پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کا اصل ذمہ دار کون؟

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کئی دہائیوں سے جاری فوجی اور سکیورٹی کارروائیوں کے باوجود حالیہ مہینوں میں شدت پسند حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد ملک کی مجموعی سکیورٹی حکمتِ عملی کی مؤثریت اور اس میں موجود خامیوں پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کے واقعات جبکہ آزاد کشمیر میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ آیا موجودہ پالیسی شدت پسندی کی بنیادی وجوہات کا مؤثر حل پیش کر رہی ہے یا نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان خود کو ایک "ہارڈ اسٹیٹ” کے طور پر پیش کر رہا ہے، تاہم صرف سخت اقدامات اور فوجی کارروائیوں پر انحصار کے باوجود امن و امان کی صورتحال میں مطلوبہ بہتری نہیں آ سکی۔ ان کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی سکیورٹی حکمتِ عملی میں ایسے بنیادی خلا موجود ہیں جنہیں دور کیے بغیر دیرپا استحکام ممکن نہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے مطابق ریاست کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ عوامی تحفظات سننے اور انہیں دور کرنے کے بجائے مسائل کو صرف طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں حالات پہلے سے زیادہ خراب ہو چکے ہیں، کئی علاقوں میں مسلح گروہوں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے اور بعض شاہراہوں پر بھی ریاستی عملداری کمزور دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق 2002 سے پہلے بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک نہیں تھی بلکہ مطالبات سیاسی اور معاشی حقوق تک محدود تھے، اس لیے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی سے سیاسی مکالمہ، معاشی ترقی، سرحدی تجارت کے فروغ اور اختیارات کی منتقلی پر بھی توجہ دی جائے۔
دوسری جانب بعض دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں ناگزیر ضرور ہیں، لیکن صرف عسکری اقدامات سے پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق سیاسی اعتماد کی بحالی، عوامی نمائندوں کا فعال کردار اور ریاستی اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم لودھی کے مطابق موجودہ حکمتِ عملی میں فوج پر حد سے زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے جبکہ سیاسی قیادت بتدریج پس منظر میں چلی گئی ہے۔ ان کے بقول فوج دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے لیکن عوامی اعتماد بحال کرنا اور سیاسی مسائل کا حل سیاسی قیادت ہی کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنا، سرحدی تعاون بڑھانا اور شدت پسند گروہوں کی پشت پناہی کرنے والی بیرونی خفیہ ایجنسیوں کا مؤثر جواب دینا بھی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
دفاعی تجزیہ کار ماریہ سلطان کے مطابق پاکستان کو ایک ایسے مربوط قومی انسدادِ دہشت گردی نظام کی ضرورت ہے جو تمام صوبوں میں یکساں انداز سے کام کرے۔ ان کے مطابق سکیورٹی اداروں کو بہتر وسائل، واضح قانونی اختیارات اور ایک متفقہ قومی حکمتِ عملی فراہم کیے بغیر دہشت گردی جیسے پیچیدہ چیلنج سے مؤثر طور پر نمٹنا ممکن نہیں۔
ماہرین کا ایک طبقہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ اگر سیاسی گنجائش محدود کی جاتی رہی اور اختلافی یا پرامن آوازوں کو دبانے کا سلسلہ جاری رہا تو اس سے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق عدالتی نظام پر اثرانداز ہونے یا مخالف آوازوں کو سزا دینے کے بجائے سیاسی مکالمے کو فروغ دینا، عوامی شکایات کا ازالہ کرنا اور مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ ریاست کو شدت پسند گروہوں اور بیرونی مداخلت کے خلاف سخت اور فیصلہ کن اقدامات جاری رکھنے چاہییں۔
مجموعی طور پر ماہرین کی رائے ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے مسئلے کا مستقل حل صرف فوجی طاقت میں نہیں بلکہ ایک جامع حکمتِ عملی میں پوشیدہ ہے، جس میں مؤثر سکیورٹی اقدامات کے ساتھ سیاسی شمولیت، معاشی ترقی، مضبوط ریاستی ادارے، بین الصوبائی تعاون اور عوامی اعتماد کی بحالی کو یکساں اہمیت دی جائے۔ یہی عناصر ملک میں دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
