جنرل فیض حمید کو 9 مئی سمیت کئی الزامات پر سزائے موت کا سامنا

سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ریٹائیرڈ فیض حمید کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور سیاست میں مداخلت کے علاوہ 9 مئی کو ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازش کے سنگین الزامات کے تحت باضابطہ طور پر چارج شیٹ کر دیا گیا ہے۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ چارج شیٹ کیے جانے کے بعد فیض حمید کو یقینی طور پر سزا ملنے جا رہی ہے اور انہیں آئندہ چند ہفتوں میں سزائے موت سنائے یا عمر قید جیسی کڑی سزائیں سنانے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فیض حمید کو ٹاپ سٹی سکینڈل میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں تفتیش کے دوران انہوں نے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا جن میں 9 مئی کے روز ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔ 9 مئی کے واقعات عمران خان کی گرفتاری کے دو روز بعد ہوئے جبکہ عمران نے اپنی گرفتاری سے پہلے ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ اگر انہیں حراست میں لیا گیا تو ملک بھر میں ہنگامے شروع ہو جائیں گے۔ جنرل فیض حمید پر 9 مئی کے ہنگاموں کے چیف منصوبہ ساز ہونے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے جس کے بعد اس الزام پر عمران خان کا ٹرائل بھی یقینی ہو گیا ہے۔
اب آئی ایس پی ار کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کیخلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کے اگلے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے اور انھیں باقاعدہ چارج شیٹ کر دیا گیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت لیفٹیننٹ جنرل (ر)فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے اگلے مرحلے میں فیض حمید کو باضابطہ طور پر چارج شیٹ کر دیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی پر فریم کئے گئے چارجز میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزیاں کرتے ہُوئے ریاست کے تحفظ اور اسکے مفاد کو نقصان پہنچانا، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال کرنا اور افراد کو ناجائز نقصان پہنچنانا شامل ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے عمل کے دوران ملک میں انتشار اور بدامنی سے متعلق پرتشدد واقعات میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے ملوث ہونے سے متعلق علیحدہ تفتیش بھی کی جا رہی ہے، ان پرتشدد اور بدامنی کے متعدد واقعات میں 9 مئی سے جڑے واقعات بھی شامل تفتیش ہیں۔ آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ ان پرتشدد واقعات میں مذموم سیاسی عناصر کی ایماء اور ملی بھگت بھی شامل تفتیش ہے، یہاں دراصل آئی ایس پی ار عمران اور ان کی تحریک انصاف کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔ آئی ایس پی ار کا کہنا ہے کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے عمل کے دوران لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو قانون کے مطابق تمام قانونی حقوق فراہم کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب راولپنڈی میں انتہائی باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کی ایک نہیں بلکہ کئی کارروائیاں بیک وقت جاری ہیں۔ انہیں گرفتار تو ٹاپ سٹی اسکینڈل میں کیا گیا تھا لیکن دوران تفتیش کئی ایسے سنگین کیسز بھی سامنے آئے جن کی بنیاد پر ان کے خلاف مزید مقدمات بھی بنا دیے گئے۔ جنرل فیض حمید کو 9 مئی 2023 کو فوجی بغاوت کا ماسٹر مائنڈ ہونے کے الزام کا بھی سامنا ہے جب ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملے کیے گے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سازش کے الزام میں 200 سے زائد فوجی افسران کے خلاف کاروائیاں پہلے ہی کی جا چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق فیض حمید پر تقریبا تمام کیسز میں فرد جرم عائد ہونے کے بعد انکوائریاں جاری ہیں اور اب معاملات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں جس کے بعد اگلے چند ہفتوں میں انہیں سخت ترین سزائیں سنائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فیض حمید پر نئے الزامات میں بغاوت کی سازش کے علاوہ ریاست پاکستان اور افواج پاکستان کے مفادات کے خلاف سازش کا الزام بھی شامل ہے۔
یاد رہے کہ فیض حمید کو آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی پر 12 اگست 2024 کو کورٹ مارشل کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔ ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک معیز احمد خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر جنرل فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔ معیز نے الزام لگایا تھا کہ فیض کے ایما پر 12 مئی 2017 کو رینجرز اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے ٹاپ سٹی کے دفتر اور ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ فیض حمید کے بھائی سردار نجف حمید پٹواری نے ٹاپ سٹی ہاؤزنگ سوسائٹی کی زمین اپنے نام کروانے کے لیے ان پر دباؤ ڈالا۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا فیض کے ایما پر آئی ایس آئی کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر نعیم فخر اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر غفار نے معیز کو زبردستی 4 کروڑ روپے نقد ادا کرنے پر بھی مجبور کیا۔ یاد رہے کہ تب فیض حمید آئی ایس آئی کے سربراہ تھے۔
باخبر عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی افسر کو 35 اقسام کے جرائم پر سزا ہو سکتی ہے۔ ان میں ملک دشمنوں سے تعلق، جس ملک میں تعینات ہوں وہاں کے رہائشیوں یا جائیداد کے خلاف سرگرمیاں، کسی کے گھر پر لوٹ مار کی غرض سے چھاپہ، اور دیگر کئی جرائم شامل ہیں۔ کورٹ مارشل میں سزاؤں سے متعلق پاکستان آرمی ایکٹ کے آرٹیکل 60 میں تفصیلات درج ہیں۔ آرمی ایکٹ کے آرٹیکل 60 کے مطابق جرائم کے مرتکب افراد کو کورٹ مارشل کے ذریعے مختلف سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ کورٹ مارشل کے ذریعے سنگساری، سزائے موت، ہاتھ پاؤں کاٹنے اور عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ ایکٹ کے مطابق قید کی سزا 25 سال اور زیادہ سے زیادہ ایک سو کوڑے اور کورٹ مارشل کے ذریعے نوکری سے نکالنے کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ تمام الاؤنسز ضبط کیے جا سکتے ہیں۔
عسکری ذرائع کے مطابق کسی بھی فوجی افسر کو کورٹ مارشل سے سزا ہونے کے بعد وفاقی حکومت یا آرمی چیف یا بریگیڈیئر رینک کا آفسر آرمی چیف کی اجازت سے مشروط یا غیر مشروط، پوری یا کچھ سزا معاف کر سکتا ہے مگر کوئی سزا جو حدود کے تحت دی گئی ہو، وہ نہ معاف ہو گی نہ ہی کم کی جا سکتی ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ جنرل فیض حمید کو سنائی جانے والی متوقع سزا میں کسی قسم کی رعایت اس لیے نہیں مل سکتی کہ انہوں نے موجودہ فوجی قیادت اور آرمی چیف کے خلاف سازش کی تھی۔
