پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے مذاکرات ناکام

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان پاور شئیرنگ پر بڑھتے ہوئے اختلافات ختم کرنے کے قیادت کی پہلی ملاقات ناکام رہی بے جسے دونوں اطراف بے نتیجہ قرار دے رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے 9 دسمبر کو ہونے والی ملاقات کے بعد ایک مختصر پریس ریلیز جاری کی جس میں پنجاب ہاؤس میں مذاکرات میں شامل اراکین کے ناموں سے آگاہ کیا گیا۔

بتایا جاتا یے کہ اس ملاقات میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی کےحوالے سے تحفظات اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے زیر انتظام پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کے لیے یکساں مواقع کی عدم فراہمی کا جائزہ لیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق پارٹی نے اہم پالیسی فیصلے کرتے وقت مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اتحادی جماعتوں کو ساتھ نہ لینے پر برہمی کا اظہار کیا۔ پیپلز پارٹی نے پارلیمنٹ میں حال ہی میں جلد بازی میں قانون سازی کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کو ہمارا تعاون درکار ہےتو انہیں اپنے اتحادیوں کو اہمیت دینی ہو گی اور اپنا رویہ تبدیل کرنا ہو گا۔

بتایا جاتا ہے کہ وفاق میں دونوں اہم اتحادی جماعتوں کےدرمیان ملاقات میں بار بار کے وعدوں کے باوجود پیپلز پارٹی کے مطالبے پر سرکاری افسران کی تقرری نہ کرنے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے پنجاب کے علاقے چولستان میں دریائے سندھ پر 6 نہروں کی مجوزہ تعمیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھاکہ اس منصوبے سے سندھ میں پانی کا بحران سنگین ہو جائے گا اور وہاں کی زمینیں مکمل طور پر بنجر ہو جائیں گی۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی توجہ اس منصوبے کیخلاف سندھ کے مختلف علاقوں میں جاری مظاہروں کی طرف مبذول کرائی۔ دونوں فریقین نے سیاسی اور قانونی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جس میں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا متنازع مسئلہ بھی شامل ہے۔
پیپلز پارٹی کےرہنماؤں نے مسلم لیگ (ن) سے وضاحت طلب کی کہ وہ چولستان نہروں کے لیے پانی کہاں سے حاصل کریں گے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ یہ منصوبہ ملک کو خشک سالی جیسی صورت حال کی طرف لے جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں شامل خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے پارٹی کی نمائندگی کرنےوالے رہنماؤں نے اپنے صوبوں میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنی اہم اتحادی جماعت کے تحفظات دور کرنے کےلیے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ حالیہ ملاقات میں نائب وزیر اعظم اسحٰق ڈار کی جانب سے دی گئی یقین دہانی پر ملاقات کی۔
ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کا وفد اپنے اختلافات دور کرنے کے لیے باقاعدگی سے ملاقاتیں کریں گی۔
یاد ریے کہ فروری 2024 کے عام انتخابات کےبعد مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت حکومت کے قیام کےبعد سے دونوں اہم اتحادی جماعتوں کے درمیان یہ پہلی واضح دراڑ ہے۔ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ مسلم لیگ نون پاور شیئرنگ فارمولے پر عمل کرنے میں ناکام رہی ہے اور پیپلز پارٹی زیادہ عرصہ یہ زیادتی برداشت نہیں کرے گی۔ ان کا موقف تھا کہ پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ مایوسی وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے رویے پر ہوئی ہے جو بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود ان کے مطالبات تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔

Back to top button