فیض حمید نے پی ٹی آئی کو بطور ہتھیار کس کس کیخلاف استعمال کیا؟

‘آئی ایس آئی’ کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف چارج شیٹ کا معاملہ تاحال سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے جہاں ایک جانب جنرل فیض حمید پر فرد جرم عائد کئے جانے کے بعد عمران خان کے ملٹری ٹرائل کی خبریں سامنے آ رہی ہیں وہیں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ پاک فوج اور خفیہ اداروں پر ماضی میں بھی سیاست میں مداخلت سمیت، کرپشن اور دیگر الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ لیکن کبھی کسی فوجی افسر کے خلاف وہ سخت ایکشن نظر نہیں آیا جو اس وقت فیض حمید کے خلاف نظر آ رہا ہے۔
اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی فوج اور خفیہ ایجنسیوں پر سیاست میں مداخلت کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ لیکن فیض حمید کے بارے میں جو الزامات سامنے آ رہے ہیں ان سے لگتا ہے کہ فیض حمید اپنے مقاصد کے لیے ادارے کے ‘مقاصد’ سے آگے نکل گئے تھے۔بعض ماہرین کے مطابق جنرل فیض حمید نے ایک سیاسی جماعت کو اپنا ہتھیار بنا کر اپنی راہیں ہموار کرنے کی کوشش کی اور جب اس میں ناکام رہے تو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنی کوششیں ترک نہیں کیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ فوج سب کچھ برداشت کر سکتی ہے لیکن اپنے ہی ادارے کے خلاف بغاوت اور سیاسی جماعت کو مدِمقابل کھڑا کرنے کے جرم کو کبھی معاف نہیں کرتی۔ جنرل فیض حمید کا یہی جرم ان کے گلے کا طوق ثابت ہوا ہے
تجزیہ کاروں کے مطابق لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید پر قانون کے مطابق لازم تھا کہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد پانچ سال تک سیاست سے دور رہیں اور اس دوران وہ کسی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے اعلانیہ یا غیر اعلانیہ روابط نہیں رکھیں گے نہ ہی کوئی معلومات افشاء کرینگے۔ تاہم جنرل فیض حمید پر الزام ہے کہ وہ نہ صرف اپنی سروس کے دوران بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں مزید ملوث ہو گئے اور نو مئی کو پاکستان کی مختلف فوجی تنصیبات پر منظم حملوں میں بھی ان کا کردار تھا۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ‘پلڈاٹ’ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر جنرل فیض حمید پر الزام ہے کہ اُنہوں نے موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر کے خلاف عمران خان کی جماعت کا ساتھ دیا۔اُن کے بقول سیاسی مداخلت ایک اور بات ہے لیکن کسی سیاسی جماعت کے ساتھ مل کر اپنی ہی فوج کے خلاف کام کرنا پہلی مرتبہ ہوا ہے اور میرے خیال میں شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف سخت کارروائی ہو رہی ہے۔
احمد بلال محبوب کے مطابق ماضی میں آرمی چیف کی دوڑ سے باہر ہونے والے فوجی افسران ریٹائرمنٹ لے کر گھر جانے کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ لیکن جنرل فیض پر یہ الزام تھا کہ وہ خود آرمی چیف بننا چاہتے تھے اور ناکامی کے بعد وہ ایک سیاسی جماعت کے ساتھ رابطے میں رہے جو فوج کے ضابطوں کے خلاف تھا۔
احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ نو مئی کو جو کچھ ہوا اس کی منصوبہ بندی کا الزام بھی جنرل فیض پر لگایا جا رہا ہے جس میں اسٹریٹجک مقامات پر باقاعدہ منظم حملے کیے گئے تھے۔
اُن کے بقول ایسا تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے اور فوج ان باتوں پر ایک مثال قائم کرنا چاہے گی تاکہ مستقبل میں کوئی بھی افسر ایسا کرنے کا نہ سوچے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان الزامات انہیں سزائے موت دی جاتی ہے یا عمر قید تاہم یہ حقیقت ہے کہ فوج جنرل فیض کو مستقبل کیلئے ایک مثال ضرور بنائے گی۔
تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) سید نذیر کہتے ہیں کہ چھپ کر اور سامنے آ کر سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ‘ڈیپ اسٹیٹ’ ہوتی ہے جہاں انٹیلی جینس ادارے ملک کی پالیسیوں کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور حکومت پر اثرانداز ہوتے ہیں لیکن فیض حمید کے حوالے سے جو کچھ ہوا وہ ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔
کیا اسلام آباد احتجاج کی کال فیض حمید کو بچانے کے لیے دی گئ
سید نذیر کے بقول افغانستان سے کالعدم تحریکِ طالبان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کو واپس لانے کا الزام بھی جنرل فیض پر لگتا ہے۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس معاملے پر انہوں نے ‘سولو فلائٹ’ کی اور دفترِ خارجہ بھی اس پر آن بورڈ نہیں تھا۔اُن کے بقول یہ وہ قدم تھا جس سے فوج کے اندر بھی ان پر تنقید کی گئی تھی۔ اس میں اتنی عجلت کا مظاہرہ کیا گیا کہ معاہدے کے بغیر ہی کئی لوگ یہاں واپس آ چکے تھے۔
