پیپلز پارٹی نے NFC ایوارڈ پر وفاقی حکومت کو کیسے پچھاڑا؟

 

 

 

پیپلز پارٹی کی قیادت نے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کر کے وفاق کا حصہ بڑھانے کی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور نون لیگ کی مشترکہ کوشش ایک مرتبہ پھر ناکام بنا ڈالی ہے۔

 

وفاقی بجٹ کی تیاریوں کے دوران حکمران اتحاد کی دو بڑی جماعتوں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی، کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کے حساس معاملے پر ہونے والے مذاکرات بالآخر ایک سیاسی مفاہمت پر منتج ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے ایک مرتبہ پھر وفاقی حکومت کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا ہے جسکے تحت قومی مالیاتی کمیشن یا این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کرکے وفاق کا حصہ بڑھانے کی تجویز زیر غور تھی۔ حکومتی حلقوں میں یہ مفاہمت پیپلز پارٹی اور خصوصاً صدر آصف زرداری اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کی اہم سیاسی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت کو بجٹ کی تیاری کے دوران شدید مالی دباؤ کا سامنا تھا اور مرکز کے مالی وسائل بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز زیر غور تھیں، جن میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ملنے والے حصے میں ردوبدل بھی شامل تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے بعض ریاستی اور معاشی حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو مالی وسائل کی تقسیم میں غیر معمولی فوائد حاصل ہوئے جبکہ قرضوں، دفاعی اخراجات، وفاقی ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی اخراجات کا بوجھ بدستور وفاق کے کندھوں پر موجود ہے۔ اسی تناظر میں این ایف سی فارمولے پر نظرثانی کی تجاویز وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں خصوصا فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر۔

 

باخبر ذرائع کے مطابق حالیہ بجٹ مشاورت کے دوران بھی وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں کے حصے میں کمی یا کسی متبادل مالیاتی بندوبست کے ذریعے مرکز کے وسائل بڑھانے کی تجاویز پیش کی گئیں۔ تاہم پیپلز پارٹی نے ان تجاویز کی سخت مخالفت کی اور واضح کر دیا کہ این ایف سی ایوارڈ میں کسی قسم کی بنیادی تبدیلی قبول نہیں کی جائے گی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ محض ایک مالیاتی فارمولا نہیں بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان آئینی معاہدے کی حیثیت رکھتا ہے۔ خاص طور پر سندھ میں پیپلز پارٹی اسے صوبائی خودمختاری اور اٹھارویں ترمیم کے تحفظ سے جوڑ کر دیکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ پارٹی قیادت اس معاملے پر ہمیشہ انتہائی سخت مؤقف اختیار کرتی رہی ہے۔

 

ذرائع کے مطابق ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت ہونے والے اہم مشاورتی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے دوٹوک انداز میں مؤقف اختیار کیا کہ این ایف سی ایوارڈ اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو چھیڑنے کی کوئی بھی کوشش سیاسی اور آئینی سطح پر قابل قبول نہیں ہوگی۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بالآخر پیپلز پارٹی کے مطالبات تسلیم کرنا پڑے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ وفاق میں قائم اتحادی حکومت پارلیمنٹ میں پیپلز پارٹی کی سیاسی حمایت کی محتاج ہے اور حکومت کسی نئے محاذ آرائی کے متحمل نہیں ہو سکتی۔

 

دونوں بڑی اتحادی جماعتوں کے مابین ایوان صدر میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایک اور اہم معاملہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام تھا۔ نون لیگی حلقوں کی جانب سے یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ بی آئی ایس پی کے بعض انتظامی اور مالی امور مستقبل میں صوبوں کے سپرد کیے جائیں تاکہ وفاقی اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔ تاہم پیپلز پارٹی نے اس تجویز کو بھی سختی سے مسترد کر دیا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کا مؤقف تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک میں عوامی بہبود کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جو نہ صرف پارٹی کی سیاسی شناخت بلکہ لاکھوں کم آمدنی والے خاندانوں کی معاشی بقا سے بھی جڑا ہوا ہے۔ چنانچہ مذاکرات کے نتیجے میں یہ طے پایا کہ پروگرام کی موجودہ ساخت، فنڈنگ اور انتظامی نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

 

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے مسلسل دباؤ اور مزاحمت کے بعد حکومت نے این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی سے متعلق متنازع تجاویز واپس لینے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ اس پیش رفت کو اتحادی سیاست میں پیپلز پارٹی کی بڑھتی ہوئی سودے بازی کی طاقت کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ وفاق کو درپیش مالی مشکلات اپنی جگہ موجود ہیں اور ان کا حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ اسی لیے دونوں جماعتوں کے درمیان ایک نئے مالیاتی فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا ہے جس کے تحت صوبے مختلف انتظامی اور مالیاتی اقدامات کے ذریعے مرکز کو ریلیف فراہم کریں گے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس مجوزہ بندوبست کے تحت صوبے مجموعی طور پر 10 کھرب روپے سے زائد مالیت کے وسائل یا مالی سہولتیں مختلف طریقوں سے وفاق کو فراہم کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ معاونت براہ راست این ایف سی حصے میں کمی کی صورت میں نہیں ہوگی بلکہ ترقیاتی منصوبوں، اخراجاتی ترجیحات اور مشترکہ مالیاتی انتظامات کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی۔

 

یاد رہے کہ صدر آصف زرداری نے اپنے پہلے دور صدارت میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے نیشنل فائنانس کمیشن ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ بڑھا کر وفاق کا حصہ کم کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں آیا تھا جسے آج دن تک تبدیل کروانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حکومتی اور فوجی حلقوں کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کرنے کی کوششوں کی وجہ سے ہی وفاقی بجٹ کے اعلان میں تاخیر ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی مسلسل اس مؤقف پر قائم رہی کہ اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔

قومی اقتصادی سروے پیش، مہنگائی کی اوسط شرح 6.7 فیصد رہی

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ اتحادی حکومت میں پیپلز پارٹی محض ایک حمایتی جماعت نہیں بلکہ اہم پالیسی فیصلوں پر اثر انداز ہونے والی کلیدی سیاسی قوت بن چکی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی کے معاملات پر وفاقی حکومت کی پسپائی کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ وفاق کو فوری طور پر اضافی مالی وسائل کی ضرورت برقرار رہے گی، تاہم موجودہ سیاسی حقائق کے تناظر میں این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کے ڈھانچے میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان مستقبل قریب میں بھی محدود دکھائی دیتا ہے۔ اس طرح پیپلز پارٹی نے نہ صرف اپنے دیرینہ سیاسی مؤقف کا دفاع کیا ہے بلکہ اتحادی حکومت کے اندر اپنی سیاسی اہمیت کا بھی ایک بار پھر بھرپور اظہار کر دیا ہے۔

Back to top button