فیض حمید کا ٹرائل مارچ تک مکمل ہوجائےگا، جاوید چوہدری کا دعویٰ

معروف صحافی اور کالم نگار جاوید چوہدری نےدعویٰ کیا ہے کہ جنرل (ر) فیض حمید کا ٹرائل مارچ 2025 تک مکمل ہوجائےگا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئر صحافی جاوید چوہدری نے کہا کہ عام طور پر ایسے ٹرائل میں 6 سے 7 ماہ لگتے ہیں۔ ہر چیز تیار ہے۔ فیض حمید اور گواہوں سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔

معروف کالم نگار جاوید چوہدری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق پاک فوج نے ایک کورٹ آف انکوائری کا اہتمام کیا تاکہ ٹاپ سٹی کیس سے متعلق شکایات کے حوالے سے معاملات درست کیے جاسکیں۔اس کےنتیجے میں فیض حمید کے خلاف،آرمی ایکٹ کے تحت،نظم و ضبط کی کارروائی کی گئی ہے۔ یہ بات آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز میں بتائی گئی ہے۔فیض حمید کے خلاف ریٹائرمنٹ کےبعد آرمی ایکٹ کی دیگر خلاف ورزیوں کے بھی شواہد ملے ہیں۔

جاوید چوہدری کےمطابق جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں آرمی سسٹم مغربی تفتیشی اداروں کی طرز کا ہے۔سب سےپہلے شواہد جمع کیےجاتے ہیں پھر گواہوں اور مشتبہ افراد سےپوچھ گچھ ہوتی ہے جسے انٹرویو بھی کہا جاتاہے اور مشتبہ فرد یا افراد کے سامنےشواہد رکھے جاتے ہیں۔ جاوید چوہدری نےکہا کہ فیض حمید نے تمام الزامات کو غلط قرار دیتےہوئے کیس لڑنے کا فیصلہ کیاتھا۔

عمران خان کی بہنوں علیمہ، عظمی خان کی 8 نومبر تک ضمانت منظور

سینیٹر فیصل واؤڈا کے دعوؤں کے بارے میں جاوید چوہدری نے کہا کہ فوج میں یہ تصور پایا جاتا ہےکہ عمران خان فیض حمید پر اثر انداز ہوئے۔ جاوید چوہدری نے دعوٰی کیاکہ بعض کا خیال یہ تھا کہ عمران خان نے فیض حمید کو تبدیل کیا۔ ہر لیفٹیننٹ جنرل کے دل میں آرمی چیف بننے کی تمنا ہوتی ہے۔ جب ایک وزیر اعظم کہے کہ مجھے آپ میں ایک آرمی چیف دکھائی دیتا ہے تو اثر تو پڑنا ہی ہے۔

عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے قبل کے واقعات کے بارے میں پوچھے جانے پر جاوید چوہدری نےکہا کہ سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کے ذریعے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو تاحیات توسیع کی پیش کش کی گئی تھی۔ ان کا کہناتھا کہ مارچ 2022 میں عمران خان نے ڈی جی آئی ایس آئی کے دفتر سے فون کرکے یہ پیش کش کی تھی۔ تب ایسا کہنےمیں کوئی قباحت نہ تھی۔

جاوید چوہدری نے یہ بھی بتایاکہ عمران خان نے جب یہ کال کی تب آئی ایس آئی کےسابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) ندیم احمد انجم بھی کمرےمیں موجود تھے۔ جاوید چوہدری نے مزید بتایاکہ اس اسٹوری کے اور بھی بہت سے ورژن ہیں۔ مسلم لیگ ن کےصدر نواز شریف نے شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی اور دیگر رہنماؤں کی خواہش اور کوشش کےباوجود جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو توسیع دینے مخالفت کی تھی۔

نواز شریف نے جنرل عاصم منیر کا نام فائنلائز کر لیا تھا اور فون بند کر کے بیٹی کے ساتھ یورپ کی سیر کو چلےگئے تھے۔ نواز شریف اسی وقت واپس آئےجب نئے آرمی چیف نے حلف اٹھا لیا۔

یاد رہے کہ فیض حمید کو آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی پر 12 اگست 2024 کو گرفتار کیاگیا تھا۔ یہ اقدام ایک پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کی شکایت پر کیا گیاتھا۔

Back to top button