گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے والےابراہیم کے والد کا گٹر ڈھکن خود لگوانے کا اعلان

نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والے معصوم ابراہیم کے والد نے حکومت سے شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

ابراہیم کے والد کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا 14 سے 15 گھنٹے تک پانی میں رہا، لیکن اسے نکالنے کوئی نہیں آیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “اگر حکومت گٹروں کے ڈھکن نہیں لگوا سکتی تو میں خود لگواؤں گا تاکہ کسی اور کے بچے کی جان نہ جائے۔”

بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غم سے نڈھال والد نے روتے ہوئے کہا کہ “میں کس سے کیا کہوں؟ میرا بچہ تو چلا گیا۔ ان کے خلاف کارروائی کون کرے گا؟ اگر کسی کو کرنا ہوتا تو وہ وہاں موجود ہوتے.”

انہوں نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میرا نمبر لکھ لیں، اگر کسی کے گھر کے باہر گٹر کا ڈھکن نہیں ہے تو مجھے اطلاع دیں، میں خود جا کر لگواؤں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جتنے بھی ڈپارٹمنٹل اسٹورز کے سامنے گٹروں پر ڈھکن نہیں لگے، وہ سب خود جاکر لگوائیں گے۔

واضح رہے کہ اتوار کے روز کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گرنے والے 3 سالہ ابراہیم کی لاش 14 گھنٹے بعد تقریباً ایک کلومیٹر دور نالے سے ملی تھی۔

ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں رواں سال اب تک 24 شہری—including 5 بچے—کُھلے نالوں اور گٹروں میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

Back to top button