جیل ملاقات کے بعد عمران نے عاصم منیر کو چارج شیٹ کر دیا

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی اپنی بہن عظمی خان سے ملاقات کا نتیجہ سامنے آ گیا ہے، حسب سابق جیل ملاقات کے اگلے ہی روز عمران خان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے ایک خوفناک ٹویٹ کی گئی ہے جس میں بانی پی ٹی آئی نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو ایک ذہنی مریض قرار دے دیا ہے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی بہن کو ان سے ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے یہ پابندی عائد کی تھی کہ اس کے بعد کسی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں کی جائے گی۔ تاہم جیل سے نکلتے ہی عظمی خان نے عمران کو صحت مند قرار دینے کے بعد آن کیمرہ بتایا تھا کہ بانی نے پاکستان کی جانب سے افغانستان پر فضائی حملوں اور غیر قانونی افغانیوں کو ملک سے بے دخل کرنے کی سخت مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ایکسٹینشن مافیا کو پاکستان کی بربادی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
تاہم ملاقات کے اگلے روز عمران خان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے جو ٹویٹ کی گئی ہے اس نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ یہ ٹویٹ عمران خان کی ان ہدایات کی روشنی میں کی گئی ہے جو کہ انہوں نے اپنی بہن کو اڈیالہ جیل ملاقات کے دوران دیں۔ بانی پی ٹی آئی نے تہذیب اور اخلاقیات کی تمام حدود پار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جنرل عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جسکی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون کا خاتمہ ہو چکا ہے اور اب اس ملک میں کسی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق محفوظ نہیں رہے۔
عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ “مجھے ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی انسان سے ملاقات نہیں ہوئی اور بیرونی دنیا سے مجھے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی میری بنیادی سہولیات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
عمران خان نے الزام لگایا کہ ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میرے سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پر پابندی لگائی گئی اور اب وکلا اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی ٹارچر ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔ میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھی، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں کو بھی ان سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، عمران نے کہا کہ ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
عمران خان نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک میری قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، ملک پر مسلط مافیاز اسی طرح استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
اس کے بعد عمران خان نے اعلان کیا کہ وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے “میر صادق” اور “میر جعفر” ہیں۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی ورکشاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
عمران خان نے لکھا، میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیک اور ان کے خلاف ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے۔ عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اسکی غلط پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہو چکا ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا گیا ہے۔ عاصم منیر نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، اس کے بعد ان پر ڈرون حملے کیے جن کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی میں اضافے کی صورت میں سامنے آئے۔ ایک شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
اس کے بعد عمران خان نے وزیراعلی خیبر پختونخواہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ میں آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔ عمران خان نے کہا کہ گورنر راج کی دھمکیاں دینے والے کل کی بجائے آج ہی اپنا شوق ہورا کر لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
عمران خان نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر یہ بھی اعلان کیا کہ میں تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی ختم کر رہا ہوں۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے پاس مکمل اختیارات ہیں، وہ ایک نئی کمیٹی بنائیں جو سیاسی حکمت عملی وضع کرے اور اس پر عملدرآمد کروائے۔
عمران بارے PTI اور بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا بے نقاب
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی بہن سے ملاقات کے بعد جو ٹویٹ سامنے ائی ہے اس سے ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ٹیڑھی دم سیدھی نہیں ہو سکتی۔
