قومی اقتصادی سروے پیش، مہنگائی کی اوسط شرح 6.7 فیصد رہی

 

 

 

 

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے بتایا کہ  ملک میں مہنگائی کی اوسط شرح 6.7 فیصد رہی، ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ترسیلات زر 33 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں۔

اسلام آباد میں قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ اقتصادی سروے پورے مالی سال کی کارکردگی بیان کرتا ہے، رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں غیریقینی صورت حال کا سامنا تھا اور مون سون کی بارشوں کی وجہ سے معشیت متاثر ہوئی جب کہ امریکا کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ سے غیریقینی صورت حال پیدا ہوئی۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی، اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی،معاشی ترقی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، توقع تھی رواں مالی سال شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہاکہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال پیدا نہ ہوتی تو جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد سے اوپر جاتی،پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے اوپر چلاگیا،فی کس اوسط سالانہ آمدن 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہوگئی۔

ان کاکہنا تھاکہ عالمی سطح پر غیریقینی صورت حال سے بین الاقوامی معیشتوں کو بھی دھچکا لگا لیکن مشرق وسطیٰ کے بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی رہی۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہاکہ پیٹرولیم سیکٹر میں 5 فیصد گروتھ ہوئی،جولائی تا مارچ کرنٹ اکاوئنٹ 72 ملین ڈالر مثبت رہا،زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی،ڈیری اور لائیوسٹاک کا زرعی معیشت میں 60 فیصد حصہ ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 10 کروڑ ڈالر ہیں جو جون کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر 18ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔

وزیر خزانہ  نے کہاکہ پیٹرولیم سیکٹر میں 5 فیصد گروتھ ہوئی،جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ72 ملین ڈالر مثبت رہا،زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی، ڈیری اور لائیوسٹاک کا زرعی معیشت میں 60 فیصد حصہ ہے۔بڑی صنعتوں میں ترقی کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی،فوڈ،ٹیکسٹائل سمیت 16 شعبوں میں مثبت رجحان رہا،سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد اضافہ ہوا، کھاد کی طلب میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا،خدمات کے شعبے میں شرح نمو 4.9 فیصد رہی۔

وزیر خزانہ کےمطابق مالی نظم و ضبط کی وجہ سے مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی ہوئی،ایف بی آر کےمحصولات میں 10.1 فیصد اضافہ ہوا،افراط زرمیں گزشتہ 2 سال میں بتدریج کمی ہوئی،مہنگائی کی اوسط شرح 6.7 فیصد رہی، ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ترسیلات زر 33 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں، اوورسیز پاکستانیوں کے شکر گزار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی ادائیگی کےلیے ترسیلات زر بنیادی اہمیت کے حامل ہیں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا مقصد سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے،چاول اور چینی کی وجہ سے مجموعی برآمدات میں کمی ہوئی،ٹیکسٹائل کے شعبے کا برآمدات میں کلیدی کردار ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایاکہ رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 3 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، 39 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں،فری لانسرز کا حصہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ رہا ہے،مینوفیکچرنگ کے 22 میں سے 16 شعبوں میں بہتری آئی،مالی خسارہ کم ہو ر جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد رہ گیا۔

انہوں نے بتایاکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوکر 252 ملین ڈالر رہ گیا،روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں سرمایہ کاری 12.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، پانڈا بانڈ کا کامیاب اجراء کیاگیا،ٹیکس محصولات میں 11.3 فیصد اضافہ ہوا،وزیراعظم برآمدات کو بڑھانا چاہتے ہیں۔

شہباز شریف ہتک عزت کیس: سپریم کورٹ نے عمران خان کا حق دفاع بحال کردیا

محمد اورنگزیب نے بتایاکہ درآمدات میں کمی ہماری ترجیح ہے،زرعی قرضوں میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے،ملک میں شرح خواندگی 63 فیصد ہوگئی ہے،صنعتوں کےلیے بجلی سستی کی گئی،صنعتی ٹیرف سے کراس سبسڈی ختم کی۔زرعی شعبے کےلیے جولائی تا مارچ 2162 ارب روپے کے قرضےفراہم کیے گئے،غریب خاندانوں کےلیے بی آئی ایس پی کا بجٹ بڑھاکر 722.5 ارب روپے کردیا گیا، پی آئی اے،ایف ڈبلیو بی ایل اور ڈسکوز سمیت سرکاری اداروں کی نجکاری پر کام تیز کیاگیا، وزارتوں کے انضمام اور پی ڈبلیو ڈی سمیت متعدد محکموں کو بند کرنے کےلیے رائٹ سائزنگ شروع کی گئی۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیاکہ حکومت معاشی اصلاحات،مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کےلیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جاسکے۔

 

 

 

 

 

Back to top button