آئندہ مالی سال کےبجٹ2026-27کےاہم نکات سامنےآگئے

وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27کیلئے 17.5 ٹریلین روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ کل پیش کیا جائے گا۔
وزیراعظم میاں شہبازشریف کی زیر صدارت ہونیو الے کل وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں آئندہ مالی سال2026-27 کے وفاقی بجٹ کے مسودے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں اضافے کی منظوری دی جائے گی۔
کابینہ کی منظوری کے فوری بعد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کل اگلے مالی سال کا وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے اور ٹیکس کی شرح میں کمی مد میں50 ارب روپے تک کا ریلیف دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ ٹیکس ریلیف دینے ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اشیا اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی ہے جبکہ سٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی مجوزہ تجویز بھی بجٹ کا حصہ نہیں بنے گی۔
وفاقی بجٹ میں درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھانے کا امکان ہے جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرحیں برقرار رہنے کا امکان ہے۔
بجٹ میں ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کیلئے ٹیکس ریلیف دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں پر کاربن لیوی لگانے کی تجویز ہے بڑی گاڑیاں مزید مہنگی ہونے کا خدشہ جبکہ مقامی سطح پر تیار الیکٹرک وہیکلز سستی ہونے کی امید ہے تاہم ہائبرڈ گاڑیوں پر معمول کے ٹیکس برقرار رہیں گے۔
مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کیلئے موٹرز، بیٹریز اور دیگر پرزوں پر کسٹم ڈیوٹی ایک فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
سیلز ٹیکس بھی ایک فیصد رکھنے کی سفارش ہے جبکہ فیڈرل ایکسائز،کیپٹل ویلیو اور ودہولڈنگ ٹیکس کی مکمل چھوٹ کی تجویز کی گئی ہے ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی سے ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان ہے۔
وفاقی بجٹ میں قرضوں پر سود کیلئے7 ہزار 824 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دفاعی شعبے تقریباً 3 ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے آئندہ مالی سال تجارتی خسارہ 37 ارب ڈالر سے زائد رہنے کا خدشہ ہے کیونکہ برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے جبکہ درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
زراعت کی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد مقرر۔ صنعتیں 4 فیصد کی شرح سے ترقی کریں گی جبکہ بڑی صنعتوں کی ترقی کا ہدف 4.5 فیصد جبکہ خدمات کی کارکردگی 4.2 فیصد رہنے کا تخیمنہ ہے۔حکومت روزگار کے 20 لاکھ نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے پرعزم ہے۔
پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں 701 ارب، سندھ میں 110 ارب اور خیبرپختونخوا کے فنڈز میں 109 ارب روپے کمی کی گئی۔ فیصلہ کیا گیا کہ دفاع اور وزارت داخلہ کے سوا کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے تک ٹیکس ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے،انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کی جا سکتی ہے ذرائع کے مطابق ماہانہ ایک لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد آمدن رکھنے والے افراد کو ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
زیادہ آمدن والوں کیلییبھی ٹیکس شرح میں نرمی کی تجاویز شامل ہیں،مجوزہ منصوبے کے تحت ماہانہ 2 لاکھ 67 ہزار روپیتک آمدن پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد کمی کی تجویز ہے، جس کے بعد اس سلیب میں ٹیکس شرح 25 فیصد اسیکم ہوکر 20 فیصد تک آسکتی ہے، اس سلیب سے قریباً 4 لاکھ ملازمین مستفید ہونے کا امکان ہے۔
