فیض حمید اور عمران خان جرائم میں حصہ دار تھے : خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک و شبہے کی گنجائش نہیں کہ فیض حمید اور عمران خان جرائم میں حصہ دار تھے، ان دونوں کےمفادات ایک ہوگئے تھے۔

سینئر رہنما مسلم لیگ ن خواجہ آصف نے کہاکہ عمران خان نے ٹھان لی تھی کہ فیض حمید کو ہی لائن میں لگانا ہے تاکہ آرمی چیف وہی بنیں اور پھر دس سال کا پروگرام جاری و ساری رہے۔

خواجہ آصف نے کہاکہ اس خواب کی تعبیر کےلیے انہوں نے آخری کوشش 9 مئی کو کی کہ ادارے کے اندر سےکوئی ایسی بات ہو جس سے ہماری واپسی کی راہ ہموار ہوسکے۔

انہوں نےکہاکہ جو چارج شیٹ سامنےآئی ہے اس کے ملزم اکیلے فیض حمید نہیں، بلکہ عمران خان بھی ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیاکہ ان کو اطلاع ہےکہ فرد جرم ٹھوس شواہد پر مبنی ہے،اس کیس میں اصل کرداروں تک پہنچنا ہےجس میں سرفہرست عمران خان ہیں۔

یاد رہےکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو باضابطہ طور پر چارج شیٹ کر دیا گیاہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کےمطابق فیض حمید کےخلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی اور فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے اگلے مرحلے میں فیض حمید کو باضابطہ طور پر چارج شیٹ کر دیا گیاہے۔

آئی ایس پی آر کےمطابق ان چارجز میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا،آفیشل سکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزیاں کرتےہوئے ریاست کے تحفظ اور مفاد کو نقصان پہنچانا،اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور افراد کو نا جائز نقصان پہنچانا شامل ہیں۔

جنرل فیض حمید کو 9 مئی سمیت کئی الزامات پر سزائے موت کا سامنا

آئی ایس پی آر کاکہنا ہے کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے عمل کےدوران ملک میں انتشار اور بدامنی سے متعلق پرتشدد واقعات میں فیض حمید کے ملوث ہونےسے متعلق علیحدہ تفتیش بھی کی جارہی ہے۔

Back to top button