آزاد کشمیر میں بحران سنگین، فوجی ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟

 

 

 

 

آزاد جموں و کشمیر میں مہاجر نشستوں کے تنازعے پر جاری احتجاجی تحریک اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والی خونریز جھڑپوں کے دوران فضائی نگرانی پر معمور پاک فوج کے ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر کی تباہی نے صورت حال کو مزید پیچیدہ اور حساس بنا دیا ہے۔ فوجی حکام نے ہر پہلو سے حادثے کی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تصدیق کی جا سکے کہ ہیلی کاپٹر کی تباہی واقعی حادثاتی تھی یا اس میں تخریب کاری کا کوئی پہلو بھی تھا۔

 

ادھر آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ آیا موجودہ کشیدہ حالات میں 27 جولائی کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے الیکشن مقررہ وقت پر منعقد ہو سکیں گے یا نہیں۔ یاد رہے کہ بدھ کی دوپہر مظفرآباد کے قریب ایک ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر ٹیک آف کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔ ابتدائی بیان میں حادثے کی وجہ تکنیکی خرابی قرار دی گئی جبکہ جائے وقوعہ پر فوری طور پر ریسکیو اور ریکوری ٹیمیں روانہ کر دی گئیں۔ فوجی حکام کے مطابق حادثے میں سوار تمام اہلکار جان کی بازی ہار گئے اور کوئی بھی زندہ نہ بچ سکا۔ آئی ایس پی آر نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے انکوائری بورڈ قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حادثے کی تمام تکنیکی اور آپریشنل وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

 

سکیورٹی ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا حادثہ محض فنی خرابی کا نتیجہ تھا یا اس میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت یا تخریب کاری کے شواہد موجود ہیں۔

چیف آف آرمی سٹاف اور مسلح افواج کے اعلیٰ حکام نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

 

یہ حادثہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی اپیل پر مسلسل دوسرے روز مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔ مظفرآباد، راولاکوٹ، باغ، کوٹلی اور میرپور سمیت بیشتر شہروں میں کاروباری مراکز، بینک، پبلک ٹرانسپورٹ اور پیٹرول پمپس بند ہیں جبکہ معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ راولاکوٹ میں صورتحال سب سے زیادہ کشیدہ بتائی جا رہی ہے جہاں مساجد سے شہریوں کو گھروں میں رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرکاری سطح پر کرفیو نافذ نہیں کیا گیا، تاہم زمینی صورتحال غیر معمولی سکیورٹی اقدامات کی عکاسی کر رہی ہے۔

 

مقامی ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں سے ہزاروں مظاہرین لانگ مارچ کی صورت میں راولاکوٹ اور دیگر اہم مراکز کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ چونکہ متعدد علاقوں میں دفعہ 144 نافذ ہے، اس لیے بڑے اجتماعات اور ریلیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

گزشتہ چند روز کے دوران مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔ کوٹلی میں ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم تین افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ حکام اور مظاہرین دونوں ایک دوسرے پر تشدد شروع کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

 

اس سے قبل راولاکوٹ میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم میں کئی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ان واقعات نے پورے خطے میں سیاسی کشیدگی کو نئی شدت دے دی ہے اور حکومت کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی سکیورٹی نفری طلب کرنا پڑی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا بنیادی مطالبہ آزاد کشمیر اسمبلی کی مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے مستقبل سے متعلق ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے احتجاج جاری رہے گا، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

 

دوسری جانب سکیورٹی ادارے موجودہ حالات کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اہم تنصیبات، سرکاری دفاتر اور حساس مقامات کی نگرانی بڑھا چکے ہیں۔ مظفرآباد کی فضاؤں میں سکیورٹی نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی اسی سلسلے کی کڑی تھیں، جن میں سے ایک حادثے کا شکار ہو گیا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کرتی ہے اور سکیورٹی صورتحال میں بہتری نہ آئی تو 27 جولائی کو شیڈول قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد پر سوالات کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک الیکشن ملتوی کرنے سے متعلق کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم بڑھتی ہوئی بدامنی اور حالیہ فوجی حادثے کے بعد ایسے امکانات پر سیاسی حلقوں میں کھل کر گفتگو شروع ہو گئی ہے۔

کشمیر ایکشن کمیٹی سے وابستہ باغی رہنما کون؟

انتخابی عمل کے حوالے سے حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن، آزاد کشمیر حکومت اور وفاقی اداروں کی مشاورت سے متوقع ہے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز انتہائی اہم ہوں گے اور ہیلی کاپٹر حادثے سمیت مجموعی امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لے کر مستقبل کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نے آزاد کشمیر کو ایک ایسے نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک طرف سیاسی مطالبات اور عوامی احتجاج موجود ہیں جبکہ دوسری جانب سکیورٹی چیلنجز اور ریاستی رٹ کا معاملہ درپیش ہے۔ فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے نے اس بحران میں ایک نیا اور حساس پہلو شامل کر دیا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں آزاد کشمیر کی سیاسی اور انتظامی صورتحال پر نمایاں طور پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

Back to top button