس اور خطرناک مواد میں شامل کرتی ہے۔ اس دھات کی دو اہم اقسام ہیں، جن میں یورینیم 238 زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے جبکہ یورینیم 235 نہایت کم مقدار میں پایا جاتا ہے، کم دستیابی کی وجہ سے اسے انتہائی قیمتی تصور کیا جاتا ہے کیونکہ یہی یورینیم 235 ایٹمی توانائی پیدا کرنے اور ایٹمی ہتھیار بنانے کی بنیاد بنتا ہے۔

 

ایکسپرٹس کے مطابق قدرتی حالت میں یورینیم براہِ راست استعمال کے قابل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے اسے ایک پیچیدہ عمل سے گزارا جاتا ہے جسے افزودگی کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں جدید مشینوں کے ذریعے یورینیم کے مختلف اجزاء کو الگ کیا جاتا ہے اور خالص یورینیم 235 کی مقدار بڑھائی جاتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سے ایران کا عالمی طاقتوں سے تنازع جنم لیتا ہے، چونکہ کم سطح کی افزودگی بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، جبکہ زیادہ سطح کی افزودگی ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں مدد دیتی ہے۔

 

یہی وجہ ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران، افزودگی کی ایسی سطح تک پہنچ چکا ہے جو عام شہری استعمال سے کہیں زیادہ ہے۔ یہی بات مغربی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، جبکہ اسرائیل اسے اپنی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے۔

کیا مجتبی خامنہ ای اب بھی شدید زخمی حالت میں ہیں؟

ماہرین کے مطابق یورینیم کا استعمال صرف ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری تک محدود نہیں بلکہ یہ جدید دنیا کے کئی اہم شعبوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ بجلی کی پیداوار سے لے کر طب، دفاع، خلائی تحقیق اور صنعت تک اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔ دنیا بھر میں سینکڑوں ایٹمی ری ایکٹرز اسی دھات سے توانائی حاصل کر رہے ہیں، جو عالمی بجلی کی ایک بڑی مقدار فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح کینسر کے علاج، بحری آبدوزوں کی طاقت اور حتیٰ کہ خلائی مشنز میں بھی یورینیم بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ یورینیم کے حوالے سے اصل تنازع اس کے عسکری استعمال پر ہے۔ امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو بھی ایران کے بارے میں یہی خدشہلاحق ہے کہ اگر ایران نے افزودگی کو مزید بڑھایا تو وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ سکتا ہے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن یکسر بدل سکتا ہے۔

 

ماہرین کے مطابق یورینیم کی عالمی منڈی بھی عام اشیاء کی طرح نہیں چلتی کہ پیسے دیں اور یورینیم خرید لیں۔یورینیم کی خرید و فروخت خفیہ معاہدوں کے تحت ہوتی ہے اور اس پر سخت بین الاقوامی نگرانی رکھی جاتی ہے۔ چند بڑے ممالک اس کی پیداوار پر حاوی ہیں، جبکہ ہر لین دین پر عالمی اداروں کی نظر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورینیم دنیا کی ان چند اشیاء میں شامل ہے جن کی تجارت مکمل شفاف نہیں بلکہ حساسیت کے دائرے میں رہتی ہے۔ مبصرین کے بقول یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ’ییلو کیک‘ یا یورینیم محض ایک دھات نہیں بلکہ طاقت، خوف، سیاست اور سائنس کا مجموعہ ہے۔ یہ یورینیم کی طاقت ہی ہے جس نے ایران جیسے کمزور ملک کو بھی امریکہ جیسی عالمی طاقتوں کے مقابلے میں لاکھڑا کیا ہے

Back to top button