عمران دور میں اربوں روپے سے بنایا گیا ہسپتال 4سال سے ویران کیوں؟

کووڈ-19 کی عالمی وبا کے دوران چین کی مالی معاونت سے اسلام آباد میں ریکارڈ 40 دن میں تعمیر کیا گیا پاکستان کا پہلا جدید آئسولیشن ہسپتال، جسے متعدی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے قومی سطح کا ماڈل ادارہ قرار دیا گیا تھا، چار سال سے غیر فعال پڑا ہے۔ ایک ارب 11 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم ہونے والے اس "سٹیٹ آف دی آرٹ” مرکز کی بندش نے نہ صرف صحت کے شعبے میں منصوبہ بندی اور حکمرانی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ کیا پاکستان نے وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ایک اہم قومی اثاثہ ضائع کر دیا؟ اب حکومت اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دوبارہ فعال بنانے پر غور کر رہی ہے، جبکہ ماہرین اس کے اصل مقصد اور خصوصی حیثیت کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ناقدین کے مطابق پاکستان میں صحت کے شعبے کو درپیش مسائل کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا بے پناہ رش، سہولیات کی کمی اور محدود وسائل کے باعث علاج معالجے کا نظام مسلسل دباؤ کا شکار رہتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال کئی حلقوں میں زیر بحث ہے کہ کووڈ-19 کے دوران تعمیر کیا گیا پاکستان کا پہلا جدید آئسولیشن ہسپتال، جسے مستقبل کی وباؤں سے نمٹنے کے لیے ایک قومی سرمایہ تصور کیا گیا تھا، آخر چار برس سے غیر فعال کیوں پڑا رہا؟
اسلام آباد میں قائم آئیسولیشن ہسپتال اینڈ انفیکشس ٹریٹمنٹ سینٹر (آئی ایچ آئی ٹی سی) چین کی تقریباً 40 لاکھ ڈالر کی گرانٹ، یعنی ایک ارب 11 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کو ریکارڈ 40 روز میں مکمل کیا گیا اور کووڈ-19 کی وبا کے دوران یہاں مریضوں کے علاج، قرنطینہ، ویکسینیشن اور طبی عملے کی تربیت سمیت متعدد اہم خدمات فراہم کی گئیں۔
اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت برسراقتدار تھی، جبکہ منصوبے کی نگرانی اس وقت کے وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور وزارت صحت کے تعاون سے کی گئی۔ سابق وفاقی وزیر اسد عمر کے مطابق اسلام آباد میں اس نوعیت کا کوئی خصوصی انفیکشس ڈیزیز ہسپتال موجود نہیں تھا، اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس منصوبے کو فوری بنیادوں پر مکمل کیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ کووڈ کے دوران یہ مرکز انتہائی فعال رہا، لیکن وبا ختم ہونے کے بعد اسے مستقل قومی ادارے کی شکل دینے کا منصوبہ ان کی حکومت کے خاتمے کے باعث مکمل نہ ہو سکا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے تصدیق کی ہے کہ 265 بستروں پر مشتمل یہ جدید ہسپتال 2022 کے بعد سے بند پڑا ہے، جس کے باعث وہاں نصب مہنگی طبی مشینری بھی بڑی حد تک ناکارہ ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق حکومت اب اس ادارے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دوبارہ فعال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، تاہم اس کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔
وزیر صحت کے مطابق منصوبہ یہ ہے کہ ہسپتال میں ایک حصہ آئسولیشن وارڈ کے طور پر برقرار رکھا جائے جبکہ باقی حصے کو ایک جدید جنرل ہسپتال کے طور پر چلایا جائے تاکہ اسلام آباد اور گردونواح کے مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
تاہم اس منصوبے کے سابق منتظم ڈاکٹر طارق چیمہ اس فیصلے پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ آئی ایچ آئی ٹی سی صرف ایک عام ہسپتال نہیں بلکہ پاکستان کی "ڈیزاسٹر ریزیلینس” یعنی وباؤں، قدرتی آفات اور متعدی بیماریوں سے نمٹنے کی قومی صلاحیت کا اہم ستون بن سکتا تھا۔
ان کے مطابق اس ہسپتال کی تعمیر عام طبی مراکز سے بالکل مختلف انداز میں کی گئی تھی۔ یہاں پانچ الگ الگ آئسولیشن سیکشن، مخصوص وینٹیلیشن سسٹم، الگ فضلہ نکاسی، خصوصی ایئر پریشر اور بائیو سیفٹی کا ایسا نظام موجود تھا جو بیک وقت مختلف متعدی بیماریوں کے مریضوں کو ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ رکھ کر علاج کی سہولت فراہم کرتا تھا۔
ڈاکٹر طارق چیمہ کے مطابق یہ صرف کووڈ کے لیے نہیں بلکہ مستقبل میں برڈ فلو، منکی پاکس، ایبولا یا کسی بھی نئی وبا سے نمٹنے کے لیے ایک قومی مرکز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس خصوصی ہسپتال کو ایک عام جنرل ہسپتال میں تبدیل کر دیا گیا تو اس کے قیام کا بنیادی مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔
ان کے بقول پاکستان جیسے ملک میں جہاں قدرتی آفات، سیلاب، وبائی امراض اور صحت کے ہنگامی حالات بار بار سامنے آتے ہیں، وہاں ایسے خصوصی مراکز کو محفوظ رکھنا قومی سلامتی کے تقاضوں میں شامل ہونا چاہیے۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ چار سال تک غیر فعال رہنے والے ادارے کو اسی حالت میں چھوڑنے کے بجائے دوبارہ فعال بنانا زیادہ ضروری ہے، تاکہ عوام کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں اور قومی سرمایہ مزید ضائع نہ ہو۔
یہ معاملہ صرف ایک ہسپتال کی بندش تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان میں بڑے سرکاری منصوبوں کے مستقبل، ان کی دیکھ بھال، پالیسی کے تسلسل اور قومی وسائل کے مؤثر استعمال پر بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔
اب فیصلہ حکومت کے ہاتھ میں ہے کہ آیا آئی ایچ آئی ٹی سی کو اس کی اصل شناخت یعنی قومی متعدی امراض کے خصوصی مرکز کے طور پر بحال کیا جاتا ہے یا اسے عمومی طبی خدمات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم اس پر ماہرین کا اتفاق ہے کہ پاکستان کو مستقبل کی وباؤں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایسے جدید مراکز کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
