"سکائی 47” کا افتتاح، پاکستان میں کونسا بڑا انقلاب آنے والا ہے؟

پاکستان نے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے میدان میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ملک کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر اور اے آئی کلاؤڈ "سکائی 47 (قراقرم ون)” کا افتتاح کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف حساس سرکاری اور تجارتی ڈیٹا کو ملک کے اندر محفوظ رکھنے، جدید کلاؤڈ سروسز فراہم کرنے اور مصنوعی ذہانت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ پاکستان کی ڈیجیٹل خودمختاری، سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اگر اس منصوبے کو مؤثر حکمت عملی، تربیت یافتہ افرادی قوت اور جدید پالیسیوں کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو نئی سمت دے سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے ملک کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کلاؤڈ "سکائی 47 (قراقرم ون)” کا افتتاح کر دیا ہے۔ راولپنڈی میں قائم اس منصوبے کا افتتاح وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام نے کیا، جبکہ حکومت نے اسے پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل، قومی سلامتی اور جدید معیشت کے لیے ایک فیصلہ کن پیش رفت قرار دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "سکائی 47” ایک متحرک، ترقی پسند اور جدید پاکستان کی جانب اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق حکومت مستقبل میں کراچی اور لاہور میں بھی اسی نوعیت کے جدید ڈیٹا سینٹرز قائم کرے گی تاکہ تمام سرکاری اداروں کا ڈیٹا ایک محفوظ قومی نیٹ ورک سے منسلک کیا جا سکے۔ انہوں نے اس منصوبے کو پاکستان کی ڈیجیٹل خودمختاری اور سائبر سکیورٹی کے لیے بھی انتہائی اہم قرار دیا۔
حکومت کے مطابق یہ منصوبہ چینی ٹیکنالوجی کمپنی زیڈ ٹی ای کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا ہے کہ "سکائی 47” پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ ان کے مطابق اس جدید مرکز میں طاقتور گرافکس پروسیسنگ یونٹس (جی پی یوز)، جدید اسٹوریج سسٹمز، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ اور جدید کلاؤڈ انفراسٹرکچر موجود ہوگا، جو بڑے پیمانے پر ڈیٹا پراسیسنگ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلی کیشنز کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
سکائی 47 کے چیف ایگزیکٹو حسن عباس کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً بارہ ہزار ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں جبکہ پاکستان میں ان کی تعداد صرف بائیس ہے، حالانکہ ملک میں ڈیجیٹل خدمات کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ای کامرس کا شعبہ سالانہ 25 سے 30 فیصد کی رفتار سے ترقی کر رہا ہے، جس کے باعث جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ڈیٹا سینٹر میں ایک ہزار ریکس نصب کرنے کی گنجائش ہوگی، جہاں ہزاروں جدید سرورز رکھے جا سکیں گے۔
ماہرین کے مطابق ڈیٹا سینٹر دراصل ایسے محفوظ مراکز ہوتے ہیں جہاں طاقتور کمپیوٹر سرورز نصب کیے جاتے ہیں۔ جب کوئی صارف ویب سائٹ، موبائل ایپ یا آن لائن سروس استعمال کرتا ہے تو اس کی درخواست انہی سرورز تک پہنچتی ہے، جہاں سے چند لمحوں میں مطلوبہ معلومات واپس فراہم کر دی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے ڈیٹا سینٹرز کو جدید ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے کیونکہ بینکنگ، ای کامرس، سرکاری خدمات، سوشل میڈیا اور آن لائن کاروبار سب انہی مراکز پر انحصار کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں جیسے گوگل، مائیکروسافٹ اور ایمیزون اپنے عالمی ڈیٹا سینٹرز کے ذریعے اربوں صارفین کو خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ پاکستان میں اس نوعیت کے جدید مرکز کے قیام سے مقامی سطح پر ڈیٹا ہوسٹنگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدید ڈیجیٹل خدمات کو فروغ ملنے کی توقع ہے، جبکہ سرکاری اور نجی اداروں کو اپنا حساس ڈیٹا بیرون ملک منتقل کرنے کی ضرورت بھی کم ہو سکتی ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ماہرین کے مطابق اے آئی کلاؤڈ دراصل ایسے جدید کلاؤڈ سسٹمز پر مشتمل ہوتا ہے جہاں طاقتور کمپیوٹرز اور خصوصی پروسیسرز مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو تربیت دینے، بڑے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے اور انتہائی پیچیدہ حسابی عمل کو تیز رفتاری سے انجام دیتے ہیں۔ اس انفراسٹرکچر کی مدد سے تحقیق، صحت، تعلیم، مالیاتی شعبے، صنعت، سمارٹ شہروں، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور جدید کاروباری خدمات میں نمایاں پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اس منصوبے سے حکومتی ادارے اپنا تمام حساس ڈیٹا ایک محفوظ قومی پلیٹ فارم پر منتقل کر سکیں گے، جس سے سائبر سکیورٹی مضبوط ہوگی، ڈیٹا تک رسائی کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے گا اور قومی معلومات کے بیرون ملک منتقل ہونے کے خدشات بھی کم ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت، تحقیق، اسٹارٹ اپس، ڈیجیٹل کاروبار اور مقامی ٹیکنالوجی انڈسٹری کو بھی جدید کمپیوٹنگ وسائل دستیاب ہوں گے، جو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ صرف جدید عمارت یا طاقتور سرورز ہی کسی منصوبے کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتے۔ اس کے لیے مضبوط سائبر سکیورٹی، واضح ڈیجیٹل پالیسی، مستقل سرمایہ کاری، تربیت یافتہ افرادی قوت، مؤثر ریگولیٹری نظام اور جدید تحقیق پر بھی یکساں توجہ دینا ضروری ہوگی۔ اگر یہ تمام عناصر ایک ساتھ آگے بڑھائے گئے تو "سکائی 47” پاکستان کو مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبے میں خطے کے نمایاں ممالک کی صف میں کھڑا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
